کمپیوٹرنظام پٹوری کی سائنس اور بچارہ کسان

(Abdul Jabbar Khan, Rajan Pur)

 پوری دنیا میں ٹیکنالوجی سے فائدہ حاصل کیا جا رہا ہے ہر شعبے کو کمپیوٹر کے جدید نظام سے منسلک کر کے روز مرہ زندگی کے امور کو آسان بنایا جا رہا ہے تاکہ گھنٹوں کا کام چندمنٹ میں ہو جائے اور لوگوں کو اس نظام سے فائدہ حاصل ہو ‘تاکہ ان کی وقت کی بچت کے ساتھ کرپشن کا خاتمہ بھی ممکن ہوسکے ملک کے دو صوبوں میں زمینوں کے نظام کو پٹوری کلچر سے آزاد کروانے کے لیے زمینوں کا ریکارڈ کمپیوٹر کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا جس میں خبیر پختونخواہ اور پنجاب شامل تھے خیبر پختونخواہ میں پنجاب سے پہلے ریکارڈ کمپیوٹر کیا گیا جبکہ پنجاب میں تقریباً مکمل ہو چکا ہے خیبرپختونخواہ کا تو کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ وہاں کیا صورت حال ہے لیکن پنجاب میں جب ارضی سنٹر قائم ہوئے تو زمیندار بڑے خوش ہوئے کہ اب پٹوری بادشاہ سے جان بخشی ہو جائے گی۔

عام زمیندار سمجھتا رہا اس جدید نظام میں وقت کی بچت کے ساتھ رشوت دینے سے بھی بچ جائیں گے واقعی اگر اس نظام کو دیکھا جائے تو بہت بہترین اور فائدہ مند ہے وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف کا بہت اچھا اقدام ہے جو قابل تعریف ہے نظام تو اچھا لیکن اس کو شروع دن سے ہی پٹوری بادشاہ نے بدنام کرنا شروع کر دیا اور اس کے خلاف ہرحربہ استعمال کیا جتنا اس سے ہو سکتا تھا پٹوری بادشاہ نے ارضی سنٹر کو درست ریکارڈ کی فراہمی نہیں کی جس کی وجہ سے اس میں بہت ساری غلطیاں پائی گئیں۔ کچھ ان کے اپنے ٹائپنگ کرنے والوں نے غلطیاں کی ہیں۔ تقریباً ہر دوسرے تیسرے زمیندار کے نام ولدیت قوم ایڈریس وغیرہ میں کوئی نہ کوئی غلطی پائی گئی۔ جس کو چیک کرنے کے لیے کمپیوٹر کی جمع بندی کی کاپی پٹوری کو دی گئی اس کو درست کریں جہاں غلطی ہو نشاندہی کی جائے تاکہ درستگی کا عمل بروقت قرار پائے۔ لیکن آگے بھی پٹوری بادشاہ تھا اس غلطی کو ٹھیک کرنے کے لیے فرض بدر کی مد میں اچھا خاصہ مال بنایا۔

