موروثی سیاست اور کارکن

(Qurat Ul Ain Nasir, )

سیاست میں رشتہ داریاں بہت اہم ہوتی ہیں ،اور اگر سیاست پاکستان مین ہوں تو اٹل ،،پاکستان کا ہر وہ نظام جو کسی نہ کسی طرح سیاست سے جڑتا ہے اس میں صف در صف باپ ، بیٹی، بیٹے ، پوتے ، پڑ پوتے ، مامے ، چاچے بھتیجے ، غرض جو رشتہ سوچیں وہ ملتا ہے ۔ اسی لیے پاکستان کے عوام اب اتنے سیاسی بے شعور ہو چکے ہیں کہ ان کو کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ کسی سے یہ نہیں پوچھا جاتا کہ باپ کے مرنے کے بعد اس کی سیاسی گدی پر اس کا بیٹا یا بیٹی کیوں بیٹھتے ہیں ۔ اور ان کے باپ کے ساتھی ان کے سامنے بھی ہاتھ باندھ کر کیوں کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ کوئی نہین پوچھتا کہ خون کے اندر پائی جانے والی سیاسی بلوغت اچانک ان کے اندھے پیرو کاروں پر کیسے واضح ہو جاتی ہے ۔ کسی کو اس کی پرواہ نہیں کہ اس کی جماعت کے ورکرز کا سوچنا کیا ہے ؟ وہ لوگ جو اس جماعت کو ووٹ دیتے ہیں آخر وہ کس کھیت کی مولی ہیں ؟ میرے خیال مین تو مولی کی بھی زیادہ اہمیت ہوتی ہے ۔

اردو بنگلہ فسادات سے لیکر سانحہ ماڈل ٹاون تک انصاف تو کیا ہوتا کسی طاقتور کا آج تک بال بھی بیکا نہ ہوا۔جو مر گئے ان کو آج کوئی نہیں جانتا سوائے ان چند کے جو ان سے براہ راست وابستہ ہیں یا تھے۔ کسی کو نہین معلوم کے شہید بے نظیر بھٹو پر کراچی مین ہونے والے حملے میں جو مر گئے ان کو کیا ہوا۔ لیاری تو طویل عرصے سے گینگ وار کے کارندوں کے پاس تھا ۔ وہ جو جانثاری کا بھرم رکھتے ہوئے دنیا سے چلے گئے آج ان کے خاندانوں پر کیا گزر رہی ہے ۔ المیہ تو یہ تھا کہ پچھلے سائین سرکار بھلکڑ بابا کے دور میں ہزاروں بوتل خون پھینک دیا گیا ۔ کسی کو نہین معلوم کہ وہ خون کس کا تھا ؟ معاملہ صرف خون کا تھوڑے ہے خون سے بہت آگے کا ہے ۔ قاتل دندناتے پھر رہے ہیں ، مقتول کے گھر والے چھپتے پھر رہے ہیں ،، کوئی حوا کی بیٹٰی کو سر عام برہنہ کر رہا ہے ، اور کوئی اسے سا لوں سے محض تسکیں کے لئیے قید رکھے ہوے ہے المیہ یہ نہیں ہے ۔ زبان خنجر خاموش ہے ، حادثے سے بڑی سانحہ تو یہ ہے کہ آستین کا لہو بھی خاموش ہوگیا ہے۔

ہر سیاسی جلاد کے ساتھ قدرت کا انتقام بڑا بھیانک ہے ۔ کوئی سو نہیں سکتا ،،کوئی رو نہیں سکتا ،،کسی کو غیروں نے مار ڈالا اور کوئی گھر کے قاتل کا شکار ہوا ۔ کسی کو کسمپرسی دیکھنی پڑی اور کوئی دولت کے انبار پر کھڑا کیوٓں نکالا کیوں نکالا چلا رہا ہے ۔ بھوکے عوام کے اربوں روپے چرانے والوں کے پیچھے بھی ان کے یار موسمی ٹھیلوں پر اپنا مال بیچنے میں مصروف ہیں ۔ قوم کو نوید سنا رہے ہیں کہ عدالتین جھوٹ بول رہی ہیں ،ان کے آقا نے کچھ نہیں کیا ۔ اس سے پہلے بھی سیاسی مالشیوں کا یہی وطیرہ تھا سب کے سب اپنے لیڈران کو بے قصور ثابت کرنے مین ،دل جان ،،دین اور ایمان سب قربان کر چکے ۔ وہ تو بھلا ہو خالی معدے کے اندر مڑوڑ کو دبا کر نعرہ لگانے والوں کی عدم یادداشت کا کہ ان کو کچھ یاد نہین رہتا ورنہ تاریخ شاھد ہے کہ جو لوگ قوم کی عزت کا سودا کرتے ہیں وہ کوئی بھی ہوں تاریخ ان کو کبھی معاف نہین کرتی ۔

