Sahih Bukhari 6939

Hadith on Obliging The Apostates of Sahih Bukhari 6939 is about The Book Of Obliging The Apostates And The Repentance Of Those Who Refuse The Truth Obstinately, And To Fight Against Such People as written by Imam Muhammad al-Bukhari. The original Hadith is written in Arabic and translated in English and Urdu. The chapter The Book Of Obliging The Apostates And The Repentance Of Those Who Refuse The Truth Obstinately, And To Fight Against Such People has twenty-two as total Hadith on this topic.

Sahih Bukhari Hadith No. 6939

Chapter 90 The Book Of Obliging The Apostates And The Repentance Of Those Who Refuse The Truth Obstinately, And To Fight Against Such People
Book Sahih Bukhari
Hadith No 6939
Baab Baaghion Aur Murtadion Say Touba Karany Ka Bayan Mai

Narrated: Abu `Abdur-Rahman and Hibban bin 'Atiyya had a dispute. Abu `Abdur-Rahman said to Hibban, You know what made your companions (i.e. `Ali) dare to shed blood. Hibban said, Come on! What is that? `Abdur-Rahman said, Something I heard him saying. The other said, What was it? `AbdurRahman said, `Ali said, Allah's Apostle sent for me, Az-Zubair and Abu Marthad, and all of us were cavalry men, and said, 'Proceed to Raudat-Hajj (Abu Salama said that Abu 'Awana called it like this, i.e., Hajj where there is a woman carrying a letter from Hatib bin Abi Balta'a to the pagans (of Mecca). So bring that letter to me.' So we proceeded riding on our horses till we overtook her at the same place of which Allah's Apostle had told us. She was traveling on her camel. In that letter Hatib had written to the Meccans about the proposed attached of Allah's Apostle against them. We asked her, Where is the letter which is with you?' She replied, 'I haven't got any letter.' So we made her camel kneel down and searched her luggage, but we did not find anything. My two companions said, 'We do not think that she has got a letter.' I said, 'We know that Allah's Apostle has not told a lie.' Then `Ali took an oath saying, By Him by Whom one should swear! You shall either bring out the letter or we shall strip off your clothes. She then stretched out her hand for her girdle (round her waist) and brought out the paper (letter). They took the letter to Allah's Apostle. `Umar said, O Allah's Apostle! (Hatib) has betrayed Allah, His Apostle and the believers; let me chop off his neck! Allah's Apostle said, O Hatib! What obliged you to do what you have done? Hatib replied, O Allah's Apostle! Why (for what reason) should I not believe in Allah and His Apostle? But I intended to do the (Mecca) people a favor by virtue of which my family and property may be protected as there is none of your companions but has some of his people (relatives) whom Allah urges to protect his family and property. The Prophet said, He has said the truth; therefore, do not say anything to him except good. `Umar again said, O Allah's Apostle! He has betrayed Allah, His Apostle and the believers; let me chop his neck off! The Prophet said, Isn't he from those who fought the battle of Badr? And what do you know, Allah might have looked at them (Badr warriors) and said (to them), 'Do what you like, for I have granted you Paradise?' On that, `Umar's eyes became flooded with tears and he said, Allah and His Apostle know best.

