کشمیر پر ڈومور اور کشمیریوں کا شکوہ

(Asif Khursheed Rana, Islamabad)

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

اسلام آباد میں دسمبر کا سرد موسم ہو اور کسی ہوٹل کے گرم ہال میں سیمینار تو جذبات کا گرم ہونا فطری بات ہے ۔ایسے ہی سرد موسم میں کشمیر کے ادارہ برائے بین الاقوامی تعلقات نے اسلام آباد میں گرم سیاسی ماحول میں چناروں کی سرزمین پر ہونے والے انسانیت سوز ظلم سے آگاہ کرنے اور دنیا کے سرد ضمیر کوجنجھوڑنے کے لیے ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیاتھا ۔ایک دوست کی دعوت پر وہاں پہنچے تونوجوان کشمیری طلباء کی بڑی تعداد دیکھ کر اطمینان ہوا کہ جس قوم کے نوجوان بیدار ہوں وہاں پرکوئی بھی ریاستی یا انفرادی سطح پرشب خون کے ذریعے آزادی کو سلب نہیں کر سکتا۔انسانی حقوق کے بین الا قوامی دن کے حوالہ سے منعقدہ سیمینار میں مہمان خصوصی حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے چئیرمین راجہ ظفر الحق تھے جبکہ دیگر مہمانوں میں پیپلز پارٹی کی رہنما شیریں رحمان صاحبہ ،بھارت میں تعینات سابق سفیر عبدالباسط اور دیگر سٹیج پر موجود تھے۔ کشمیر میں ہونے بھارت کی جانب سے ہونے والی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پرگفتگو جاری تھی ہر مقرر بہت ہی اچھے انداز میں گفتگو کر رہا تھا اور بھارت کی دہشت گردی کو بے نقاب کیا جا رہا تھا لیکن اس سیمینار میں میری توجہ کا مرکز نوجوان طلباء تھے ۔میں جاننا چاہتا تھا کہ مختلف تعلیمی داروں میں پڑھنے والے ان طلبا کے جذبات و احساسات کیا ہیں۔ میرے سامنے مقبوضہ کشمیر میں جاری تحریک آزادی کی تمام صورتحال تھی ۔تحریک کے اس نئے فیز میں( جو ایک نوجوان برہان وانی کی شہادت کے بعد شروع ہو اتھا )قیادت نوجوانوں کے پاس تھی ۔ کشمیریوں کی تیسری نسل جد وجہد آزادی میں مصروف تھی اور بھارت کے تمام جبر واستبداد اور انسانیت سوز مظالم کے باوجود یہ نوجوان پورے قد کے ساتھ میدانوں میں موجود تھے ۔ مقبوضہ کشمیر کے سکول کالج اور یونیورسٹیز اب آزادی کے نعروں سے گونج رہی ہیں ۔ برہان وانی نوجوان نسل کے لیے آزادی کا استعارہ بن چکا ہے ۔ گزشتہ دنوں مقبوضہ کشمیر کے ایک نوجوان سے میرا رابطہ واٹس ایپ کے ذریعے ہوا ۔ یہ نوجوان کچھ عرصہ پہلے دہلی کی ایک یونیورسٹی میں گرایجویشن کر رہا تھا ۔ کشمیریوں کے ایک سیمینار میں اس کی شرکت کی وجہ سے بھارت سرکار بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئی اور یونیورسٹی انتظامیہ پر دباؤ ڈال کر پہلے اسے یونیورسٹی سے نکال دیا گیا اور بعدازاں اسے دہلی چھوڑنے پر مجبور کر دیا گیا۔اس نوجوان سے میں نے برہان وانی اور موجودہ کشمیری تحریک کو پوچھا تو اس نے پوری تفصیل بتانے کے بعد جو سوال مجھ سے کیا اس کا میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا ۔ اس کا کہنا تھا کہ ہماری تیسری نسل قربانیاں دے رہی ہیں ۔ایک طرف بھارتی فوجی پیلٹ گنوں سے ہمارے جسم چھلنی کر رہے ہوتے ہیں اور دوسری طرف ہم پاکستان کے پرچم لہرا رہے ہوتے ہیں ۔ایک طرف ہمارے گھروں میں کریک ڈاؤن کے نام پر تباہی و بربادی کا تماشہ ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود ہم لوگ آزادی کے نعرے لگا رہے ہوتے ہیں۔ہمارے سینکڑوں بچے اور بچیاں پیلٹ گنوں کا شکار ہو کر آنکھوں کی روشنی گنوا چکے ہیں لیکن اس کے باوجود بھارتی فوجی ہمارے مظاہروں سے پاکستانی پرچم ختم نہیں کروا سکے۔ہماری گھڑیاں پاکستان کے وقت کے مطابق وقت بتا رہی ہیں۔ہماری عیدیں بھارت کے ساتھ نہیں بلکہ پاکستان کے ساتھ ہوتی ہیں ۔ہماری بیٹیاں اور بہنیں گھروں سے باہر نکل کر میدانوں میں آ چکی ہیں ۔روزانہ کی بنیاد پر ہمارے نوجوان شہید اور زخمی ہو رہے ۔برہان وانی کی شہادت کے بعد جو تحریک ہم نوجوانوں نے شروع کی تھی اس میں ہزاروں نوجوان زخمی ہیں سینکڑوں قید میں ہیں درجنوں اپنی جانیں قربان کر چکے ہیں اور جو بچ گئے ہیں وہ بھارتی فوج کے ٹارچر سیلوں میں بدترین تشدد کانشانہ بنائے جارہے ہیں ۔بھارت کبھی مذاکرات کا لالی پاپ دیتا ہے کبھی اقتصادی پیکج کا لالچ دیتا ہے ، کبھی بھارت نواز حکومت نوجوانوں کو نوکریوں کا جھانسہ دیتی ہے تو کبھی طلباء کو مفت تعلیم پر بیرون ملک جانے کی پیشکش کی جاتی ہیں لیکن ہم طے کر چکے ہیں کہ آزادی کے سوا کسی دوسرے آپشن پر سمجھوتہ نہیں کر یں گے ۔ جب ہمارا کوئی نوجوان شہید ہوتا ہے تو اسے پاکستان کے پرچم میں لپیٹ کر دفن کیا جاتا ہے ۔ ہم نماز پڑھتے ہیں تو پاکستان پرچم ہمارا جائے نماز ہوتا ہے پاکستان کے ساتھ جڑی ہماری محبت کوبھارت ستر سال کے ظلم کے باوجود ختم کرنے میں ناکام رہا ہے لیکن دوسری طرف پاکستان سے کس طرح کی خبریں مل رہی ہیں ۔ پاکستان کے حکمران ہمار مقدمہ پیش کرنے میں کیوں ناکام ہیں ۔ پاکستان ہمارے لیے کیا کر رہا ہے ۔ یہ وہ سوالات تھے جن کا جواب میرے پاس اتنا مدلل موجود نہیں تھا۔

