کیا آپ کو اپنے بچوں پر اعتماد ہے؟ یہ طریقے اپنائیں اور گھر کا ماحول پرسکون بنائیں

image

اولاد کے لئے والدین سے اچھا کوئی دوست نہیں ہوسکتا لہٰذا ماں اور باپ دونوں کو چاہیئے کہ وہ اپنی اولاد پر بھروسہ بھی کریں اور ان کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو ترجیح دیں تاکہ وہ اپنی تمام تر پریشانیوں اور مسائل کو کھل کر گھر میں بتاسکیں ۔ اس سے صحتمندانہ گھرانے کی بنیادی پڑتی ہے۔

اگر آپ کے بھی جوان بچے ہیں یا آپ خود ایک نوجوان اولاد ہیں تو جانیے وہ رہنما باتیں جن پر عمل کرکے گھروں میں آپس میں اتحاد اور اتفاق قائم ہوسکتا ہے۔

1:اچھے سامع (ہر بات سننے والے)

والدین اور اولاد دونوں کو چاہیے کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کے لئیے اپنے اپنے دلوں میں جگہ پیدا کریں۔ اور گھر والوں کی ہر بات کو تسلی سے سنیں تاکہ آپ کو ان کے اور ان کو آپ کے جذبات سے ، خیالات سے مکمل آگہی ہو ۔۔۔ تاکہ آپس میں ایک دوسرے پر بھروسہ بڑھے ، مروتیں بڑھیں۔

2:اچھے مقرر (اچھا بولنے والے) اچھا مقرر ہونا بھی لازمی ہے کیونکہ جب تک آپ بولیں گے نہیں ، بات نہیں کریں گے، تو سامنے والوں کو آپ کی کیفیات کا اندازہ ہو گا ہی نہیں۔

اپنے اعتماد کو بلند کریں اور گھر میں وہ لوگ جو ٹھیک سے کلام کر نہیں پاتے یا ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں ان کا اعتماد بڑھائیں ۔ تاکہ کسی مزاحمت سے بچ سکیں۔

3:بچوں کے فیصلوں کی عزت کریں

گھریلو معاملات میں بچوں کے فیصلوں کو بھی اتنا ہی بڑھاوا دیں جتنا کہ آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی بات کو عزت دی جائے۔

اس سے بچوں کی حوصلہ افزائی میں بھی اضافہ ہوتا ہے اور وہ ہربات گھر والوں کے سامنے کھل کر بتانے میں دلچسپی لیتے ہیں۔

4:معاف کرنے کی عادت اپنائیں

یہ سب سے بڑا ضبط ہے ماں باپ کے لیے کہ وہ اپنی اولاد کی غلطیوں کو جائز حد تک نظرانداز بھی کریں اور جہاں ضروری ہو ایک محدود حد تک ڈانٹ ڈپٹ بھی رکھیں۔ اس سے بچے ذہنی مسائل کا شکار ہونے سے بچ جاتے ہیں۔ 5:شک اور تنقید نہ کریں

بلاوجہ تنقید اور ہربات پر شک کرنے سے اولاد اپنے والدین سے ذہنی اور جسمانی طور پر دور ہونے لگتے ہیں، لہٰذا بچوں کو سمجھیں ، ان کی ضروریات کو سمجھیں ، ان کے ہر عمل پر نظر رکھیں لیکن شک کبھی نہیں کریں،،، اور نہ بات بات پر تنقیدی جواب دیں اس سے بچے دلبرداشتہ ہوجاتے ہیں۔

انہی اعمال کی وجہ سے ماں باپ اپنے بچوں کو خود سے اتنا دور کردیتے ہیں کہ ان کو اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ بچے ہر چھوٹی، بڑی باتوں کو کس حد تک دل پر لے لیتے ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US