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ فُلَانٍ ، قَالَ : تَنَازَعَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَحِبَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ ، فَقَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، لِحِبَّانَ : لَقَدْ عَلِمْتُ مَا الَّذِي جَرَّأَ صَاحِبَكَ عَلَى الدِّمَاءِ ، يَعْنِي عَلِيًّا ، قَالَ : مَا هُوَ لَا أَبَا لَكَ ، قَالَ : شَيْءٌ سَمِعْتُهُ يَقُولُهُ ، قَالَ : مَا هُوَ ؟ ، قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالزُّبَيْرَ ، وَأَبَا مَرْثَدٍ ، وَكُلُّنَا فَارِسٌ ، قَالَ : انْطَلِقُوا حَتَّى تَأْتُوا رَوْضَةَ حَاجٍ ، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ : هَكَذَا قَالَ أَبُو عَوَانَةَ ، حَاجٍ : فَإِنَّ فِيهَا امْرَأَةً مَعَهَا صَحِيفَةٌ مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَى الْمُشْرِكِينَ فَأْتُونِي بِهَا ، فَانْطَلَقْنَا عَلَى أَفْرَاسِنَا حَتَّى أَدْرَكْنَاهَا حَيْثُ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسِيرُ عَلَى بَعِيرٍ لَهَا ، وَقَدْ كَانَ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ بِمَسِيرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ ، فَقُلْنَا : أَيْنَ الْكِتَابُ الَّذِي مَعَكِ ؟ ، قَالَتْ : مَا مَعِي كِتَابٌ ، فَأَنَخْنَا بِهَا بَعِيرَهَا ، فَابْتَغَيْنَا فِي رَحْلِهَا ، فَمَا وَجَدْنَا شَيْئًا ، فَقَالَ صَاحِبَايَ : مَا نَرَى مَعَهَا كِتَابًا ، قَالَ : فَقُلْتُ : لَقَدْ عَلِمْنَا مَا كَذَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ حَلَفَ عَلِيٌّ : وَالَّذِي يُحْلَفُ بِهِ لَتُخْرِجِنَّ الْكِتَابَ ، أَوْ لَأُجَرِّدَنَّكِ ، فَأَهْوَتْ إِلَى حُجْزَتِهَا وَهِيَ مُحْتَجِزَةٌ بِكِسَاءٍ ، فَأَخْرَجَتِ الصَّحِيفَةَ ، فَأَتَوْا بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ خَانَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ ، دَعْنِي فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا حَاطِبُ مَا حَمَلكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ ؟ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا لِي أَنْ لَا أَكُونَ مُؤْمِنًا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ، وَلَكِنِّي أَرَدْتُ أَنْ يَكُونَ لِي عِنْدَ الْقَوْمِ يَدٌ يُدْفَعُ بِهَا عَنْ أَهْلِي وَمَالِي ، وَلَيْسَ مِنْ أَصْحَابِكَ أَحَدٌ إِلَّا لَهُ هُنَالِكَ مِنْ قَوْمِهِ مَنْ يَدْفَعُ اللَّهُ بِهِ عَنْ أَهْلِهِ وَمَالِهِ ، قَالَ : صَدَقَ ، لَا تَقُولُوا لَهُ إِلَّا خَيْرًا ، قَالَ : فَعَادَ عُمَرُ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ خَانَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ ، دَعْنِي فَلِأَضْرِبْ عُنُقَهُ ، قَالَ : أَوَلَيْسَ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ ، وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ اطَّلَعَ عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ ، فَقَدْ أَوْجَبْتُ لَكُمُ الْجَنَّةَ ، فَاغْرَوْرَقَتْ عَيْنَاهُ ، فَقَالَ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : خَاخٍ أَصَحُّ ، وَلَكِنْ كَذَا ، قَالَ أَبُو عَوَانَةَ : حَاجٍ وَحَاجٍ تَصْحِيفٌ ، وَهُوَ مَوْضِعٌ ، وَهُشَيْمٌ ، يَقُولُ خَاخٍ .

