علی خامنہ ای کی آخری رسومات: مشہد میں امام رضا کا روضہ شیعہ مسلک کے لیے مقدس کیوں؟

ایرانی حکام نے کہا ہے کہ سابق رہبر اعلی آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین اُن کی ’وصیت‘ اور ’رشتہ داروں کی تجویز‘ کے مطابق مشہد میں امام رضا کے مزار پر ہو گی۔
امام رضا کا مزار
Getty Images
آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین اُن کی ’وصیت‘ اور ’رشتہ داروں کی تجویز‘ کے مطابق مشہد میں امام رضا کے مزار پر ہو گی

ایران کے سابق رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے لیے دارالحکومت تہران میں 6 جولائی (منگل) کو عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔

ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے کہا ہے کہ اس تعطیل کا مقصد ’ایران کے سابق رہنما کے سوگواروں کی دارالحکومت سے واپسی کو آسان بنانا‘ ہے۔

ان کے مطابق جمعرات کے روز پورے ایران میں یومِ سوگ بھی منایا جائے گا۔ علی خامنہ ای کی تدفین 8 جولائی (جمعرات) کو مشہد میں کی جائے گی۔

سرکاری شیڈول کے مطابق علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین کی تقاریب چار سے آٹھ جولائی کے درمیان تہران، قم اور مشہد میں منعقد ہوں گی جبکہ عراق کے شہروں بغداد، کاظمین، کربلا اور نجف میں بھی تعزیتی تقریبات کا اہتمام کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ علی خامنہ ای امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر فضائی حملوں کے ابتدائی گھنٹوں میں اس وقت مارے گئے تھے جب ان کی رہائش گاہ اور دفتر کو نشانہ بنایا گیا تھا تاہم تاحال ان کی تدفین نہیں کی گئی۔

تہران بلدیہ میں ثقافتی و سماجی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ کا کہنا ہے کہ ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ کی الوداعی تقریب تہران میں کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہے گی جس کے بعد نماز جنازہ ادا کی جائے گی اور تدفین ہو گی۔

انھوں نے کہا کہ اس موقع پر ’تہران میں ڈیڑھ تا دو کروڑ سے زیادہ افراد کی متوقع شرکت کے پیش نظر تیاریاں کی جا رہی ہیں۔‘

اُن کے مطابق علی خامنہ ای کی تہران کے بعد قم اور مشہد میں بھی نماز جنازہ ادا کی جائے گی۔

توکلی زادہ نے کہا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین اُن کی ’وصیت‘ اور ’رشتہ داروں کی تجویز‘ کے مطابق مشہد میں امام رضا کے مزار پر ہو گی۔

تہران کے نائب میئر کے مطابق توقع ہے کہ پاکستان، افغانستان، انڈیا، بنگلہ دیش، کشمیر اور اسلامی دنیا کے دیگر ممالک سے ’عزادار‘ اس موقع پر مشہد کا رُخ کریں گے۔

علی خامنہ ای
Getty Images
علی خامنہ ای امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر فضائی حملوں کے ابتدائی گھنٹوں میں مارے گئے تھے

مشہد کی اہمیت

مشہد اور قُم ایران کے دو ایسے شہر ہیں جنھیں شیعہ مسلک میں مکّہ، مدینہ، نجف اور کربلا کے بعد اہم ترین زیارات تصور کیا جاتا ہے اور یہاں صدیوں سے سال بھر ساری دنیا سے آنے والے زائرین کا ایک تانتا بندھا رہتا ہے۔ ایک سرکاری اندازے کے مطابق سال بھر میں دو کروڑ سے زیادہ زائرین مشہدِ مقدس میں آتے ہیں۔

تہران سے گھنٹے سوا گھنٹے کی پرواز کے بعد آپ مشہد پہنچ جاتے ہیں۔ مشہد میں امام رضا کے روضے کا 50 میٹر قطر کا سنہرا گنبد شہر میں داخل ہوتے ہی بہت دور سے نظر آ جاتا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار مہ پارہ صفدر نے سنہ 2005 میں یہاں کا دورہ کیا تھا۔ انھوں نے اس حوالے سے اپنی تحریر میں لکھا تھا کہ نہایت وسیع و عریض رقبے پر پھیلا ہوا 203 ہجری کا امام رضا کا یہ حرم شہر در شہر کی مثال ہے۔ بس یوں سمجھ لیجیے جیسے اٹلی میں ویٹیکن ہے۔