جب درستگی کے لیے پٹوری کو شام کی اوقات میں ارضی سنٹر پر جاکر کمپیوٹر پر ریکارڈ درست کرانے کا کہا گیا تو ان کے اپنے مطالبات کے حق میں ہڑتال شروع ہو گئی۔ جن کے ریکارڈ میں غلطیاں تھیں وہ بچارے رہے گئے۔ اب موجودہ صورت حال یہ ہے ہر سنٹر کے باہر لمبی چھوڑی لائین لگی ہوتی ہیں اور بچارہ زمیندار سارا دن بلکہ کئی کئی دن دھکے کھاتا ہے۔میرا ایک جاننے والا کافی عرصے سے دھکے کھاتا رہا اس کے ریکارڈ میں والد کا نام اور قوم کا غلط اندارج کیا گیا۔ جب اسے پتہ چلا تو پٹوری سے رابطہ کیا تو پٹوری نے کہا تمہارا تو انتقال دوبارہ ہو گا پھر میں کمپیوٹر سنٹر گیا تو انہوں نے کہا آپ کی غلطی ٹھیک ہو جائے موضع درستگی کے مراحل میں ہے وہ اس تسلی کے بعد گھر آگیا جب کچھ ماہ بعد پتہ چلا درستگی تاحال نہ ہوئی ہے تو اس نے دوبارہ اراضی سنٹر رابطہ کیا تو انہوں ایک تین پرت پر مشتمل فارم اور ایک کاغذ جس پر شرائط کی لمبی چوڑی فہرست تھی جس کو مکمل کرنا عام آدمی کے بس میں نہیں ہے جس کے مطابق 1.درخواست ازاں مالک اراضی بغرض درستگی نام ہمراہ کاپی شناختی کارڈ 2. نقل رجسٹر حقداران زمین متعلقہ کھاتہ 3. نقل شجرہ نسب درخواست گزار 4. نقل اولین انتقال " جس سے مالک قرار پایا" نقل مسل اصل 5. بیان حلفی بابت نام درخواست گزار نقل شناختی کارڈ بمعہ نادرہ ویری فیکشن 6. بیان حلفی نام متعلقہ موضع نمبر دار نقل شناختی کارڈ بمعہ نادرہ ویری فیکشن 7. متعلقہ موضع کے شریک دو کھاتہ داروں کا بیان حلفی نقل شناختی کارڈ۔ یہ تو پہلا مراحلہ ہے آپ نے کئی ہفتے لگا کر کاغذت مکمل کرنے ہیں اس کے بعد جناب عزت ماب سنٹر انچارچ صاحب /صاحبہ آپ کی پیشی ڈالیں گے پیشی والے دن اجلے لباس بمعہ دو گواہ اور نمبر دار کو لے کر منہ اندھیرے سنٹر کی اڑان بھریں تاکہ آپ کو بروقت ٹوکن مل سکے ٹوکن مل بھی گیا تو ضروری نہیں باری آجائے اور کام ہوجائے سنٹر انچارج کا موڈ ٹھیک ہوا اور اگر جناب گھر سے لڑ کر نہ آئے ہوں تو آپ کا کام ہو جائے گا نہیں تو دوبارہ پیشی کا حکم صادر فرما دیں گے۔

اب آپ خود اندازہ لگائیں بچارہ ایک زمیندار جو کہ ان پڑھ ہے دیہات کا رہنے والا ہے ایک تو ہو بھی وہ عمر رسیدہ بزرگ شخص جس کی عمر 70 سال زیادہ ہو وہ کیسے مختلف دفتروں کے دھکے کھا سکتا ہے سارا سارا دن تو اسے ٹوکن جاری کروانے میں لگتا ہے اب اکثر بچارے زمیندار اس اذیت کی وجہ سے چپ کر کے گھر بیٹھ گئے ہیں یا پھر پریشانی سے بیمار پڑے ہیں۔ یہ بات واقعی سمجھ سے باہر ہے جب ایک زمیندار سے ٹیکس اور آبیانہ لیا جاتا ہے تو اس کا سارا ریکارڈ درست پایا جاتا ہے جب اسے فرد ملکیت گوشوارہ یا وراثت منتقل کرانی ہوتی ہے تو اس کے تمام ریکارڈ میں گڑ بڑ پائی جاتی ہے۔

اگر راجن پور تحصیل کے سنٹر کی بات کی جائے تو اس کی نئی عظیم الشان عمارت شہر سے تین سے چار کلو میٹر دور بنائی گئی ہے جہاں کسی قسم کی کوئی پبلک ٹرانسپورٹ نہیں چلتی ڈپٹی کمشنر آفس اور تحصیل آفس سے اس کا فاصلہ پانچ کلو میٹر کے لگ بھگ بنتا ہے کیا ایک غریب اور عمر رسیدہ شخص سارا دن دھکے کھاتے کھاتے مر نا جائے گا۔ سنٹر کے آس پاس کسی قسم کی کوئی سہولیات نہیں ہیں۔ بلکہ ایسی جگہ بنایا گیا جہاں اس کے پہلو میں سپیشل بچوں کا سکول اور سامنے کامرس کالج ہے یہاں عام آمد رفت سے سیکورٹی کے مسائل بھی پائے جاتے ہیں۔ کیونکہ متعلقہ تھانے کا فاصلہ چھ کلو میٹر بنتا ہے اس کے علاوہ سنٹر کی اتنی بڑی عمارت جس میں صرف 8 سے 10 لوگ بامشکل تعینات ہیں۔ کام کے بوجھ کی وجہ سے ان کا مزاج بھی تلخ اور تکبر بھر ہوتا ہے۔ حالانکہ وہاں تتعینات عملہ شکل صورت سے اچھے خاصے پڑھے لکھے اور خاندانی محسوس ہوتے ہیں سارے لوگ ایک جیسے نہیں ان میں سے کچھ بہت ہی بااخلاق اور کام کو دلچسپی سے کرنے والے بھی ہیں۔جس کی وجہ سے سارے کام کا بوجھ ان پر ہے سنٹر میں 8 کاونٹر بنائے گئے ہیں جن میں سے تین پر اہلکار نظر آتے ہیں۔ اوپن میرٹ کی وجہ سے باہر کے لوگ یہاں تعینات کیے گئے لیکن ان میں سے اکثر تبادلہ کروا گئے ہیں اگر مقامی افراد کو کوٹہ دیا جاتا تو مسائل میں آضافہ نہ ہوتا جو مقامی افراد کے مزاج اور زبان سے واقف بھی ہوتے۔

