ہار کی وجہ سے گلا بھی دب سکتا ہے ۔۔۔ اگر آپ بھی روزانہ زیور پہن کے سوتی ہیں تو فوراً چھوڑ دیں اور جانے اس کے 4 بڑے نقصان

image

بلاشہ تمام خواتین کو زیورات کا بہت شوق ہوتا ہے اور وہ اسے اپنے پاس ہر وقت سنھبال کر رکھتی ہیں جو یایقیناً ان کے دلوں کے بے حدقریب ہے صرف خواتین ہی نہیں بلکہ دنیا میں ایسے کئی مرد حضرات بھی موجود ہیں جنہیں زیورات زیب تن کرنے کا شوق ہوتا ہے۔

اگرچہ خواتین میں یہ عادت کافی عام ہوتی ہے کہ وہ سونے سے قبل زیورات نہیں اتارتیں بلکہ اسے پہن کر ہی سوجاتی ہیں جیسے کانوں کی بالیاں، گلے کا ہار اور انگوٹھی رات کے وقت آرام سے پہن کر سوجاتی ہیں۔ کیا وہ خواتین اس عمل کے نقصان سے واقف ہیں؟

اگر نہیں تو یہاں ہم اس حوالے سے آپ کو آگاہ کریں گے۔

* صبح سویرے نیند سے بیدار ہوکر اکثر خواتین اپنے ہاتھوں کی انگلیاں سوجی ہوئی محسوس کرتی ہوں گی۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کیونکہ، جب ہم کافی دیر تک لیٹے رہتے ہیں تو ہمارے ٹیشوز کے اندر سیال پیدا ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے ہاتھوں میں سوجن آجاتی ہے اور انگوٹھی نکالنا مشکل تر ہوجاتا ہے اور تکلیف الگ ہوتی ہے۔ تاہم اگر انگوٹھی انگلی میں پھنس جائے اور نہ نکل پائے تو صابن یا پھر تیل کے چند قطروں کو انگوٹھی والی جگہ پر ڈالیں اور پر کوشش کریں، اس طرح انگوٹھی باآسانی باہر آجائے گی اور سوجن کو ختم کرنے کے لیے سوجن والی جگہ برف لگائیں۔

* گلے کے ہار کے ساتھ سونے سے آپ کا آرام و سکون خطرے میں پڑ سکتا ہے خاص کر اس وقت جب آپ زیادہ کروٹیں بدلتی ہوں۔ اس کا نقصان یہ ہے کہ ہار کی زنجیریں آپ کے بالوں میں الجھ سکتی ہیں یا پھر ہار آپ کی گردن میں لپٹ کر آپ کی نیند میں خلل پیدا کرسکتا ہے۔ہاں البتہ لچکدار مواد سے بنی جیولری پہن کر سویا جا سکتا ہے۔

* اگر آپ اپنے زیورات کو درست طریقے سے صاف نہیں کرتیں،یہی زیورات جراثیم کے لئے بریڈنگ گراؤنڈ بن سکتے ہیں۔ کوشش کریں کہ روزانہ کی بنیاد پر انگوٹھی نکال کر اچھی طرح صاف کر کے پہنیں۔

*چند زیورات میں استعمال ہونے والی دھات، جیسے نکل، جلد کی الرجی کا سبب بن سکتی ہے اور آپ کی جلد میں خارش پیدا ہوسکتی ہے۔ تو اس کے لیے دو مفید آپشنز ہیں یا تو زیورات اتار کر سویا جائے یا پھر سونے اور چاندی کی دھات والے زیور پہن کر سونے میں کوئی حرج نہیں ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US