برطانیہ میں حالیہ شدید گرمی کے باعث بعض مقامات پر سڑکوں کا مواد نرم ہونے اور پگھلنے کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جس کے بعد یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ جنوبی ایشیا جیسے خطوں میں، جہاں درجہ حرارت اکثر 45 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر جاتا ہے، سڑکیں اس طرح کیوں نہیں پگھلتیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹ میں ماہرین کی شامل کی گئی رائے کے مطابق، اس کی وجہ تعمیراتی معیار کا فرق نہیں بلکہ دونوں خطوں کے موسم کے لحاظ سے سڑکوں کی تعمیر میں استعمال ہونے والا مختلف مواد ہے۔
برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک میں سڑکیں زیادہ تر سخت سردی، برف باری اور جمنے والے موسم کو مدنظر رکھ کر بنائی جاتی ہیں، جس کے لیے نسبتاً نرم تارکول استعمال کیا جاتا ہے تاکہ سردی میں سڑکوں پر دراڑیں نہ پڑیں۔ تاہم، 40 ڈگری یا اس سے زیادہ درجہ حرارت ہونے پر یہی مواد نرم ہو کر بھاری ٹریفک کے دباؤ سے پگھلنے لگتا ہے۔
اس کے برعکس، ایشیائی ممالک میں سڑکوں کی تیاری شدید گرمی، تیز دھوپ اور مسلسل بھاری ٹریفک کے دباؤ کو برداشت کرنے کے لیے کی جاتی ہے۔ یہاں زیادہ سخت تارکول اور بڑے پتھروں پر مشتمل مواد استعمال کیا جاتا ہے، جو انتہائی زیادہ درجہ حرارت میں بھی سڑکوں کی مضبوطی کو برقرار رکھتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فرق تعمیراتی خرابی نہیں بلکہ دونوں خطوں کی موسمی ضروریات کے مطابق اختیار کی گئی الگ الگ حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