جب بھی امریکہ میں نو منتخب صدر حلف اُٹھاتا ہے تو اِسے ایک ایسا اختیار سونپ دیا جاتا ہے جس سے وہ دنیا میں کبھی بھی کہیں بھی ہنگامی صورتحال کے پیشِ نظر ایٹمی دھماکے کر سکتا ہے! یہ کس طرح مملکن ہے ہم آپ کو بتاتے ہیں۔
امریکی صدر کو حلف اُٹھاتے ہی دنیا کے سب سے طاقتور شخص کے تمام اختیارات دیئے جاتے ہیں جس میں ایک 22 کلو وزنی سوٹ کیس بھی شامل ہے جس میں امریکہ کے ایٹمی ہتھیاروں کو کنٹرول کرنے والے خفیہ کوڈز موجود ہوتے ہیں۔
یہ سوٹ کیس ہر وقت امریکی صدر کے قریب رہتا ہے اور عام طور پر عہدہ چھوڑ کر جانے والا سابق صدر نو منتخب صدر کو اپنی موجودگی میں یہ سوٹ کیس پیش کرتا ہے، گزشتہ روز جوبائیڈن نے امریکی صدر کا حلف لیا مگر چونکہ ٹرمپ بائیڈن کی جیت کو تسلیم نہیں کرتے، اور نہ ہی انہوں نے حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی، اس لیے سوٹ کیس کی منتقلی ایک مسئلہ بن گئی تھی۔
سیاہ چمڑے کا یہ سوٹ کیس ’ایٹمی فٹ بال‘ کہلاتا ہے اور اس کے اندر المونیم کا مضبوط بکسہ ہوتا ہے جس میں ایٹمی ہتھیاروں کے کوڈ درج ہوتے ہیں، تاہم ان خفیہ کوڈز کی مدد سے امریکی صدر دنیا میں کہیں بھی ایٹمی حملہ کرنے کا حکم دے سکتا ہے۔
یہ سوٹ کیس بم پروف ہوتا ہے اور اس کے اندر ایک ایسا فون ہوتا ہے جس کی مواصلات کو کبھی جام نہیں کیا جا سکتا، اس کا مقصد یہ ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتِ حال میں امریکی صدر پینٹاگون کے ساتھ رابطے میں رہ سکتا ہے۔
تاہم اس سوٹ کیس کی ٹرمپ سے جو بائیڈن تک منتقلی کچھ اس طرح کی گئی کہ امریکی محکمۂ دفاع نے ایسا پلان بنایا کہ ٹرمپ شریک نہ بھی ہوں تو اختیارات ان سے لے کر جو بائیڈن کو دے دیئے جائیں۔
امریکی محکمۂ دفاع نے اس مقصد کی خاطر پہلے سے ہی تیاری کر رکھی تھی، میڈیا پر آنے والی اطلاعات کے مطابق امریکی محکمۂ دفاع کے پاس اس قسم کا ایک سوٹ کیس نہیں، بلکہ تین سوٹ کیس ہیں۔
ایک سوٹ کیس 20 جنوری کی صبح ٹرمپ کے ساتھ فلوریڈا روانہ کیا گیا، لیکن اس کا الیکٹرانک سسٹم دن کو ٹھیک 11 بج کر 59 منٹ اور 59 سیکنڈ پر ناکارہ کر دیا گیا۔
عین اسی وقت واشنگٹن میں ٹرمپ کے ملٹری ایڈ نے نئے صدر جو بائیڈن کے ملٹری ایڈ کو اسی قسم کا ایک اور سوٹ کیس کیا جو ٹھیک 12 بجے سےکام کرنا شروع ہوا اور یوں سوٹ کیس کی منتقلی عمل میں لائی گئی۔
تاہم ا س کے بعد ایک فوجی عہدے دار ٹرمپ کا سوٹ کیس لے کر واشنگٹن واپس آیا اور اِسے نئی انتظامیہ کے حوالے کر دیا۔
واضح رہے کہ یہ سوٹ کیس کوئی معمولی موٹ کیس نہیں بلکہ اس سے امریکہ کے صدر کو کسی بھی ہنگامی صورتحال میں دنیا کے کسی بھی کو نے پر اٹمی بم گرانے کی اجازت ہوتی ہیں جس سے منٹوں میں ہدف کو تباہ کیا جا سکتا ہے یہی وجہ ہے کہ امریکی صدر کو دنیا کے سب سے طاقتور ترین انسان کہا جاتا ہے۔