وہ سیاسی کارکن جو لیڈر کی خاطر مرچکا اس کا گھر جن چیزوں سے چلتا ہے ان میں سب سے اہم ہے ،،ان کے قاتلوں کو معاف نہیں کرینگے،،،قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائیگا،،،شہید کا نام سنہری حروفوں سے لکھا جائیگا ، پارٹی ان کی قربانی کو بہت اہمیت دیتی ہے ۔ اور پھر یہ وعدہ کر کے کہ اس کے تین سالہ بچے کو نوکری دی جائیگی لیڈر کا قافلہ شہدا کے ناموں سے منصوب تختی کے حوالے سے منعقدہ تقریب میں چل پڑتے ہیں ۔ اس تقریب میں باقاعدہ کروڑوں کی لاگت سے تعمیر نشانی کو اجاگر کرنے کیلیئے کروڑوں کی مارکیٹنگ کمپنی کی خدمات لی جاتی ہیں ۔ پھر فلیش اور کیمروں کی چکا چوند میں اعلانات ہوتے ہیں سارے چینلز کور کرتے ہیں اور صاحب شہید کا حق ادا کر کے اپنی بلٹ پروف میں گھر چل دیتے ہیں ۔ لیکن جب صاحب کی گاڑی شہید کے گھر سے نکل رہی ہوتی ہے نہ تو اس کا بچہ بھوکا ہوتا ہے ،،اس کی مفلس اور جوان بیوی دل سے دعا کر رہی ہوتی ہے کہ کب عدت ختم ہو اور وہ گھروں میں جھاڑؑو پوچھے کا کام پکڑ کر اپنا گھر چلائے ۔ کیونکہ اس کا کمانے والا تو چلا گیا اور لیڈر جو کر سکتا تھا اس نے کر دیا ۔

یہ ایک گھر کی کہانی نہیں ہے ۔ تمام سیاسی جماعتوں کے کارکن ٹیکس بھی دیتے ہییں اور پارٹی فنڈ میں عطیہ بھی ۔ وہ صبح سے شام نوکری بھی کرتے ہیں اور رات گئے تک سیاست بھی ۔ انکی آمدن کا تمام ریکارڈ دستیاب ہوتا ہے ۔ ۔ ان کے لندن میں تو کیا کہیں بھی کوئی پراپرٹی نہین ہوتی اور جب وہ یہ کہ رہے ہوتے ہیں تو صرف سچ بول رہے ہوتے ہیں ۔ ان کی کوئی آف شور تو کیا ٓان شور کمپنی ، ڈھابہ ، یا ٹھیلہ تک نہیں ہوتا وہ تو بس مست ہوتے ہیں ۔ اپنے لیڈر کے دیوانے اس کے چیلوں کے پروانے ، اپنی پارٹی کے پرچم پر جان دینے والے ،،اس کے آئین سے وفادار ۔ وہ تو بس کسی ایک علاقے میں پیدا ہوتے ہیں ،،زندگی بھر گلا پھاڑ پھاڑ کر نعرے مارتے ہیں ۔ اور پھر کسی لیڈر پر نہ مریں تو ویسےہی مر جاتے ہیں ۔ اگر ویسے مر جائیں تو ان کے نام کا کوئی چوک نہیں بنتا ، ان کے نام پر کوئی سڑک نہیں بنتی ، ان کے نام پر کوئی اسکول قائم نہیں ہوتا ۔ یہ سب کچھ تو چاچے ، مامے ، بیٹے ، بیٹی ، بھائی ، ابا جی ، اور چیلوں کے نام پر بنتے ہیں ۔ کارکن کے نام پر تو صرف کتبہ بنتا ہے اسکی قبر پر لگانے کیلیئے ۔ اور بہت مرتبہ تو گمنام قبرستان مین کتبہ بھی نہیں ملتا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Qurat Ul Ain Nasir

Read More Articles by Qurat Ul Ain Nasir: 34 Articles with 29880 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 Dec, 2017 Views: 680

Comments

آپ کی رائے