Sahih Bukhari Hadith No. 1295

Chapter 24: THE BOOK OF AL-JANAIZ (FUNERALS)
کتاب صحیح بخاری شریف
باب کتاب جنازے کے احکام و مسائل

Narrated 'Amir bin Sa`d bin Abi Waqqas: That his father said, In the year of the last Hajj of the Prophet I became seriously ill and the Prophet used to visit me inquiring about my health. I told him, 'I am reduced to this state because of illness and I am wealthy and have no inheritors except a daughter, (In this narration the name of 'Amir bin Sa`d is mentioned and in fact it is a mistake; the narrator is `Aisha bint Sa`d bin Abi Waqqas). Should I give two-thirds of my property in charity?' He said, 'No.' I asked, 'Half?' He said, 'No.' then he added, 'Onethird, and even one-third is much. You'd better leave your inheritors wealthy rather than leaving them poor, begging others. You will get a reward for whatever you spend for Allah's sake, even for what you put in your wife's mouth.' I said, 'O Allah's Apostle! Will I be left alone after my companions have gone?' He said, 'If you are left behind, whatever good deeds you will do will upgrade you and raise you high. And perhaps you will have a long life so that some people will be benefited by you while others will be harmed by you. O Allah! Complete the emigration of my companions and do not turn them renegades.' But Allah's Apostle felt sorry for poor Sa`d bin Khaula as he died in Mecca. (but Sa`d bin Abi Waqqas lived long after the Prophet (p.b.u.h).)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وقاص عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ مِنْ وَجَعٍ اشْتَدَّ بِي , فَقُلْتُ : إِنِّي قَدْ بَلَغَ بِي مِنَ الْوَجَعِ وَأَنَا ذُو مَالٍ وَلَا يَرِثُنِي إِلَّا ابْنَةٌ أَفَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَيْ مَالِي ، قَالَ : لَا ، فَقُلْتُ : بِالشَّطْرِ ، فَقَالَ : لَا ، ثُمَّ قَالَ : الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ كَبِيرٌ أَوْ كَثِيرٌ ، إِنَّكَ أَنْ تَذَرَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَذَرَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ ، وَإِنَّكَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللَّهِ إِلَّا أُجِرْتَ بِهَا حَتَّى مَا تَجْعَلُ فِي فِي امْرَأَتِكَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أُخَلَّفُ بَعْدَ أَصْحَابِي ؟ , قَالَ : إِنَّكَ لَنْ تُخَلَّفَ فَتَعْمَلَ عَمَلًا صَالِحًا إِلَّا ازْدَدْتَ بِهِ دَرَجَةً وَرِفْعَةً ، ثُمَّ لَعَلَّكَ أَنْ تُخَلَّفَ حَتَّى يَنْتَفِعَ بِكَ أَقْوَامٌ وَيُضَرَّ بِكَ آخَرُونَ ، اللَّهُمَّ أَمْضِ لِأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ وَلَا تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ ، لَكِنْ الْبَائِسُ سَعْدُ بْنُ خَوْلَةَ يَرْثِي لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ مَاتَ بِمَكَّةَ .

ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ‘ انہیں امام مالک نے خبر دی۔ انہیں ابن شہاب نے ‘ انہیں عامر بن سعد بن ابی وقاص نے اور انہیں ان کے والد سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے کہ   رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجتہ الوداع کے سال ( 10 ھ میں ) میری عیادت کے لیے تشریف لائے۔ میں سخت بیمار تھا۔ میں نے کہا کہ میرا مرض شدت اختیار کر چکا ہے میرے پاس مال و اسباب بہت ہے اور میری صرف ایک لڑکی ہے جو وارث ہو گی تو کیا میں اپنے دو تہائی مال کو خیرات کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں۔ میں نے کہا آدھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک تہائی کر دو اور یہ بھی بڑی خیرات ہے یا بہت خیرات ہے اگر تو اپنے وارثوں کو اپنے پیچھے مالدار چھوڑ جائے تو یہ اس سے بہتر ہو گا کہ محتاجی میں انہیں اس طرح چھوڑ کر جائے کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں۔ یہ یاد رکھو کہ جو خرچ بھی تم اللہ کی رضا کی نیت سے کرو گے تو اس پر بھی تمہیں ثواب ملے گا۔ حتیٰ کہ اس لقمہ پر بھی جو تم اپنی بیوی کے منہ میں رکھو۔ پھر میں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! میرے ساتھی تو مجھے چھوڑ کر ( حجتہ الوداع کر کے ) مکہ سے جا رہے ہیں اور میں ان سے پیچھے رہ رہا ہوں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہاں رہ کر بھی اگر تم کوئی نیک عمل کرو گے تو اس سے تمہارے درجے بلند ہوں گے اور شاید ابھی تم زندہ رہو گے اور بہت سے لوگوں کو ( مسلمانوں کو ) تم سے فائدہ پہنچے گا اور بہتوں کو ( کفار و مرتدین کو ) نقصان۔ ( پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی ) اے اللہ! میرے ساتھیوں کو ہجرت پر استقلال عطا فرما اور ان کے قدم پیچھے کی طرف نہ لوٹا۔ لیکن مصیبت زدہ سعد بن خولہ تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے مکہ میں وفات پا جانے کی وجہ سے اظہار غم کیا تھا۔

Hadith No. 1296

Narrated Abu Burda bin Abi Musa: Abu Musa got seriously ill, fainted and could not reply to his wife while he was lying with his head in her lap. When he came to his senses, he said, I am innocent of those, of whom Allah's Messenger (saws) was..

READ COMPLETE

Hadith No. 1297

Narrated `Abdullah: The Prophet said, He who slaps the cheeks, tears the clothes and follows the tradition of the Days of Ignorance is not from us. ..

READ COMPLETE

Hadith No. 1298

Narrated `Abdullah: The Prophet said, He who slaps the cheeks, tears the clothes and follows the traditions of the Days of Ignorance is not from us. ..

READ COMPLETE

Hadith No. 1299

Narrated `Aisha: When the Prophet got the news of the death of Ibn Haritha, Ja`far and Ibn Rawaha he sat down and looked sad and I was looking at him through the chink of the door. A man came and told him about the crying of the women of Ja`far...

READ COMPLETE

Hadith No. 1300

Narrated Anas: When the reciters of Qur'an were martyred, Allah's Apostle recited Qunut for one month and I never saw him (i.e. Allah's Apostle) so sad as he was on that day. ..

READ COMPLETE

Reviews & Comments