پاکستان میں اکثر خواتین عبایا پہن کا موٹر سائیکل پر سفر کرتی نظر آتی ہیں، لیکن بعض اوقات اس قدر بڑے حادثے کا شکار ہو جاتی ہیں کہ ہم سوچ بھی نہیں سکتے، اگر عبایا ٹائر میں آ جائے تو خواتین کا گلا دبنے کا خدشہ ہوتا ہے، ایسے بہت سے واقعات ہم اکثر و بیشتر سڑکوں پر دیکھتے ہیں۔
کبھی ٹائر میں ڈوپٹے کا پلّو پھنس جاتا ہے تو کبھی عبایا ہی موٹر سائیکل کی چین میں آ جاتا ہے، ضرورت اِس بات کی ہے کہ خواتین کو کوئی ایسا طریقہ بتایا جائے جس کو اختیار کر کے وہ بڑے حادثے سے بچ سکیں، تو آج ہم آپ کو چند ایسے ہی طریقے بتانے والے ہیں جو آپ کے لئے مددگار ثابت ہوں گے۔
ایسے طریقے جن کو اختیار کر کے عبایا پہنّنے والی خواتین حادثات سے بچ سکتی ہیں
• پیروں کو جما کر بیٹھیں
خواتین اکثر بچوں کو گود میں لیے بائیک پر سوار ہوئی نظر آتی ہیں تاہم وہ بچوں کو سنبھالنے کی فکر میں خود اپنے پاؤں جما کر ہی نہیں بیٹھتی بلکہ بچے کو مضبوطی سے پکڑنے کی کوشش میں رہتی ہیں، اس ہی وجہ سے وہ اپنا ڈوپٹہ یا عبایا بھی سنبھالنا بھول جاتی ہیں تاہم انہیں پاؤں جما کر بائیک پر بیٹھنا چاہیئے۔
• عبائے میں گِرہیں لگا لیں
اگر آپ کا عبایا زیادہ لمبا چوڑا (جو کہ آج کل فیشن میں ہے) ہے تو آپ اس میں گِرہیں لگا لیں، یعنی اس کا جو حصہ لٹک رہا ہو اُس کو ساتھ والے حصے سے گِرہ لگا کر باندھ لیں، اس سے آپ کا عبایا لٹکے گا نہیں اور ٹائر یا چین میں پھنسنے سے بچ جائےگا۔
• اپنے ڈوپٹے یا عبائے کو اپنے نیچے دبا کر بیٹھیں
اگر آپ آسان طریقہ چاہتی ہیں تو اپنے ڈوپٹے یا اگر عبایا لمبا ہے تو عبائے کو نیچے سے تھوڑا اُٹھا کر اپنے نیچے دبا کر بیٹھ جائیں، یہ سُن کر عجیب ضرور لگ رہا ہوگا مگر جب آپ یہ طریقہ اپنائیں گی تو بلکل بھی عجیب نہیں لگے گا کیوںکہ ایسا کرنے سے آپ کسی ناخشگوار حادثے سے محفوظ رہ سکیں گی۔
• عبائے کو ہاتھ میں مضبوطی سے پکڑ لیں
آخر میں وہی روایتی طریقہ ہے کہ آپ اپنا عبایا پکڑ لیں مگر خیال رہے کہ اس پر آپ کی گرفت مضبوط ہو یعنی آپ اِسے مضبوطی سے پکڑیں اور اس کو ڈھیلا چھوڑنے کی غلطی نہ کریں ورنہ کوئیی بھی بڑا حادثہ پیش آ سکتا ہے۔
تو دوستوں یہ تھے چند اہم طریقے جن کو اختیار کر کے آپ موٹر سائیکل پر عبایا پہن کر بھی بے فکر ہو کر سفر کر سکتی ہیں، اُمید ہے آپ کو یہ طریقے پسند آئے ہوں گے اور یہ آپ کے لئے سفر میں مددگار بھی ثابت ہوں گے۔
اگر آپ موٹر سائیکل پر عبایا پہن کر سفر کرنے کے مزید اچھے طریقے بتا سکتے ہیں تو ابھی ہماری ویب کے فیس بُک پیج پر جائیں اور کمنٹ کر کے ہمیں ضرور بتائیں۔