وینزویلا کے دارالحکومت کراکس میں منگل کی شام ایک غیر معمولی منظر نے شہریوں کو حیران کر دیا، جب اچانک پورا آسمان گہرے سرخ اور نارنجی رنگ میں ڈوب گیا۔ آسمان پر چھائے نچلے بادل بھی سرخی مائل دکھائی دینے لگے، جس سے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے افق آگ کی لپیٹ میں ہو۔ اس غیر معمولی منظر نے لوگوں میں خوف اور تجسس دونوں کو جنم دیا۔
اس دوران شہریوں نے اس حیرت انگیز منظر کی ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر شیئر کرنا شروع کر دیں، جو دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہو گئیں۔ متعدد ویڈیوز میں بادل اس طرح چمکتے دکھائی دے رہے تھے جیسے ان میں آگ بھڑک رہی ہو، جس کے باعث مختلف قیاس آرائیاں بھی سامنے آنے لگیں۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب وینزویلا حالیہ زلزلوں کے اثرات سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ 24 جون کو آنے والے دو طاقتور زلزلوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی تھی اور ہزاروں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ اس المناک پس منظر میں سرخ آسمان کا منظر دیکھ کر بہت سے لوگوں نے اسے آنے والی کسی نئی آفت کی علامت سمجھ لیا۔
سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے اس غیر معمولی منظر کو روحانی اور مذہبی زاویے سے دیکھتے ہوئے اسے قیامت کی نشانی یا کسی بڑے امتحان کا اشارہ قرار دیا۔ بعض نے عوام کو توبہ اور دعا کی تلقین کی، جبکہ کچھ افراد نے اسے شہر پر منڈلاتے خطرے کی علامت قرار دیا۔
تاہم ماہرین موسمیات نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے اس کی سائنسی وضاحت پیش کی۔ ان کے مطابق یہ ایک قدرتی مظہر ہے جسے ریلے اسکیٹرنگ یا کاندیلازو کہا جاتا ہے۔ اس عمل میں صحارا کے صحرا سے اڑنے والی باریک گرد فضا میں پھیل جاتی ہے، جو نیلی روشنی کو منتشر کر دیتی ہے، جبکہ سرخ اور نارنجی شعاعیں نسبتاً آسانی سے گزر جاتی ہیں، جس کے نتیجے میں آسمان اس غیر معمولی رنگ میں دکھائی دیتا ہے۔
اگرچہ ماہرین نے اس واقعے کو ایک قدرتی عمل قرار دیا ہے، لیکن حالیہ زلزلوں سے متاثرہ شہریوں کے لیے اس منظر کو معمول کا واقعہ سمجھنا آسان نہیں تھا۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے کے پیچھے خون کی مانند سرخ آسمان دکھائی دے رہا تھا، جبکہ امدادی ٹیمیں اب بھی متاثرہ علاقوں میں زندہ بچ جانے والوں کی تلاش میں مصروف تھیں۔
ایک صارف نے اپنے تاثرات میں لکھا کہ سائنسی اعتبار سے اس منظر کی وضاحت ضرور موجود ہے، لیکن زلزلوں، تباہ حال عمارتوں، غم زدہ خاندانوں اور لاپتہ افراد کے درمیان اس خون آلود افق کو دیکھ کر اس کے روحانی اثرات کو نظر انداز کرنا مشکل محسوس ہوتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صحارا سے اٹھنے والی یہی گرد مغربی سمت سفر کرتے ہوئے آئندہ چند روز میں امریکہ کی ریاست فلوریڈا تک بھی پہنچ سکتی ہے۔ فی الحال اسی گرد نے وینزویلا کے آسمان کو سرخ اور نارنجی رنگوں میں رنگ دیا، جس نے جہاں قدرت کے ایک منفرد منظر کو نمایاں کیا، وہیں حالیہ زلزلوں کے باعث خوفزدہ عوام کے خدشات میں بھی اضافہ کردیا۔