وہ وقت کسی بھی لڑکی کے لیے تکلیف کا باعث ہوتا ہے جب اسے کئی رشتے والے دیکھنے آئیں اور لڑکی پسند نہ آئے جس میں عجیت اقسام کی وجوہات شامل ہوتی ہیں۔ اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ وہ وجوہات کونسی ہیں تو وہ یہ ہوتی ہیں کہ لڑکی موٹی ہے، لڑکی دبلی بہت ہے لڑکی کی ناک سیدھی نہیں بال خراب ہیں وغیرہ وغیرہ۔ اور اس طرح لڑکی کی توہین ہوتی ہے۔
آج ایک ایسی ہی خاتون کی کہانی سنانے جا رہے ہیں جن کی شادی تو ہوچکی ہے مگر جب انہوں نے اپنی شادی سے قبل انہیں دیکھنے آنے والے خاندانوں کی ناپسندیدگی کے بارے میں بتایا جسے جان کر کسی کو بھی غصہ آجائے مگر افسوس کے ساتھ ہمارے معاشرے کی حقیقت چھاایسی ہی ہے۔
خاتون کا نام راحت ہے جنہوں نے بتایا کہ شادی سے پہلے انہیں چالیس لوگ دیکھنے آئے اور کسی نے بھی رشتے کی حامی نہ بھری جس سے انہیں تکلیف ہوئی۔ انہوں نے اپنے والد سے کہا کہ اس معاملے کو روکا جائے۔ بس ایک فون آتا تھا یا پھر کئی رشتہ کروانے ہوتے تھے۔انہوں نے بتایا کہ مجھے بس اتنا بتا دیا جاتا تھا کہ لڑکے والے آرہے ہیں اور باقی باتیں بعد میں ہوں گی۔پھر یوں ہوتا تھا کہ لڑکے والے آتے تھے مجھے دیکھتے تھے اور انکار کر کے چلے جاتے تھے۔
راحت نے بتایا کہ ان چالیس لوگوں میں سے بمشکل دو سے تین لڑکوں کو جج کیا ہوگا میرے والدین نے۔ جس کی مثال انہوں نے ایسے دی جیسے کوئی ٹیم آئی اور اکیلے کھیلا اور چلی گئی۔
خاتون کا کہنا تھا کہ لڑکا جیسا بھی ہو چلتا ہے لیکن لڑکی کو آرام سے منع کردیا جاتا ہے۔ وہ آنکھ اور ناک چاہئے جو انہیں پسند ہے لیکن لڑکیاں ٹیلر میڈ نہیں ہوتیں۔ ان کہا کہنا تھا کہ اگر آپ کو لڑکیا ٹیلر میڈ چاہئیں تو لڑکے بھی ٹیلر میڈ ہونے چاہئیں۔
راحت نے کہا کہ جیسے جیسے فیملیز آپ کو دیکھنے آتی ہیں اور رشتے سے انکار کر کے چلی جاتی ہے تو لڑکی کی عزت نفس ختم ہوجاتی ہے اور خود اعتمادی بھی ختم ہوجاتی ہے۔
راحت نے مزید اپنی کیا داستان سنائی جانیں اس ویڈیو میں۔
ویڈیو بشکریہ بی بی سی۔