بابر، اورنگزیب، ٹیپو سلطان یا اُسامہ۔۔۔ سیف کرینہ کے دوسرے بیٹے کا نام کیا رکھیں مداحوں کی نئی بحث چھڑ گئی

image

بھارت میں سوشل میڈیا پر نیا ٹرینڈ، کرینہ کپور خان، سیف علی خان، تیمور علی خان، بابر، اورنگزیب، اوسامہ، ٹیپو سلطان کے ہیش ٹیگ سوشل میڈیا پر چھا گئے۔

انڈیا میں آج سوشل میڈیا پر تاریخی مسلمان جنگوؤں کے نام ٹرینڈز کرتے نظر آئے آ رہے ہیں جن میں بابر، اورنگزیب، اسامہ، ٹیپو سلطان وغیرہ شامل ہیں، ان کی وجہ کرینہ کپور خان، سیف علی خان کے دوسرے بیٹے کی پیدائش ہے۔

معروف بالی وڈ اداکارہ کرینہ کپور اور سیف علی خان کے ہاں دوسرے بیٹے کی پیدائش کے بعد بچے کا نام کیا رکھا جائے سوشل میڈیا پر بھارتی صارفین مسلمان جنگوؤں کے نام انہیں طنزاً تجویز کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ جب 2016 میں کرینہ اور سیف کے پہلے بچے کی پیدائش ہوئی تھی اور انہوں نے اپنے بیٹے کا نام تیمور رکھا تھا تب بھی سوشل میڈیا پر شدید بحث ہوئی تھی، تیمور نام تاریخی طور پر تیمور لنگ سے منسلک ہے جس نے اپنے زمانے میں بھارت کے ایک حصے پر چڑھائی کی تھی دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ بھارتی لوگ مسلمانوں سے بے حد نفرت کرتے ہیں۔

پٹودی تیموری نامی ایک اکاؤنٹ سے لکھا گیا ہے کہ کرینہ کپور اور سیف علی خان دوسری اولاد نرینہ سے نوازے گئے ہیں، میرا بھائی بابر یا اورنگزیب آیا ہے۔

ٹیم ایگزیکیوٹر ٹوئٹر ہینڈل کے سلطان نے لکھا ہے کہ 'سنگھی لوگ اورنگزیب ٹرینڈ کرا رہے ہیں کیونکہ سیف علی خان اور کرینہ کپور کے ہاں دوسرا بیٹا پیدا ہوا ہے اور ان کے خیال سے اس کا نام مغل بادشاہ اورنگزیب کے نام پر رکھا جائے گا' اس کے ساتھ انھوں نے اسلام و فوبیا ہیش ٹیگ کا استعمال کیا ہے۔

ٹوئٹر پر چند ٹوئٹس دیکھ کر یہ اندازہ ہو جاتا ہے کہ ابھی جس بچے نے دنیا میں آنکھ ہی کھولی ہے اس کے لیے کس قسم کی باتیں ہو رہی ہیں اور معصوم بچے کی آڑ میں بھی مسلمانوں کے لئے نفرت ظاہر کی جا رہی ہے۔

ایک صارف نے ٹوئٹ کیا کہ ''اس نئے دہشت گرد کا نام کیا ہوگا؟ اسامہ بن لادن، اجمل قصاب، اورنگزیب، ٹیپو سلطان، یا پھر محمد غوری''۔

واضح رہے کہ انڈیا میں لو جہاد پر کئی ریاستوں میں قوانین بھی بنائے گئے ہیں اور ایسی بین مذہب شادی جس میں لڑکا مسلمان اور لڑکی ہندو ہو اس پر پابندی کے لئے بھی کوشش کی جاتی ہیں اور اس کے تحت کئی مقدمات بھی درج ہوئے ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US