آرٹس کونسل کراچی کی جانب سے عالمی شہرت یافتہ مرثیہ نگار، نوحہ نگار ریحان اعظمی کی یاد میں پروگرام کا انعقاد

image

تفصیلات کے مطابق آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی نے عالمی شہرت یافتہ مرثیہ نگار اور نوحہ نگار ریحان اعظمی کی یاد میں پروگرام کا انعقاد کیا جس میں معروف شخصیات نے شرکت کی۔

عالمی شہرت یافتہ مرثیہ اور نوحہ نگار ریحان اعظمی ہر دم صنفِ سخن میں لکھنے کی صلاحیت رکھتے تھے، اس موقع پر ممتاز دانشور عقیل عباس جعفری نے کہا کہ ریحان اعظمی آج بھی سب کے دلوں میں زندہ ہیں۔

ریحان اعظمی کی یاد میں رکھی گئی تقریب میں صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اُن کا دنیا سے چلے جانا ہمارا ذاتی نقصان ہے۔

پروگرام میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد موجود تھی، تاہم اس موقع پر ریحان اعظمی کی یادیں تازہ کرتے ہوئے ممتاز دانشور عقیل عباس جعفری نے کہا کہ اُنہیں پاکستان ٹیلی ویژن میں خصوصی پذیرائی حاصل ہوئی انہوں نے متعدد نغمات تحریر کیے جنہوں نے قبولِ عام کی سند پائی اسی دوران ریحان اعظمی نے مذہبی شاعری کا آغاز کیا۔

یاد رہے کہ ریحان اعظمی کے لکھے ہوئے اور ندیم سرور کے پڑھے ہوئے نوحوں نے قبولِ عام کے نئے ریکارڈ قائم کیے۔

ریحان اعظمی کو یاد کرتے ہوئے اینکر پرسن علی رضا نے کہا کہ ریحان اعظمی صرف ایک شخص نہیں ایک انجمن تھا، ریحان کے بارے میں جتنی گفتگو کی جائے کم ہے، میں ریحان اعظمی کے بچوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ یاد رکھنا ریحان اُس وقت تک زندہ ہے کہ جب تک غم حسین ؑ زندہ ہے۔

اس موقع پر عباس نقوی نے کہا کہ دنیا بھر میں جہاں جہاں اردو بولی جاتی ہے وہاں وہاں ریحان اعظمی کا نام اور ریحان اعظمی کا کام بہت اچھی طرح پہچانا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ آرٹس کونسل کی یہ ایک اچھی روایت ہے کہ وہ جانے والوں کو مل بیٹھ کر یاد کرنے کے لئے اعزازی پروگرام کا انعقاد کرتا ہے۔

شاعر اور فنکار دنیا سے رخصت ہو کر بھی اپنے فن کے ذریعے ہمیشہ زندہ رہتے ہیں، ریحان اعظمی نے اپنی شاعری کی ابتداء گیت نگاری اور غزل سے کی اور ابتداء میں انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن کیلئے بہت سے مقبول گیت لکھے جو جب نشر ہوئے تو انہوں نے لوگوں کے دلوں میں گھر کر لیا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US