آمنہ کا لال جس کا نہ کوئی ثانی ہے نہ کو ئی سایہ تھا

(Muhammad Ansar, India)

فرشتہ تھا نہ آدم تھے نا ظاہر تھا خدا پہلے ٭بنے ساری خدائی سے مصطفیٰ پہلے
حضرت عبد اﷲ رضی اﷲ عنہ آپﷺ کے والد محترم ہیں ۔ یہ عبد المطلب کے تمام بیٹوں میں سب سے افضل اور سب سے زیادہ باپ کے لاڈلے اور پیارے تھے۔ چونکہ انکی پیشانی میں نور محمدی چمک رہا تھا اس لئے حسن و خوبی کے پیکر اور جمالِ صورت وکمال سیرت کے آئنیہ دار ،اور عفت و پارسائی میں یکتائے روزگار تھے۔
ایک مرتبہ سیدنا جابر رضی اﷲ عنہ،بارگاہِ خداوندی میں عرض کیا یارسول اﷲ ﷺ اﷲ تعالیٰ ہر شئے سے پہلے کس شئے کو پیدا فرمایا؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا !اے جابر! اﷲ تعالیٰ نے ہر شے سے پہلے تیرے نبی کے نور کو پیدا فرمایااور اس وقت ن لوح تھی نہ قلم،نہ جنت نہ دوزخ نہ کوئی فرشتہ نہ آسمان نہ زمین، نہ کوئی جن نہ انسان ۔ (حجۃ اﷲ علی العٰلمین ص ۲۸)
اﷲ تعالیٰ نے ہر شئے سے پہلے نورِ مصطفی ﷺ کو پیدا فرمایا، پھر وہ منتقل ہوتا ہوا حضرت عبد اﷲ رضی اﷲ عنہ کی پشت انور میں پہنچا۔ اس نور کی تنویر سے آپ کی پیشانی منور ہوئی۔ مگر منکرین طرح طرح کے حیلے بہانوں سے انکار کرتے ہیں ۔
نور کا کوئی سایہ نہیں:زرقانی نے یہ روایت کی ہے کہ حضورﷺ نور کے پیکر تھے اس لئے ان کا سایہ نہیں تھا نہ سورج کی روشنی میں ، نہ چاند کی چاندنی میں (زرقانی ص ۲۲۵ ج ۴)
شکم مادر میں:
حضرۃ سیدہ آمنہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ جب سیددو عالم ﷺ میرے شکم میں جلوہ گر ہوئے تو مجھے مشک و عنبر کی خوشبوئیں آتی تھیں،اور ہر طرف سے مبارکباد کی آوازیں آتی تھیں اور جب ولادت کا وقت قریب آیا تو عبد المطلب طواف کعبہ میں مشغول تھے۔ چنانچہ روح دو عالم ﷺ کی ولادت با سعادت ہوئی اور آپ نے دنیا میں تشریف لاتے ہی سب سے پہلے سجدہ فرمایا۔ حضرۃ اٰمنہ فرماتی ہیں کے آپ کی ولادت سعادت کے وقت اتنی روشنی ہوئی کے میں بستر پر لیٹے لیٹے شام کے محلّات روشن دیکھ لئے(حجۃ اﷲ علی العٰلمین ۲۲۷) ۔ اور تین جھنڈے دیکھے ایک میرے مکان پر، دوسرا مشرق میں نصب کیا گیا اورتیسرا کعبے کی چھت پر۔
شکم مادری کے معجزے:
حضرت عباس رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن میری ملاقات حضور ﷺ سے ہوئی اور میں دیر تک کملی والے آقا کو دیکھتا رہا ۔ آقا ﷺ نے فرمایا ! اے چچا جان دیکھتے کیا ہو اگر کوئی بات پوچھنی ہے تو پوچھو! تو میں نے عرض کی یا رسول اﷲ ۔ یہ بات آج سے چالیس سال پہلے کی ہے ۔ شاید آپ کو یاد ہو کے نہ۔آپ نے فرمایا اے چچا جان جب آپ نہیں بھول سکتے تو میں تو نبی ہوں۔ عباسؓ فرماتے ہیں کے پھر میں نے
عرض کی کہ یہ اس وقت کی بات ہے جب آپ کی عمر شریف صرف چالیس دن کی تھی ۔ آپ پنگوڑے میں کھیل رہے تھے ۔میں نے دیکھا کہ آپ چاند سے گفتگو کر رہے ہیں تو حضور ﷺ نے فرمایا! اے چچا جان مجھے پنگوڑے میں باندھ دیا تھا مجھے تکلیف ہوئی اور میں نے رونے کا ارادہ کیا کہ روؤں تو چاند نے منع کیا کے کم لی والے آقا آپ کے آنسوں کا ایک قطرہ بھی زمین پر گر گیا تو اس زمین پر قیامت تک سبزہ پیدا نہیں ہوگا۔ اور پھر اپنی امت کی شفقت کے لئے نہ رویا۔حضرت عباسؓ فرماتے ہیں کہ جب میں جانے لگاتو حضور ﷺ نے فرمایا اے چچا جان!آؤ تمہیں ایک اور بات بتادوں۔ کے مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ جب خدا تعالیٰ نے لوح محفوظ پر تقدیر کا قلم چلایا تو میں اس قلم کی آواز اپنی ماں کے شکم میں رہ کر سن رہا تھا ۔ اور جب فرشتے عرش عظیم کے آگے خدا تعالیٰ کو سجدہ کرتے تھے تو میں ان کی تسبیح کی آواز اپنی ماں کے پیٹ میں سنتا تھا۔ (خصائص کبریٰ جلد ۱ صفحہ ۵۳)
