بری فوج کی کمان سنبھالنے کے بعد جنرل دھیرج سیٹھ نے بدھ کے روز ’وجے‘ کے عنوان سے ایک روڈ میپ پیش کیا، جس میں انھوں نے انڈین فوج کو ایسی ’ٹیکنالوجی سے لیس، مستقبل کے تقاضوں کے مطابق تیار اور کثیر شعبہ جاتی آپریشنز انجام دینے کے قابل فورس‘ میں تبدیل کرنے کا ویژن پیش کیا ہے۔
انڈیا کے 31ویں آرمی چیف جنرل دھیرج سیٹھ نے ایک ایسے وقت میں بری فوج کے سربراہ کا عہدہ سنبھالا ہے کہ جب ملک کو کئی داخلی اور خارجی چیلنجز درپیش ہیں۔
اس سے قبل اپریل میں وہ وائس چیف آف آرمی سٹاف کے عہدے پر فائز ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ وہ جنوبی کمان کے جنرل آفیسر کمانڈنگ اِن چیف کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔
جنرل سیٹھ نے جنرل اُپیندر دویدی کی جگہ ذمہ داری سنبھالی ہے۔ جنرل دویدی انڈین فوج میں 40 سال سے زائد عرصے تک خدمات انجام دینے کے بعد ریٹائر ہو گئے ہیں۔
بری فوج کی کمان سنبھالنے کے بعد جنرل دھیرج سیٹھ نے بدھ کے روز ’وجے‘ کے عنوان سے ایک روڈ میپ پیش کیا، جس میں انھوں نے انڈین فوج کو ایسی ’ٹیکنالوجی سے لیس، مستقبل کے تقاضوں کے مطابق تیار اور کثیر شعبہ جاتی آپریشنز انجام دینے کے قابل فورس‘ میں تبدیل کرنے کا ویژن پیش کیا ہے۔
یہ روڈ میپ وزیرِ دفاع کے ’تبدیلی کی دہائی‘ کے ویژن سے متاثر ہو کر تیار کیا گیا ہے۔
بری فوج کی قیادت کو ’عظیم فخر اور انکساری‘ کا لمحہ قرار دیتے ہوئے جنرل سیٹھ نے ’فرض، وقار اور نیشن فرسٹ‘ یعنی سب سے پہلے قوم کے اصولوں سے اپنی وابستگی کا اعادہ کیا اور وزیرِ اعظم اور وزیرِ دفاع کے ان پر اعتماد کا شکریہ ادا کیا۔
آرمی چیف نے انڈین فوج کو ’جنگی طور پر مکمل تیار اور آزمودہ فوج‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ابھرتے ہوئے سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
فوج کی کمان سنبھالنے کے بعد جنرل دھیرج نے انڈین فوج کی صلاحیتوں کا ذکر کیا’وجے‘ کا مطلب کیا ہے؟
روڈ میپ کی وضاحت کرتے ہوئے جنرل سیٹھ نے بتایا کہ وجے کا وی ’ویجیلینس‘ یعنی چوکس رہنے کا علمبردار ہے جس سے آپریشنل تیاری برقرار رکھنا اور سرحدوں پر مسلسل الرٹ رہنا ہے مراد ہے۔
آئی سے ’انویشن اور ٹرانسفارمیشن‘ یعنی جدت اور تبدیلی مراد ہے اور اس کا مقصد جدید عسکری نظریات، جدید ترین ٹیکنالوجیز اور دفاعی صلاحیتوں کی ترقی پر توجہ مرکوز کرنا ہے تاکہ جنگ کی بدلتی ہوئی نوعیت کا مؤثر طور پر مقابلہ کیا جا سکے۔
جبکہ جے سے ’جوائنٹنیس اور انٹگریشن‘ یعنی ہم آہنگی اور انضمام مراد ہے۔ اس کا مطلب بری فوج، بحریہ اور فضائیہ کے درمیان مزید گہرا تعاون پیدا کرنا ہے، ساتھ ہی ’مکمل قومی نقطۂ نظر‘ کے تحت فوجی اور سول شعبوں کے درمیان بہتر اشتراک کو فروغ دینا ہے، تاکہ قومی سلامتی مضبوط ہو اور ’وکست بھارت 2047‘ (ترقی یافتہ انڈیا) کے وژن کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔
جنرل سیٹھ کے مطابق اے سے مراد ’آتم نربھرتا‘ یعنی خود انحصاری ہے جو کہ دیسی ٹیکنالوجیز کے فروغ کے لیے فوج کے عزم کا اعادہ ہے۔
جبکہ وائی ’یودھا فرسٹ‘ یعنی سب سے پہلے فوجی (جنگجو) کا علمبردار ہے۔ یہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ فوج ہر سپاہی کو اپنی سب سے بڑی طاقت سمجھتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ تربیت کے معیار، تکنیکی مہارتوں، فلاح و بہبود، اور سابق فوجیوں (وٹرنز) اور 'ویر ناریاں' (یعنی ڈیوٹی پر مرنے والے فوجیوں کی بیوائیں) کو بااختیار بنانے کو ترجیح دی جائے گی۔