پاکستان کی 61 فیصد آبادی دیہاتوں میں رہتی ہے جو کسی نہ کسی طرح زراعت کے شعبہ سے منسلک ہے اس 65 فیصد آبادی کا پہلے ہی استحسال کیا جارہے ہے ان کو بنیادی سہولیات کی کمی کے علاوہ کسانوں کو فصلوں کے مناسب ریٹ نہیں دیے جارہے یہ پریشانی تو پہلے سے برقرار تھی اب اس کمپیوٹر ارضی سنٹر کی الجھن میں بھی اس بچارے کسان کو کھپا دیا گیا ہے۔ کسان و زمینددار اس وقت شدید ذہنی پریشانی میں مبتلا ہے 65 فیصد آبادی کا مطلب ہے 20 کروڑ 70 لاکھ میں سے تقریباً13 کروڑ افرادسے زیادہ بنتے ہیں اسی طر ح 20 کر وڑ آبادی میں دس کروڑ ووٹرہیں جن کی دیہی آبادی کا تناسب کو بھی 65 فیصد کے حساب سے دیکھیں تو 7 کروڑ ووٹر یعنی ہماری تمام سیاسی جماعتوں اور حکومتوں کا فوکس7 کروڑ ووٹر کو چھوڑ کر3 کروڑ ووٹرز پر ہے۔ آپ سوچیں گے بات ارضی سنٹر کی ہورہی تھی تو ووٹر کہا سے آگئے جناب ووٹر ہی کی اہمت سے اقتدار ملتا ہے جب ووٹر مطمین نہیں ہوگا تو وہ کسی ووٹ کیسے ڈالے گا

ارضی سنٹر کے حوالے سے میں دوبارہ کہوں گا۔ وزیر اعلی میاں شہباز شریف نے بہت بڑا کارنامہ سرانجام دیا ہے اور یہ بہت اچھا اور بڑا منصوبہ ہے جس کے ثمرات تاحیات عوام کو ملتے رہیں گے۔ واقعی یہ قابل تحسین کام ہے لیکن محترم میاں شہباز شریف کی ساری محنت اور لگن کو پٹوری بادشاہ اور ارضی سنٹر کے سست نااہل کام چور اور کرپٹ اہلکار تباہ کررہے ہیں۔ میں یہاں خصوصی طور پر وزیراعلی پنجاب میاں شہباز شریف سے اپیل کروں گا وہ ان کے خلاف سخت ایکشن لیں یہ کرپٹ لوگ ان کی ساری محنت کو داغ دار کر رہے ہیں۔ ارضی سنٹر کی پی ایم یو تشکیل دیں ریکارڈ میں غلطی کرنے والوں کو سخت سے سخت سزا دیں ایک سکول ٹیچر کا رزلٹ صیح نہ آنے پر سزا ہو سکتی ہے تو ان کو بھی ہونی چاہیے ارضی سنٹر اور پٹوری کی ملی بھگت اور ٹاؤٹوں کا خاتمہ کروائیں۔ ان کی غطیوں کی سزا ان کو ہی دی جائے نہ کہ ایک عام زمیندار کو‘ جن کی درستگی ہونی باقی ہے ون ونڈو آپریشن کی طرح کام شروع کروائیں ہر روز دو تین موضع جات کا کام ایک ہی دن میں کام مکمل کیا جائے پٹوری‘ قانون گو ‘نائب تحصیل دار‘ تحصیل دار اور اسسٹنٹ کمشنر سب سنٹر پر پابند رہیں اور عام زممیندار کی مشکلات کو دور کرتے ہوئے انہیں ریلف دیا جائے۔ تاکہ اس بہترین منصوبے کے ثمرات عام زمیندار و کسان کو ملتے رہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abdul Jabbar Khan

Read More Articles by Abdul Jabbar Khan: 151 Articles with 76731 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
12 Dec, 2017 Views: 971

Comments

آپ کی رائے