مقبوضہ کشمیر میں اگلو کی طرز پر برف سے بنایا گیا کیفے سیاحوں کی توجہ کا مرکز، دنیا بھر میں بےحد چرچے۔
چاروں جانب پہاڑ برف کی دوشالہ اوڑھے ہوئے اور برف سے بنا ہوا کیفے یہی نہیں بلکہ کیفے کے اندر موجود ہر شے برف سے تراشی ہوئی، یہ جگہ سوشل میڈیا پر بےحد مقبول ہو رہی ہے اور اِسے دیکھ کر ہی دِل چاہتا ہے کہ ابھی اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ یہاں کا رُخ کر لیا جائے۔
یہ منفرد کیفے کس نے اور کیسے بنایا؟
یہ مشہور اور منفرد کیفے مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے سید ویسم شاہ نے سوئٹرزلینڈ کی سیاحت کے دوران اِگلو کے آئیڈیا سے متاثر ہو کر بنایا، انہوں نے رواں سال ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے پیر پنجال کے گاؤں گلمرگ میں اپنے بیس ساتھیوں کے ساتھ دن رات کام کر کے پندرہ دن کی محنت سے ایک ایسا شاندار اگلو کیفے تعمیر کر دیا جس کی دھوم دنیا بھر میں مچ گئی ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں واقع گلمرگ سطح سمندر سے 2650 میٹر کی بلندی پر ہے، برف سے ڈھکا ہوا یہ علاقہ آئیس سکائینگ کے شوقین سیاحوں کی توجہ کا مرکز رہتا ہے۔
اس سال اس منفرد اور شاندار اگلو کیفے نے ناصرف عالمی صحافت میں جگہ بنائی بلکہ دنیا بھر کے سیاحوں کے ساتھ ساتھ دور دراز کے مقامی افراد کو بھی اپنی طرف مائل کرنے میں کامیاب رہا ہے۔
اگلو کیفے میں موجود ہر چیز برف سے بنی ہے
اس اِگلو کیفے میں تیرہ فٹ بلند چھت کے ساتھ 16 افراد کیلیئے لگائی گئی چار برفانی میزوں کے ساتھ یہ کشادہ اگلو کیفے گاہکوں کو صرف کافی یا کشمیری قہوہ ہی نہیں بلکہ بیش قیمت لزیز اور ذائقہ دار کھانے بھی پیش کرتا ہے۔
یہ میزیں اور کرسیاں برف سے تراشی گئی ہیں اور ان برف سے بنی کرسیوں پر نایاب بھیڑ کی کھال سے بنے میٹ بچھائے گئے ہیں جو اس کی خوبصورتی میں چار چاند لگاتے ہے۔
دوستوں اور سید ویسم شاہ کی دن رات کی محنت سے بنا یہ کیفے دنیا بھر میں بہت تیزی سے مقبول ہو رہا ہے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر اس کے بھرپور چرچے بھی کئے جا رہے ہیں، یہ دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے اور بہت سے سیاحت کے شوقین افراد نے اس جگہ کو اپنی اُس فہرست میں شامل کر لیا ہے جہاں وہ جلد آنا چاہتے ہیں۔