جنرل سیٹھ کے مطابق، یہ روڈ میپ انڈین فوج کو مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ، جدید اور زیادہ مؤثر دفاعی قوت بنانے کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی فراہم کرتا ہے۔
نئے فوجی سربراہاس سے قبل اپریل میں ہی وہ وائس چیف آف آرمی سٹاف کے عہدے پر فائز ہوئے تھے'انفراسٹرکچر اور سرویلینس کو بہتر بنانے کی ضرورت'
ہم نے نئے فوجی سربراہ کو درپیش چیلنجز کے متعلق سابق لیفیٹننٹ جنرل دیپندر سنگھ ہوڈا سے بات کی تو انھوں نے کہا کہ کسی بھی فوجی سربراہ کی طرح انھیں بھی دو سرحدوں پر چیلنجز کا سامنا ہوگا۔
ان کے مطابق چینی سرحد پر انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کی ضرورت ہوگی جبکہ سرویلینس کو مزید بہتر اور فعال بنانے کی ضرورت ہوگی۔
انھوں نے کہا کہ چین کے ساتھ سرحد پر جس طرح سے چین کی فوج نے اپنی موبلیٹی بڑھائی ہے ’ہمیں اس کے تدارک کے لیے تیار ہونا ہوگا۔‘
انھوں نے چین کی سائبر اور سپیس صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں بھی اپنی سائبر اور سپیس کیپبلیٹی کو بڑھانے کی ضرورت ہوگی۔
انھوں نے پاکستان کے ساتھ سرحد کے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان کے ساتھ سرحد پر آپ کو زبر دست تیاری اور ریڈینس چاہیے تاکہ سرحد پار سے ہونے والی شدت پسندانہ یا فوجی کارروائیوں کا ہم فوری اور جلدی جواب دے سکیں۔‘
انھوں نے کہا تناؤ میں اضافے کی صورت میں ایسکیلیشن کنٹرول کا میکنزم بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
انھوں نے کہا کہ گذشتہ سال ہونے والی جھڑپ کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ چین کس طرح سے اور کن شعبوں میں پاکستان کا تعاون کر رہا۔ ’ہمیں ان میں بہتر ہونے کی ضرورت ہوگی۔‘
انھوں نے کہا کہ حالیہ عالمی صورت حال اور گذشتہ کے تجربوں سے سیکھ کر فوج کو ہمہ وقت تیار رکھنے کا بھی چیلنج ہوگا۔
جب ہم نے ان سے فوجی سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا وہ پیشہ ورانہ طور پر قابل افسر ہیں۔ انھوں نے میرے ماتحت کام کر رکھا ہے، انھیں فوج کی مختلف کمان کی نمائندگی اور رہنما کا تجربہ اور سرحد کا بھی تجربہ ہے۔
'ایک عرصے بعد کوئی آرمرڈ کور سے فوجی سربراہ بنا ہے'
اس سے قبل منگل کو ریٹائر ہونے والے جنرل اُپیندر دویدی نے نئے آرمی چیف جنرل دھیرج سیٹھ کو ذمہ داریاں سونپتے ہوئے کہا کہ جنرل سیٹھ ایک تجربہ کار فوجی اور باصلاحیت رہنما ہیں۔
انھوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ جنرل دھیرج سیٹھ کی قیادت میں انڈین فوج اپنی شاندار روایات، پیشہ ورانہ مہارت اور پختہ عزم کو برقرار رکھتے ہوئے مزید نئی بلندیوں تک پہنچے گی۔
ہم نے اس بابت انڈین فوج کے سابق کرنل اور عسکری تجزیہ کار اجے شکلا سے بات کی تو انھوں نے کہا کہ 'جنرل دھیرج ایک ایسے وقت میں فوج کی کمان سنبھال رہے ہیں جہاں اگرچہ عالمی منظرنامے میں تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں وہیں انڈین فوج میں ایک طرح کی سٹیبلیٹی (استحکام) بھی نظر آ رہی ہے۔ تاہم انڈین فوج کی ری سٹرکچرنگ اور اسلحہ سازی پر زیادہ زور دیا جائے۔‘
کسی بھی دوسری فوجی جنرل کی طرح جنرل دھیرج سیٹھ بھی بہت تجربہ حاصل کر چکے ہیں۔ وہ ہیڈ کوارٹر میں کام کر چکے ہیں، ویپن ڈیولپمنٹ کے شعبے میں کام کر چکے ہیں۔ ایسے میں فوج کے لیے یہ ’اچھا موقع کہ وہ جنگ کے لیے تیار رہنے پر زور دے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’انڈیا کے لیے دو اہم خطرے چین اور پاکستان ہیں اور دونوں نے مل کر انڈیا کے خلاف حکمت عملی بنائی ہے اور اس پر زور دے رہے ہیں۔‘
