عالم اسلام کا ردِ عمل القدس فلسطین کا دارالخلافہ قرار

(Rashid Ali, )

امریکی صدر ٹرمپ نے القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرکے امت مسلمہ بالخصوص مشرق وسطیٰ میں چمکدار نعروں کے سوداگروں، دہشتگردوں اور انتہا پسندو ں کو سفینہ نجات فراہم کردی امریکی حکومت دہشتگردوں کو اپنی سرگرمیاں تیز کرنے کیلئے مطلوب خوراک فراہم کرنے کی ذمہ دار بن چکی ہے امریکی صدر نے القدس سے متعلق فیصلہ کرکے اسرائیل کے ناجائز قبضے کی جڑیں مزید گہری کردیں حلانکہ اسرائیل نے امن عمل کیلئے ایسا کچھ نہیں کیا تھا کہ امریکہ اسے اتنے بھاری انعام سے نواز تا البتہ اس اعلان کے بعد امت مسلمہ نے بذریعہ فیس بک ٹویٹر پر خوب آزادی اظہارِ رائے کا خیال کیا امریکہ اوراسرائیل کو آڑے ہاتھوں لیا انہیں خائن ،غدار اورصہیونی انتہاپسند قراردینے کے بعد اپنے بستروں پریوں محوخواب ہوئے گویا کہ وہ صلاح الدین ایوبی کے حقیقی جانشین ہیں جس نے بیت القدس کو صہیونیوں کے قبضہ سے نجات دلائی تھی فرق صرف اتنا تھا کہ ایوبی نے صہیونیوں کو ناکوں چنے چبوائے مگر انہوں نے بذریعہ فیس بک اورٹوئٹر القدس کی فتح کے فرائض سرانجام دیے ہیں اس کے علاوہ یہ کر بھی کیاسکتے ہیں گزشتہ سات دہائیوں میں مسلم امہ نے کون سا ملک صہیونیوں قوتوں کے چنگل سے آزاد کرایا ؟ اوراپنے کون سے خطے کو صہیونیوں کی عزائم سے محفوظ کیا ؟ مشرق وسطیٰ کا کون سا ملک ہے جہاں امریکہ فوجی نہیں ہیں ؟کتنے مسلم ممالک ہیں جو امریکہ کے محتاج نہیں ہیں ؟ کوئی زر کا محتاج ؟کوئی سکیورٹی کا محتاج ؟ کوئی اسلحے کا محتاج ؟ٹرمپ نے اس وقت القدس کو اسرائیل کا دارلخلافہ بنانے کا اعلان کیا جب مسلم امہ افراط و تفریط کا شکار ہے علی صالح کا قتل، قطر کا بحران، داعش ، شام ، عراق، سینا، لیبیا کے بحران اور فرقہ وارانہ جھگڑوں نے مسلم دنیاکو تفرقہ و انتشار اور جنگوں کے دوزخ میں دھکیل رکھا ہے ٹرمپ نے اس صورتحال کا ناجائز فائدہ اٹھا کر اسرائیل کا وہ خواب شرمندہ تعبیر کر ڈالا جو دسیوں برس سے فیصلہ سازوں کی درازوں میں پڑا ہوا تھاٹرمپ کے اعلان کے بعد امریکہ ،اسرائیل کے ساتھ سیاسی، اقتصادی، عسکری اور ثقافتی تعلقات رکھنے والے کسی بھی عرب اور مسلم ملک نے بائیکاٹ کا کوئی اقدام نہیں کیا کیونکہ ان ممالک میں امریکہ کی چھاونیاں ہیں اورمعیشت امریکی کمپنیوں کے تعاون سے جڑی ہوئی ہے ایسے عالم میں آپ عربوں او رمسلمانوں سے امریکہ کے خلاف بدگوئی سے زیادہ کی کیا توقع کرسکتے ہی جب کہ امریکہ کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ کبھی بھی عربو ں او رمسلمانوں کاصاف ستھرا حلیف نہیں بنا جبکہ امریکہ اسرائیل کو ہمیشہ اپنی قومی سلامتی اور سیاست کا اٹوٹ حصہ مانتا رہا ہے حد تو یہ ہے کہ 1993ء میں شروع ہونے والے فلسطینی اسرائیلی مذاکرات جو ابھی تک کسی حتمی حل تک نہیں پہنچ سکے ،اس کی وجہ ان کا باہمی پریم ہے ٹرمپ نے اس پریم میں ایسا اضافہ کیا ہے اقوام عالم کے لیے انتہائی خطرناک ہوگا عالمی برادری اس حوالے سے کچھ کہے نہ کہے، ڈر اس بات کا ہے کہ یہ فیصلہ آنے والے ایام میں زمینی حقیقت کے طور پر نہ تھوپ دیا جائے دریں اثنا مسلم ممالک کے علاوہ بین الاقومی دنیا نے بھی ٹرمپ کے اس فیصلے کی مذمت کی ہے ٹرمپ کے بیت القدس کو اسرائیل کا دارالخلافہ تسلیم کرنے کے خلاف سیکریٹری جنرل اقوا م متحدہ یورپی یونین نے اسے امن عمل کی خلاف اقدام قرار دیتے ہوئے معاملہ بات چیت سے حل کرنے پر