بہت سے بچے ایسے ہوتے ہیں جو اپنے والدین کا کہنا نہیں مانتے ، ان کی باتوں اور احکامات کو نظر انداز کر دیتے ہیں، یا اگر والدین انہیں ڈانتے ہیں تو چڑ چڑا پن ظاہر کرتے ہیں اور پلٹ کر جواب بھی دیتے ہیں۔
اس حولاے سے معروف پروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ ہر بچے کے اندر اس کا فطری رجحان مختلف ہوتا ہے۔ ڈاکٹر جاوید اقبال نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ والدین کا یہ خیال ہوتا ہے کہ بچوں کو جنک فوڈ نہیں کھانا چاہیے بلکہ پھل اور سبزی کھانے کا کہنا چاہیئے ، اور اکثر مائیں کہتی ہیں کہ میرا بچہ پھل نہیں کھاتا۔ جاوید اقبال نے بتایا کہ جب بچے کو سالن میں کدو ڈال کر دیا جائے اور وہ کھانے سے انکار کر دے تو والدین بار بار یہ کہتے ہیں کہ سبزی کھانی چاہیئے۔ جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ والدین یہ سمجھتے ہیں کہ بچہ منع کر کے زد کر رہا ہے جبکہ دیکھا جائے تو والدین زد کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ والدین نے اپنے ذہنوں میں ویلیو سسٹم بنایا ہوتا ہے بچے کو ہمارے حساب سے ہی چلنا چاہیے۔انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہر گھر کے اندر کچھ قوانین اور اصول بنے ہونے چاہئیں۔ اس کی مثال ڈاکٹر جاوید نے اس طرح دی کہ اگر ایک گھر میں سب دس بجے سوجاتے ہیں اور والدین اس بات کو واضح کردیں کہ سب جلدی سوئیں تو ایک یا ٥ سال کا بچہ دیکھے گا کہ گھر میں سب جلدی سوجاتے ہیں تو وہ بھی اس عادت کو اپنانے لگ جائیں گے۔
ڈاکٹر فیصل نے بتایا کہ ایسا بھی نہیں ہونا چاہیے کہ بچوں کو کھلی چھوٹ دے دی جائے کہ آزادانہ اپنا ہر کام کرے۔ بلکہ والدین کو ایسے اصول و ضوابط قائم کرنے چاہئیں کہ مثبت ماحول میں بچے کو پابندیوں سے آزاد کیا جائے۔ اس کے علاوہ ان کا کہنا تھا کہ بچوں پر بہت زیادہ سختی بھی نہیں کرنی چاہئیں کہ وہ ذہنی دباؤ کا شکار ہو جائیں۔
بچوں کی تربیت میں اہم چیز اچھی عادات کا پایا جانا اور بری عادات سے بچانا بھی شامل ہے۔اگر بچہ کوئی غلطی کررہا ہے تو والدین کوچاہیے کہ پیار سے اسے سمجھائیں اسے اس برائی کے نقصانات اور گناہ سے آگاہ کریں۔ ممکن ہے ایسا کرنے سے بچہ باز آجائے اگر پھر بھی وہ غلط عادت نہیں چھوڑتا تو ڈانٹ ڈپٹ کے ذریعے اسکی وہ غلط عادت چھڑوانے کی کوشش کریں ضرورت پڑنے پر بچوں کو صلاح کی نیت سے مارا بھی جاسکتا ہے لیکن مقصد اصلاح کرنا ہی ہو۔