٭دور و نزدیک کے سننے والے وہ کان کان لعل کرامت پہ لاکھوں سلام٭
آمد مصطفی:والی ٔدو جہاں حضو نبی کریم ﷺ کی جب ولادت با سعادت ہوئی تو کفر و شرک کے اندھیروں میں اسلام توحید کا چراغ جل اٹھا۔ الحاد و باطل کی ظلمتوں میں حق و ہدایت کی شمع روشن ہو گئی۔ضلالت و گمراہی کی تاریکیوں میں رشدو ہدایت کی قندیل چمک
اٹھی۔وحشت و بربریت کی کالی رات میں انسانیت و سعادت کی صبح نمودار ہوگئی۔اور ساری کائنات پر چھائی ہوئی کفر و باطل کی شب تاریک میں حق و ایمان کا اُجالا پھیل گیا ۔اس لئے کہ حضرت آمنہ رضی اﷲ عنہا کا لال جب جائکم الحقبن کر آیا تو باطل کیوں نہ جاتا اور جب سراجاً منیرا ہو کر تشریف لایا تھا تو ظلمت کیوں نہ بٹتی ۔اور جب من اﷲ نور۔ کا تا ج پہن کر جلوہ افروز ہوا تو ہر قسم کا اندھیرا کیوں غائب نہ ہوتا ۔ نبی کریم ﷺ کی ولادت کی رات شب قدر کی رات سے افضل ہے(المواہب ص ۲۸) کیونکہ شب قدر میں قراٰن نازل ہوا ،اور اس رات میں قرآن والا آیا۔
حضرت آمنہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں میرے لخت جگر کی رات ایک جماعت دیکھی جو آسمان سے اتری تھی اور ان کے پاس تین سفید جھنڈے تھے - ایک جھنڈا انہوں نے خانہ کعبہ پر نصب کر دیا اور دوسرا بیت المقدس پر اور تیسرا میرے مکان کے چھت پر۔جھنڈے سفید کیوں ؟سفید جھنڈا امن و سلامتی کی علامت ہے اور جنگ بندی کا سبب ہوتا ہے۔امام الانبیا ﷺ کی ولادت با سعادت پر سفید جھنڈے لہرا کر دنیا کے بڑے بڑے مغرور اور بہادروں کو بتا دیا کہ اب ظلم و ستم کے دروازے بند ہو گئے۔اب اسلام کے مقدس اور مضبوط قلعے پر امن و سلامتی کا پر چم لہراتا رہے گا۔
حضرت آمنہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ میرے فرزند ارجمند کے ولادت کا وقت جب قریب آیا تو میرے پاس جبرئیل علیہ السلام تشریف لائے ان کے ہاتھ میں شربت سے بھرا ہو ا پیالہ تھا ۔اور مجھے کہا پی لو، میں نے پی لی۔عربی ترجمہ: حضرت جبرئیل علیہ السلام عرض کرتے ہیں یا رسول اﷲ ۔ اب آبھی جاؤ اب جلوہ افروز ہو بھی جاؤ۔چراغ طور جلاؤ بڑا اندھیرا ہے۔۔۔۔ نقاب رخ سے اٹھاؤ بڑا اندھیرا ہے۔
بس پھر۔۔ امام الانبیا ﷺ اس طرح ظاہر ہوئے کہ جیسے چودھویں کا چاند طلوع ہوتا ہے۔
حضرت عبد المطلب فرماتے ہیں میں امام الانبیا ﷺ کی ولادت کی رات خانۂ کعبہ کا طواف کر رہا تھا ۔میں نے دیکھا کہ کعبہ سجدہ میں گر گیا ہے۔میں نے دل میں سونچا یہ کیا منظر ہے ،کعبے سے آواز آئی کہ اٰمنہ کے یہاں حضرت محمد مصطفی ﷺ پیدا ہو گئے ہیں َٓاٰمنہ بی بی نے انہیں پیدا کر دیا۔ اور کعبے کے اندر جو ہبل نامی سب سے بڑا بت تھا اس کے اندر سے آواز آئی کہ خبر دار آخری نبی پیدا ہو گیا ہے۔حضرت عبد المطلب فرماتے ہیں میں نے یہ آواز سن کر خوشی خوشی اٰمنہ کے گھر پہنچا اور اندر جانے لگا۔ تو ایک آدمی تلوار لے کر سامنے ظاہر ہوا اور پکارا جب تک تمام فرشتے اس نبی کی زیارت نہ کر لیں گے نہ کوئی اندر جاسکتا ہے اور نہ ہی کوئی اسے دیکھ سکتا ہے۔
