یہ وطن امانت ہے اور تم امین لوگوں

(Samra, Lahore)

لفظ امانت اپنے اندر وسیع معنی سموئے ہوئے ہے آج کل امانت صرف اس چیز کو کہتے ہیں جو کسی کے پاس رکھوائی جائے اور ہم لفظ چیز سے مراد ٹھوس، جامع اور وزن رکھنے والی شے کو کہتے ہیں لیکن ہمارے پاس تو ایسی چیزیں بھی ہیں جو نہ وزن رکھتی ہیں اور نہ اپنا کوئی ظاہری جسم اور وجود لیکن وہ سب ہمارے پاس امانت ہیں ہمارا علم، ہماری تعلیمات ہماری اسلامی رسوم ہماری تہزیب ۔۔۔۔۔۔۔ یہ سب ہمارے پاس امانت ہے۔

ہم سب اپنی امانت میں خیانت کرتے ہیں اور وہ خیانت ہر قسم کی کرپشن سے۔۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جب ہمارے اوپر کوئی نگران موجود نہ ہو تو ہم آزاد ہوتے ہیں لیکن ہن بھول جاتے ہیں کے ہم خیانت کر رہیں ہیں۔

ہمارے پیارے وطن کو آج بے شمار مسائل کا سامنا ہیں لیکن ہم سوائے الزام تراشی کے کچھ نہیں کر رہے ہر کوئی کہتا ہے کہ فلاں حکمران نے اتنی کرپشن کی، اس نے ملک کو اتنا نقصان پہنچایا لیکن وہ تو صرف چند سال کے لیے آتا اور ملک کو لوٹ کر چلا جاتا کبھی غور کریں اور سوچیں کہ آپ نے تھوڑا سہی لیکن آپ نے بھی تو لوٹا ہے ہم سب تھوڑے سہی لیکن مجرم تو ہیں۔

ہم نے اپنی تعلیمات ،علم جیسے خالص ورثے میں بھی خیانت کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس پاک سر زمیں کو دنیا کے نقشے پر اپنی پہچان بنائے ہوئے ستر برس بیت گئے اور اسلام کے نام پر بننے والی اس زمیں کو کمزور کس نے کیا؟اس کی بنیاد کبھی اتنی کمزور تو نہ تھی؟اور اگر یہ آج آزاد ہے تو صرف اسلام کی وجہ سے کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ اسلام نے ہمیشہ مسلمانوں کی حفاظت کی اور انہیں متحد کیا نہ کہ مسلمانوں نے اسلام کی حفاظت کی اور آج ہم مسلمان فرقہ واریت کی آگ میں کیوں کود رہیں ہیں؟
ذرا سوچ کر دیکھیں کہ ہم اپنی اگلی نسل کو کیا دے رہے ہیں؟
کیا ہم اتنی خیانت اور بد دیانتی کے بعد بھی امین ہیں؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ان سوالات کے جوابات بہت کڑوے ہیں لیکن ان میں کم از کم جھوٹ کی ملاوٹ تو نہیں ہے لیکن ہم سب ملاوٹ کے عادی تو ہو چکے ہیں
دور دنیا کا میرے دم سے اندھیرا ہو جائے
ہر جگہ میرے چمکنے سے اجالا ہو جائے

ہم اقبال کی نظموں کو جوش و جذبے سے گا تو لیتے ہیں لیکن سمجھنے سے قاصر ہیں قصور ہمارا نہیں بلکہ ان کا ہے جنہوں نے امانت کی حفاظت نہیں کی اور اب ہم بھی وہی غلطی دوبارہ کیوں کر رہے ہیں؟

امانت کو امین تک پہنچانے میں محنت کا عمل دخل ضرور ہوتا ہے محنت سے امانت کی حفاظت کریں اور اسلامی تعلیمات کو اگلی نسلوں کے ہاتھوں میں روشن شمع کی صورت میں دیں تا کہ دنیا سے گمراہی کے بادل چھٹ جائیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: samra

Read More Articles by samra: 8 Articles with 9114 views »
my name is samra.i am studied in lcwu. i live in lahore... View More
13 Dec, 2017 Views: 1527

Comments

آپ کی رائے
Nice Article..
By: Shoaib Ahmed, Karachi on Jan, 03 2019
Reply Reply
0 Like
بہت خوب
By: Abdul Rahman Hashmi, Sargodha on Dec, 29 2018
Reply Reply
0 Like