شوہر کے انتقال کے بعد پنکچر کی دکان میں آئی تو لوگ عجیب نظروں سے دیکھتے تھے میں 2 ماہ تک روتی رہی لیکن پھر ۔۔۔ 8 بیٹیوں کی بہادر ماں کی کہانی

image

گھر سنبھالنے کے لئے خواتین ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے تیار ہو جاتی ہیں اس کے لئے چاہے انہیں گھر سے باہر جا کر کام کرنا پڑے یا پھر گھر کے اندر، عورت کبھی گھبراتی نہیں ہے۔ کچھ ایسی ہی کہانی ہے پنجاب سے تعلق رکھنے والی خاتون شازیہ کی۔

شازیہ اکرام مانیکا کون ہیں؟

شازیہ اکرام مانیکا کا تعلق پنجاب سے ہے، ان کے شوہر کا انتقال 2 سال قبل ہوا تھا اور ان کی کفالت کرنے والا کوئی نہ تھا، شازیہ کی 8 بیٹیاں ہیں اور گھر میں کمانے والا صرف ایک ان کا شوہر عابد علی اکرام مانیکا تھے جن کا انتقال ہوگیا تھا، شازیہ کے مطابق:

'' میں نے عدت میں ہی یہ فیصلہ کرلیا تھا کہ مجھے اپنی بچیوں کے لئے خود ہی اپنے شوہر کی طرح کام کرنا پڑے گا، کیونکہ کوئی کسی مدد نہیں کرتا، کوئی کھانے کو نہیں دیتا، ہمیں بھی کسی نے سہارا نہ دیا، عدت کے 3 ماہ بھی جیسے گزارے وہ میں اور میری بچیاں جانتی ہیں، کیونکہ جب میرے شوہر کا انتقال ہوا ان کی جیب میں صرف 1 ہزار روپے تھے اور وہ 1 ہزار روپے ہی تھے جو میرے پاس تھے اور کھانے والے ہم 9 لوگ، خدا کا شکر ہے کہ اس نے مجھے اتنی ہمت دی کہ میں نے اپنی بچیوں کے لئے گھر چلانے سے متعلق سوچا اور یہ فیصلہ کیا کہ شوہر کی ٹائر پنکچر کی دکان اب میں خود ہی چلاؤں گی، مجھے کسی سے مانگ کر کھانا اچھا نہیں لگتا اور نہ کسی نے مجھے اور میری بیٹیوں کو کچھ بھی دیا۔ لوگوں نے دن رات تنقید کا نشانہ بنایا، میرے سسرال والوں نے مجھ سے اور میری بچیوں سے تعلق ختم کرلیا، میرے بھائی بہنوں نے مجھے حوصلہ دیا اور عدت کے فوراً بعد سے اپنے شوہر کی پنکچر کی دکان پر آ کر بیٹھتی ہوں۔

کام کرنے والے 4 بندے ہیں میرے پاس میں ان کا ہاتھ بھی بٹا دیتی ہوں، لوگ مجھے دیکھ کر باتیں بناتے ہیں مگر میرے یہ ورکرز اور بیٹیاں میرا ساتھ دیتی ہیں۔

شازیہ کا پیغام: ان کا کہنا ہے کہ: '' ایک عورت جو چاہے وہ کر سکتی ہے، میں ایک گھریلو عورت تھی مگر شوہر کے بعد اپنے گھر کا نظام چلانے کا صرف یہی راستہ تھا میرے پاس اس لئے وہ عورتیں جو یہ سمجھتی ہیں کہ وہ کچھ نہیں کر سکتی ہیں تو ان کو چاہیئے کہ اپنی سوچ بدلیں، زمانے کو اپنے حساب سے چلائیں، خدا بھی آپ کی مدد کرے گا۔ ''


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US