مقصود کائنات حضرت محمد مصطفی ﷺ پیدا ہوئے تو باغِ ہستیمیں بہار آگئی ۔۔حوروں نے درود پڑھا۔۔۔فرشتوں نے سلامی دی۔۔اور نگاہِ فطرت نے اپنے عظیم شاہکار کو بشریت کے پردے اٹھا کر دیکھا۔
٭اور ندا آئی دریچے کھول دو ایوانِ قدرت کے نظارے خود کرے گی آج قدرت شانِ قدرت کے۔٭
ثوبیہ کی آزادی:
ابولہب کافر نے نبی اکرم ﷺ کی ولادت کی خوشی میں اپنی لونڈی ثوبیہ کو آزاد کر دیا۔ جب ابو لہب مر گیا تو اس کے گھر والوں نے اس کو خواب میں دیکھا، تو عذاب میں مبتلاء تھا۔ پوچھا: اے ابو لہب! تیرا کیا حال ہے؟ تو اس نے کہا: مجھے کوئی بھلائی نہیں ملی، عذاب الٰہی میں
بُری طرح گرفتار ہوں، مگر: جس انگلی سے محمد (ﷺ) کی ولادت کی خوشی میں اپنی لونڈی ثوبیہ کو آزاد کرنے کی وجہ سے مجھے اس انگلی کے
ذریعہ سیراب کیا جاتا ہے(بخاری ج ۲ ص ۷۶۴) جس اگلی کے اشارے سے ثوبیہ آزاد کیا تھا اس انگلی کے چوسنے سے مجھے آرام ملتا ہے۔ فائدہ: اگر کافر آپ کی ولادت (آمد)کی خوشی کرے تو اس کوبھی فائدہ پہنچے تو پھر غلاموں کو عذاب قبر و حشر (جہنم)سے کیوں نہ نجات حاصل ہو گی۔
حضور ﷺ سجدہ کرتے ہوئے دنیا میں تشریف لائے۔ سجدہ کرنے کے لئے ضروری ہے کہ جسم پاک ہو،جگہ پاک ہو،لباس پاک ہو ، آپ
نے سجدہ فرماکر یہ اعلان بھی کر دیا کہ میں بھی پاک ہوں، جگہ بھی پاک ہے اور میری والدہ بھی پاک ہے۔
آپ ﷺ کی آمد سے صرف حضرت اٰمنہ کا گھر ہی پاک نہیں ہوا، بلکہ حضور ﷺ فرماتے ہیں: میرے لئے ساری زمین مسجد بنا دی گئی۔ میرے آقا ﷺ کے قدموں کی برکت سے زمین مشرق سے لے کر مغرب تک شمال سے لے کر جنوب تک تحت الثریٰ تک پاک ہو گئی۔
نور کا سایہ نہیں
دنیا کی ہر ایک چیز کا سایہ ہے۔ باریک سے باریک شۂ اور لطیف سے لطیف شۂ کا بھی سایہ موجود ہوتا ہے لیکن بجلی کے روشن انڈے کا کبھی سایہ نہیں ہوگا ۔کیوں ؟ اس لئے کہ بجلی کے انڈے کا جسم تو ضرور ہے لیکن اس کے اندر جو روشنی ہے وہ اس کے جسم پر غالب آچکی ہے لہٰذا اس غالب روشنی نے انڈے کے جسم کو بے سایہ کر دیا۔بلا مثال حضور ﷺ بشر ضرور ہیں اور آپ کا جسم اقدس بھی ہے۔ لیکن آپ ﷺ کی بشریت
اور آپ ﷺ کے جسم پاک پر غالب ہے اس لئے آپ ﷺ کا سایہ نہیں تھا۔
اس لئے کے حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کے میں نے حضور ﷺ کو یہ دعا فرماتے ہوئے سنا اے اﷲ مجھے سراپا نور کر دے یعنی(اوپر ،نیچے،دائیں اور بائیں )(ترمذی ص ۱۷۸) اب جسم والی کوئی شئے درمیان میں رکھ کر اس کے چاروں طرف چراغ جلا کر دیکھ لو اس چیز کا سایہ مفقود ہو جائے گا۔جب یہ عام جسم کا یہ عالم ہے تو آپ ﷺ تو سراپا نورعلیٰ نور ہیں۔
امدادالسلوک۔ مولانا رشید احمد گنگوہی صاحب لکھتے ہیں کے یہ حقیقت تواتر سے ثابت ہے کہ نبی کریمﷺ اپنے جسم پاک کا سایہ نہیں رکھتے تھے( یعنی آپ ﷺ کا سایہ نہیں تھا)
اﷲ تبارک و تعالیٰ ہم تمام مسلمانوں کوعید میلاد النبی ﷺ کی نعمتوں اور برکتوں سے مالا مال فرمائے ، اور اپنے محبوب ﷺ کی اطاعت و اتباع کرنے کی توفیق و رفیق عطا فرمائیں۔ اٰمین ثم اٰمین۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Ansar

Read More Articles by Muhammad Ansar: 4 Articles with 2125 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 Dec, 2017 Views: 803

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