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ وضاح شکری نے بیان کیا، ان سے حصین بن عبدالرحمٰن سلمی نے، ان سے فلاں شخص (سعید بن عبیدہ) نے کہ   ابوعبدالرحمٰن اور حبان بن عطیہ کا آپس میں اختلاف ہوا۔ ابوعبدالرحمٰن نے حبان سے کہا کہ آپ کو معلوم ہے کہ آپ کے ساتھی خون بہانے میں کس قدر جری ہو گئے ہیں۔ ان کا اشارہ علی رضی اللہ عنہ کی طرف تھا اس پر حبان نے کہا انہوں نے کیا کیا ہے، تیرا باپ نہیں۔ ابوعبدالرحمٰن نے کہا کہ علی رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ مجھے، زبیر اور ابومرثد رضی اللہ عنہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا اور ہم سب گھوڑوں پر سوار تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاؤ اور جب روضہ خاخ پر پہنچو ( جو مدینہ سے بارہ میل کے فاصلہ پر ایک جگہ ہے ) ابوسلمہ نے بیان کیا کہ ابوعوانہ نے خاخ کے بدلے حاج کہا ہے۔ تو وہاں تمہیں ایک عورت ( سارہ نامی ) ملے گی اور اس کے پاس حاطب بن ابی بلتعہ کا ایک خط ہے جو مشرکین مکہ کو لکھا گیا ہے تم وہ خط میرے پاس لاؤ۔ چنانچہ ہم اپنے گھوڑوں پر دوڑے اور ہم نے اسے وہیں پکڑا جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا تھا۔ وہ عورت اپنے اونٹ پر سوار جا رہی تھی حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ نے اہل مکہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مکہ کو آنے کی خبر دی تھی۔ ہم نے اس عورت سے کہا کہ تمہارے پاس وہ خط کہاں ہے اس نے کہا کہ میرے پاس تو کوئی خط نہیں ہے ہم نے اس کا اونٹ بٹھا دیا اور اس کے کجاوہ کی تلاشی لی لیکن اس میں کوئی خط نہیں ملا۔ میرے ساتھی نے کہا کہ اس کے پاس کوئی خط نہیں معلوم ہوتا۔ راوی نے بیان کیا کہ ہمیں یقین ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غلط بات نہیں فرمائی پھر علی رضی اللہ عنہ نے قسم کھائی کہ اس ذات کی قسم جس کی قسم کھائی جاتی ہے خط نکال دے ورنہ میں تجھے ننگی کروں گا اب وہ عورت اپنے نیفے کی طرف جھکی اس نے ایک چادر کمر پر باندھ رکھی تھی اور خط نکالا۔ اس کے بعد یہ لوگ خط نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس نے اللہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں کے ساتھ خیانت کی ہے، مجھے اجازت دیجئیے کہ میں اس کی گردن مار دوں۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، حاطب! تم نے ایسا کیوں کیا؟ حاطب رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! بھلا کیا مجھ سے یہ ممکن ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہ رکھوں میرا مطلب اس خط کے لکھنے سے صرف یہ تھا کہ میرا ایک احسان مکہ والوں پر ہو جائے جس کی وجہ سے میں اپنی جائیداد اور بال بچوں کو ( ان کے ہاتھ سے ) بچا لوں۔ بات یہ ہے کہ آپ کے اصحاب میں کوئی ایسا نہیں جس کے مکہ میں ان کی قوم میں کے ایسے لوگ نہ ہوں جس کی وجہ سے اللہ ان کے بچوں اور جائیداد پر کوئی آفت نہیں آنے دیتا۔ مگر میرا وہاں کوئی نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حاطب نے سچ کہا ہے۔ بھلائی کے سوا ان کے بارے میں اور کچھ نہ کہو۔ بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے دوبارہ کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس نے اللہ اور اس کے رسول اور مومنوں کے ساتھ خیانت کی ہے۔ مجھے اجازت دیجئیے کہ میں اس کی گردن مار دوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہ جنگ بدر میں شریک ہونے والوں میں سے نہیں ہیں؟ تمہیں کیا معلوم اللہ تعالیٰ ان کے اعمال سے واقف تھا اور پھر فرمایا کہ جو چاہو کرو میں نے جنت تمہارے لیے لکھ دی ہے اس پر عمر رضی اللہ عنہ کی آنکھوں میں ( خوشی سے ) آنسو بھر آئے اور عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول ہی کو حقیقت کا زیادہ علم ہے۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ «خاخ» زیادہ صحیح ہے لیکن ابوعوانہ نے «حاج» ہی بیان کیا ہے اور لفظ «حاج» بدلا ہوا ہے یہ ایک جگہ کا نام ہے اور ہشیم نے «خاخ» بیان کیا ہے۔

Reviews & Comments