زور دیا ہے برطانوی وزیراعظم تھریسامے نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کیے جانے کی مذمت کی اور کہا کہ یہ اقدام امن عمل میں مددگار نہیں ہوگا جرمن چانسلر نے بھی امریکی اعلان کی مخالفت کی اور کہ بیت المقدس کی حیثیت کا فیصلہ دو ریاستی حل کے ساتھ ہی ہونا چاہیے اس ضرورت پر زور دیا فرانسیسی صدر ایموئینل میکرون نے اپنے مذمتی بیان میں امریکی صدر کے فیصلے کی شدید مخالفت کی چینی وزارت خارجہ نے کہا کہ مقبوضہ بیت المقدس پرامریکی اقدام سے کشیدگی بڑھے گی مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق فریقین احتیاط سے کام لیں یورپ کے اٹھائیس رکنی اتحاد یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ فیڈریکا موگیرینی نے امریکی صدر کے اعلان پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے پوری دنیا پر یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ امریکہ کے لیے تنہا اسرائیل مسلم امہ سے بہترہے مسلم حکمرانوں کو یکجہتی کے ساتھ امریکہ کی اس پالیسی کے خلاف مربوط حکمت عملی وضع کرنی چاہیے تاکہ آئندہ کبھی امریکہ ایسی غیرذمہ دارانہ جسارت کا مرتکب نہ ہو اُو آئی سی نے بیت متفقہ طور پر القدس کو فلسطین کا داراالخلافہ قرار دے دے ہے قاہرہ میں عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کے ہنگامی اجلاس میں بیت المقدس کو اسرائیل کا دار الحکومت تسلیم کرنے کے امریکی فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ اس فیصلے سے نہ صرف امن عمل سپوتاژ ہوگا بلکہ پر امن دو ریاستوں کا فارمولہ بھی متاثر ہوگا۔ اجلاس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے کیا گیا فیصلہ نہ صرف بے بنیاد ہے بلکہ عالمی قرار دادوں کے بھی خلاف ہے مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ امریکہ نے خود کو انتہائی خطرناک کیفیت سے دوچار کردیا ہے جس کے باعث اس کی غیر جانبداری مشکوک ہوگئی ہے عرب لیگ نے زور دے کر کہا کہ عالمی قرار دادوں کے خلاف اور زمینی حقیقتوں سے مل نہ کھانے والے تمام یکطرفہ فیصلوں کو مسترد کرتے ہیں مشرقی بیت المقدس فلسطین کا دار الحکومت ہے یہاں اس وقت تک امن قائم نہیں ہوسکتا جب تک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام نہ ہو جس کا دار الحکومت بیت المقدس ہو اور جو 1967ء کی سرحد کے مطابق ہو جس پر عالمی قراردادیں جاری کی جاچکی ہیں جناب صدر طیب اردوغان نے اسرائیل کو دہشت گردریاست قرار دیتے ہوئے امریکی صدر کو آڑے ہاتھوں لیا وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ٹرمپ کے فیصلے کے بعد امت مسلمہ اپنے حکمرانوں سے سوال پوچھتی ہے کہ ہم نے نہتے فلسطینی مسلمانوں کے لئے کیا کیا؟ کیا ہم اپنے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر امت کے لئے نہیں سوچیں گے؟ہمیں فوری طور پر اپنے سیاسی اختلافات بھلانا ہوں گے ، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اگر امریکی صدر کے اعلان پر کوئی اقدامات نہیں اٹھاتی تو مسلم ممالک کو یہ معاملہ جنرل اسمبلی کے سامنے پیش کرنا چاہیے ، مسئلہ فلسطین کے حل کے لئے مسلم ممالک کواقتصادی دباؤبڑھانا ہوگا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rashid Ali

Read More Articles by Rashid Ali: 56 Articles with 36521 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 Dec, 2017 Views: 298

Comments

آپ کی رائے