مشہد کا مطلب ہے جائے مدفن شہید اور اسی مناسبت سے اسے مشہد الرضا کہا جاتا ہے۔

مہ پارہ صفدر کے مطابق رضا ہسپتال، رضا لائبریری، رضا بازار، رضا میوزیم، غرض یہ کہ سچ پوچھیے تو مشہد میں مجھے یوں لگ رہا تھا جیسے زندگی امام رضا کے گرد گھومتی ہے۔ یہ پورا شہر حرم کے چاروں اطراف میں تعمیر ہوا ہے۔

یہاں کے ایک استاد محمد صادق نجفی نے مہ پارہ صفدر کو بتایا تھا کہ ایرانیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ بارہ سو برس قبل مشہد ایک چھوٹا سا گاؤں تھا اور دراصل یہ امام رضا کی یہاں شہادت اور قبر کی خیر و برکت اور دین ہے کہ اب یہ ایران میں تہران کے بعد دوسرے بڑے شہر بن چکا جو ایران کی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

اقتصادیات میں اس کی اہمیت اس رُخ سے اہم ہے کہ زائرین اور سیاحوں کی آمد یہاں کی بہت بڑی صنعت ہے، جس کی وجہ سے ایران کی مجموعی قومی پیداوار میں مشہد کی آمدنی کا دوسرا بڑا حصہ ہے۔

ایران آنے والے نوّے فیصد غیر ملکیوں کی ایران آمد کا مقصد روضہ امام کی زیارت ہوتا ہے۔ مشہد میں حرم کے علاقے میں رات نہیں ہوتی۔ بازار رات بھر کھلے رہتے ہیں اور خریداری کی غرض سے زائرین اور سیاحوں کا ہجوم رہتا ہے۔

حرم امام کے ارد گرد سینکڑوں کی تعداد میں ہوٹل اور سرائے ہیں جن میں تیس ہزار زائرین بیک وقت ٹھہر سکتے ہیں۔ مگر سال بھر یہاں گنجائش سے زائد زائرین مقیم ہوتے ہیں جبکہ چھٹیوں میں رش زیادہ ہونے کے باعث اکثر ایرانی اپنے کیمپ ساتھ لاتے ہیں۔

مشہد میں امامِ رضا کے روضے کی صدیوں پرانی اور طویل تاریخ ہے۔ کوئی ساٹھ ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا یہ ایک وسیع و عریض کمپلیکس ہے جس کی توسیع اور آرائش کا کام ہر دور حکومت میں ہوتا رہا۔

سرکاری شیڈول کے مطابق علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین کی تقاریب چار سے آٹھ جولائی کے درمیان تہران، قم اور مشہد میں منعقد ہوں گی
Getty Images
سرکاری شیڈول کے مطابق علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین کی تقاریب چار سے آٹھ جولائی کے درمیان تہران، قم اور مشہد میں منعقد ہوں گی

یہیں دنیا کا وہ قرآن میوزیم ہے جس میں حضرت علی، امام حسین، امام حسن، امام زین العابدین اور امام رضا کے علاوہ اہلِ تشیع کے دیگر آئمہ کے ہاتھ کے لکھے ہوئے قرآن کے نسخوں کی سب سے بڑی تعداد موجود ہے۔ جسے اہل ایران نے بہت ہی حفاظت، محبت اور بڑی عقیدت سے سنوار کر رکھا ہوا ہے۔

سکیورٹی چیکنگ کے مراحل سے گزرنے کے بعد جب حرمِ امامِ رضا میں داخل ہوں تو وہاں موجود دنیا کے مختلف ممالک سے آئے ہوئے زائرین اپنے اپنے انداز میں دُعا و مناجات اور ماتم و نوحہ خوانی اور با آواز بلند گریہ و زاری میں مصروف نظر آتے ہیں، جس میں ہر عمر کے زائرین شامل تھے۔

مہ پارہ صفدر کے مطابق کچھ لوگوں کے لباس دیکھ کر انھیں لگا کہ ان میں کئی تو نو بیاہتے جوڑے تھے، جس کی تصدیق بعد میں ان سے بات کر کے ہوئی کہ وہ اپنی نئی زندگی کا آغاز حرم کی زیارت سے کرنا چاہتے ہیں۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US