بی بی سی کے بارے میں کچھ حقائق

(ڈاکٹر سید وسیم اختر, Bahawalpur)
داعش کو شام اور عراق میں بہت سے علاقوں پر کنٹرول حاصل ہو گیا تو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت داعش کو اسلام کا نمایندہ بتایا گیا تا کہ اسلام کے خلاف لوگوں کے دلوں میں نفرت کے جذبات کو پیدا کیا جا سکے۔ اس سلسلے میں بی بی سی کا کردار بہت ہی بھیانک ہے بی بی سی نے داعش کے قیام سے لے کر آج تک، اسلام اور داعش کو مترادف جانا حتی بی بی سی کے تمام تجزیوں اور خبروں میں داعش کو اسلامک اسٹیٹ یا دولت اسلامیہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

بی بی سی کی مشکوک سرگرمیاں

پاکستان کے معروف تجریہ نگار اور غیرت ایمانی سے سرشار قلم کار جناب اوریا مقبول جان سے اکثر و بیشتر، مختلف موضوعات پر گفتگو ہوتی رہتی ہے کچھ دن پہلے ان سے ملاقات ہوئی تو پاکستان میں بی بی سی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور اس ادارے کے بہت سے خطرناک اقدامات پر بہت پریشان اور رنجیدہ نظر آئے۔

انہی کی تحریک پر بی بی سی کی خطرناک پالیسیوں کے پیش نظر میں نے یہ سطور رقم کرنے کا ارادہ کیا اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ پاکستان سمیت پورے ایشیا میں بی بی سی کے ادارے کو معتبر سمجھا جاتاہے لیکن اس کے برعکس، حقیقت یہ ہے کہ بی بی سی کے ادارے کو مکمل طور پر انگلینڈ کی حکومت کنٹرول کرتی ہے درحقیقت بی بی سی کا پوری دنیا میں پھیلا ہوا نیٹ ورک جاسوسی پر مامور ہے برطانیہ کو پوری دنیا کے اہم ممالک پر حکومت کا تجربہ ہے۔

اسی تجربے کو کام میں لاتے ہوئے ۱۹۲۲ میں بی بی سی کا قیام عمل میں لایا گیا تا کہ اگر ظاہری طور پر کچھ ممالک برطانیہ کے تسلط سے آزاد ہو بھی جائیں تو محکوم ممالک کی عوام کے افکار کو کنٹرول کرنے کے لئے ایک ادارہ بنایا جائے جو صحافت یا خبروں کی نشرواشاعت کی آڑ میں اپنے مطلب کے بیانیوں کو فروغ دے اور فکری طور پر محکوم ممالک کے حکمرانوں سے لے کر عوام کو ہمیشہ محکوم رکھنے میں ممد و معاون ثابت ہو سکے۔

اس حوالے سے غیر معمولی تعداد میں مثالیں موجود ہیں دنیا بھر کی زبانوں میں کام کرنے والا بی بی سی کا ادارہ مختلف ممالک میں مخصصوص بیانیوں کی ترویج کرتا ہے اور اس ذریعے دنیا بھر کے افکار کو کنٹرول کرتا ہے۔بہت سے لوگوں کو یاد ہو گا کہ چند سال پہلے، انگینڈ کے ایک معروف ادارے کی طرف سے یورپ اور امریکہ میں مسلمانوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے حوالے سے ایک رپورٹ شائع ہوئی، جس میں کہا گیا تھا کہ ، چند دھائیوں میں برطانیہ میں مسلمانوں کی آبادی برطانیہ کی مجموعی آبادی کا نصف ہو جائے گی۔

اسی طرح پچاس سال کے بعد امریکہ برطانیہ سمیت بہت سے یورپی ممالک میں، مسلمانوں کی تعداد اکثریت میں ہو گی اس رپورٹ کے چھپنے کے بعد عالم اسلام میں روایتی سستی اور بے توجھی کا مظاہرہ کیا گیا لیکن اس رہورٹ کے بعد یورپ اور امریکہ میں مسلمانوں پر حملوں میں غیر معمولی حد تک اضافہ ہوا۔امریکہ اور برطانیہ کی اسٹیبلشمنٹ کے لوگ سر جوڑ کر بیٹھے اور اس رپورٹ کے حوالے سے، تشویش کا اظہار کیا گیا اسی تشویش کے پیش نظر دونوں ممالک کے بعض اداروں کو ذمہ داریاں سونپی گئیں ان اداروں میں سے بی بی سی سر فہرست ہے جس نے منصوبے کے تحت امریکی صدر ٹرمپ کو جتوانے کے لئے اپنے وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے ان کے حق میں فضا سازی کی۔

اسی طرح امریکہ اور برطانیہ کی اسٹیبلشمنٹ نے امریکہ اور یورپ میں اسلام کے خلاف نفرت پیدا کرنے کے لئے بعض جھاد پسند افرادی قوت کو اکٹھا کیا اور پھر خود ہی ان جہاد پسندوں کے خلاف زہر اگلنا شروع کر دیا جہاد پسندوں کی افرادی قوت میں اضافہ ہوا تو انہوں نے اسلامی خلافت قائم کرنے کی ٹھان لی یہ جہاد پسند افرادی قوت بعد میں "داعش"کے نام سے جانی گئی۔

داعش کو شام اور عراق میں بہت سے علاقوں پر کنٹرول حاصل ہو گیا تو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت داعش کو اسلام کا نمایندہ بتایا گیا تا کہ اسلام کے خلاف لوگوں کے دلوں میں نفرت کے جذبات کو پیدا کیا جا سکے۔ اس سلسلے میں بی بی سی کا کردار بہت ہی بھیانک ہے بی بی سی نے داعش کے قیام سے لے کر آج تک، اسلام اور داعش کو مترادف جانا حتی بی بی سی کے تمام تجزیوں اور خبروں میں داعش کو اسلامک اسٹیٹ یا دولت اسلامیہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

تا لوگ داعش کے مظالم کو دیکھ کر اسلام سے متنفر ہوں اس سلسلے میں بی بی سی کو غیر معمولی کامیابی بھی حاصل ہوئی ہے اس لئے کہ، جو پاک فطرت لوگ اسلام کی جانب راغب ہو رہے تھے ان کے ذہن کو پروپیگنڈے سے خراب کر دیا گیا ہے اسی طرح یورپی ممالک اور امریکہ میں مسلمانوں کو جو مذہبی آزادی حاصل تھی وہ بھی اب خوف کی فضاؤں میں دم توڑنے کے قریب ہے۔بی بی سی کے مذموم عزائم کو سامنے رکھتے ہوئے تمام مسلمانوں کا فرض ہے کہ اس ادارے کے عزائم کا ناکام بنانے کے لئے اپنا اپنا کردار ادا کریں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: ڈاکٹر سید وسیم اختر

Read More Articles by ڈاکٹر سید وسیم اختر: 26 Articles with 11475 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
13 Dec, 2017 Views: 511

Comments

آپ کی رائے