انسانی حقوق کے اس سمینار میں جب مقررین نے جب اعداد وشمار کے ذریعے بھارت کی مظالم کو بیان کر چکے تو نوجوان طلباء کو سوالات کا موقع دیا گیا ۔پاکستان کے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے والے ان کشمیری طلباء کے سوالات حکمران جماعت سمیت تمام بڑی سیاسی جماعتوں سے تھے ۔ طلباء کا پوچھنا تھا کہ کیا وجہ ہے اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہونے کے باوجود پاکستان عالمی سطح پر کشمیریوں کے لیے دنیا کو قائل نہیں کر سکا کہ بھارت اس پر قابض ہے ۔ ایک نوجوان کا کہنا تھا کہ بھارت تو دنیا بھر میں یہ ثابت کر رہا ہے کہ کشمیر کی تحریک آزادی دہشت گردی ہے اور پاکستان اس دہشت گردی کی حمایت کر رہا ہے لیکن پاکستان کیوں اپنا مقدمہ بہتر انداز میں دنیا کے سامنے پیش نہیں کر سکا ۔ ایک طالب علم کا پوچھنا تھا کہ آخر کیا وہ ہے کہ پاکستان دیگر ممالک کو تو دور کی بات ہے مسلم ممالک کو بھی بھارتی مظالم سے پوری طرح آگاہ کرنے میں ناکام نظر آیا اور کسی اسلامی ملک کا اس پر قائل نہ کرسکا کہ جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوتا بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرے۔ ان تمام سوالا ت سے ذیادہ جو خطرناک سوال تھا وہ یہ تھا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ایک طرف کشمیری تحریک عروج پر ہے تو دوسری طرف پاکستان میں مسئلہ کشمیر صرف چند مذہبی جماعتوں کے ایجنڈے تک محدود ہو کررہ گیا ۔مسلم لیگ (ن ) ، پیپلز پارٹی ، تحریک انصاف سمیت بڑی جماعتوں کے منشور میں کشمیر سرفہرست نہیں ہے ۔ ایک طرف بھارت میں انتخابات ہو رہے ہیں تو ان کا سرفہرست ایجنڈا پاکستان دشمنی ہے لیکن ہماری طرف سے مکمل خاموشی ہے ۔یہ سوالا ت بڑے تلخ تھے لیکن حقیقت کے شاید کافی قریب بھی تھے۔ اگرچہ ان سوالات کا جواب دینے کے لیے پیپلز پارٹی کی رہنما شیریں رحمان نے کوشش کی لیکن ان کا جواب تسلی بخش نہ تھا۔ خود انہوں نے بھی محسوس کیا کہ سیاسی جماعتوں میں واقعی کہیں نہ کہیں خلا موجود ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے پیپلز پارٹی کی کوششوں کا ذکر کرنے کے باوجود راجہ ظفر الحق سے کہا کہ وہ اپنی سربراہی میں کوئی لائحہ عمل ترتیب دیں ۔ کشمیر کمیٹی کے وجود اور اس کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے گئے ۔راجہ ظفر الحق نے بھی اتفاق کیا کہ اس موقع پر ایک کل جماعتی کانفرنس کا انعقاد بہت ضروری ہے جس میں پاکستان کی تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں کی شمولیت ہو اور ایک متفقہ لائحہ عمل ترتیب دیا جانا ضروری ہے ۔ پاکستان میں کشمیریوں کے لیے ایک مضبوط اور توانا آواز حافظ محمد سعید کی تھی جنہوں نے سال 2017کو کشمیر کے نام کیا تھا اب ایسی صورت میں تمام جماعتوں کو ان کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے تھا لیکن حکومت نے انہیں بیرونی دباؤ پر نظر بند کر دیا اور گزشتہ ماہ دس ماہ کی نظر بندی کے بعد عدالت کے فیصلے کے بعد ان کی نظر بندی ختم ہوئی ہے ۔جب ایک طرف قربانیوں کا تسلسل ہوروزانہ کی بنیاد پر شہداے کے جنازے ہوں تو ایسے میں کشمیری نوجوانوں کا یہ شکوہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں اوربالخصوص حکمران جماعت کے لیے لمحہ فکریہ ہونی چاہیے ۔ ان حالات میں شیریں رحمان کی یہ فقرہ بہت ہی خوب تھا جس نے شرکاء سے داد بھی سمیٹی کہ کشمیر پر پاکستان کو’’ ڈومور‘‘ کرنے کی ضرور ت ہے لیکن سوال پھر وہی ہے اور تمام سیاسی جماعتوں سے ہے کہ یہ ’’ڈومور ‘‘ کون کرے گا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Asif Khursheed Rana

Read More Articles by Asif Khursheed Rana: 87 Articles with 32413 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 Dec, 2017 Views: 316

Comments

آپ کی رائے