دلوں کو جھنجوڑ دینے والے موٹر وے زیادتی کیس، ملزمان کو سزائے موت کا فیصلہ سُنا دیا گیا، ملزمان جج سے معافیاں مانگنے لگے۔
تفصیلات کے مطابق موٹر وے زیادتی کیس کے ملزمان کو گزشتہ روز انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت کے ایڈمن جج ارشد حسین بھٹہ نے گزشتہ روز سزائے موت کا فیصلہ سُنایا جس کے بعد ملزمان نے رو رو کر معافیاں مانگنا شروع کر دیں۔
رپورٹ کے مطابق رات کے وقت خاتون کے ساتھ بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنانے والے سفاک مجرموں نے موت کا فیصلہ سُنتے ہی گلے لگ کر رونا شروع کر دیا اور جج کے آگے گڑگڑا کر معافی مانگنے لگے۔
تاہم عدالت نے مجرم شفقت اور عابد ملہی کو زیادتی کی دفعہ 376 کے تحت سزائے موت، 14،14 سال قید، پچاس ہزار روپے جرمانہ اور تمام جائیداد کو ضبط کرنے سمیت مزید پانچ پانچ سال قید کی سزا سنائی ہے۔
دونوں مجرمان کے خلاف مقدمے میں سات دفعات لگائی گئی تھیں جس کے تحت فیصلہ سنایا گیا ہے، مجرمان نے خاتون کو کھائی کی جانب اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا اور فرار ہو گئے تھے۔
زرائع کے مطابق فیصلہ سنائے جانے کے بعد دونوں مجرمان کو سزائے موت کی بیرک میں منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ سزا سنتے ہی دونوں سفاک دل مجرم ایک دوسرے کو گلے لگا کر روتے رہے اور جج کے سامنے معافیاں مانگتے رہے کہ وہ شرمندہ ہیں اور انہیں ایک موقع دیا جائے وہ زندگی میں کبھی دوبارہ ایسا جرم نہیں کریں گے، تاہم عدالت نے دونوں مجرمان کو الگ الگ کمروں میں منتقل کرنے کا حکم دے دیا۔
واضح رہے کہ اس مقدمے میں 37 گواہان کے بیان قلمبند کیے گئے ہیں جبکہ متاثر خاتون نے بھی اپنا بیان ریکارڈ کروایا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال نو اور دس ستمبر کی درمیانی شب کو یہ افسوسناک واقعہ گجرپورہ رنگ روڈ پر پیش آیا تھا جہاں مجرمان نے خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا جس کے بعد پولیس نے شفقت کو واقعہ کے پانچ روز بعد ڈوھونڈ کر حراست میں لے لیا جبکہ عابد ملہی کو ایک ماہ اور چار دن کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