’ایسے میں انڈیا کو انٹیگریٹڈ تھیٹر کمانڈ (تینوں افواج کی متحدہ کمان) کو مزید فعال بنانا اور اسے مزید تیز کرنا ہوگا جس میں فوج، بحریہ اور فضائیہ مل کر کام کرتے ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ یہ انڈین حکمت عملی جنرل راوت کے زمانے سے ہی چلی آ رہی ہے اور اس کو آگے لے جایا جائے گا۔
جنرل دھیرج کی خصوصیت کے بارے میں بات کرتے ہوئے اجے شکلا نے کہ ’ایک زمانے کے بعد کوئی آرمرڈ کور یعنی میکنائزڈ فورس کے افسر فوجی سربراہ بنے ہیں۔ ان کا تجربہ میکنائزڈ جنگی حکمت عملی میں زیادہ ہے۔‘
انھوں نے کہا پاکستان کے خلاف راجستھان کے ریگستانی علاقوں میں، پنجاب کے دریائی علاقوں اور گجرات کے میدانوں میں ان کا تجربہ بہت کام آئے گا۔ اس کے علاوہ جب کوئی فوجی سربراہ بنتا ہے تو اس وقت تک وہ 35-40 سال فوج کی خدمات انجام دے چکا ہوتا ہے اور ان کا تجربہ کافی وسیع ہوتا ہے۔ جنرل دھیرج کے پاس لداخ اور ہمالیہ کے پہاڑی علاقوں جیسے مختلف سیکٹرز میں بھی جنگ کا تجربہ ہے۔
جنرل دھیرج سیٹھ کون ہیں؟
جنرل سیٹھ نیشنل ڈیفنس اکیڈمی (این ڈی اے)، کھڑکواسلا کے سابق طالب علم ہیں۔ انھیں دسمبر 1986 میں آرمرڈ کور میں کمیشن دیا گیا تھا۔
جنرل دھیرج سیٹھ کو پرم وششٹ سیوا میڈل (پی وی ایس ایم)، اتّم یُدھ سیوا میڈل (یو وائی ایس ایم) اور اَتی وششٹ سیوا میڈل (اے وی ایس ایم) سے نوازا جا چکا ہے۔
ان کے والد بھی لیفٹیننٹ جنرل تھے۔ جنرل دھیرج سیٹھ کا فوج سے گہرا خاندانی تعلق ہے۔
دی پرنٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق، وہ ایک معروف فوجی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے والد لیفٹیننٹ جنرل کے ایم سیٹھ سنہ 1997 میں انڈین فوج کے ایڈجوئٹنٹ جنرل کے عہدے سے ریٹائر ہوئے تھے۔ اُس وقت جنرل دھیرج سیٹھ خود کیپٹن کے عہدے پر فائز تھے۔
اپنا عہد سنبھالنے کے بعد انھوں نے فوجی انداز میں اپنے والد کو سیلوٹ کیا۔ ان کا یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔
ان کے بھائی ریئر ایڈمرل روینیش سیٹھ انڈین بحریہ میں فلیگ آفیسر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں اور وہ بھی اس موقعے پر وہاں موجود تھے۔ جنرل دھیرج سیٹھ 1997 میں جنرل شنکر رائے چودھری کے بعد آرمرڈ کور سے تعلق رکھنے والے پہلے آرمی چیف ہیں۔
پریس انفارمیشن بیورو (پی آئی بی) کی پریس ریلیز کے مطابق وزارتِ دفاع نے بتایا کہ جنرل سیٹھ نے تقریباً چار دہائیوں پر محیط اپنے شاندار فوجی کیریئر کے دوران آپریشنز، حکمتِ عملی، صلاحیت سازی اور ادارہ جاتی امور کے شعبوں میں وسیع تجربہ حاصل کیا ہے۔
انھوں نے انڈین فوج کی جنگی صلاحیت میں اضافے اور اس کی طویل المدتی جدیدکاری میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ جنرل دھیرج سیٹھ نے مختلف آپریشنل علاقوں میں ہر سطح پر کمان کی ذمہ داریاں بھی نبھائی ہیں۔
ان کی کمانڈ ذمہ داریوں میں صحرائی علاقے میں آرمرڈ رجمنٹ، مغربی محاذ پر آرمرڈ بریگیڈ اور جموں و کشمیر میں انسدادِ شورش فورس کی قیادت شامل رہی ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل کے طور پر انھوں نے فوج کی اہم سٹرائیک فارمیشنز میں سے ایک سُدرشن چکر کور کی کمان بھی سنبھالی۔
بعد ازاں انھوں نے جنرل آفیسر کمانڈنگ (جی او سی) دہلی ایریا کے طور پر خدمات انجام دیں، جہاں وہ اہم قومی و بین الاقوامی فوجی سرگرمیوں اور رسمی فوجی تقریبات کے انتظام کے ذمہ دار رہے۔
وہ جنوب مغربی اور جنوبی کمان کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں۔ انھوں نے ڈھائی سال سے زائد عرصے تک دو اہم آپریشنل آرمی کمانوں کی کمان سنبھالی اور نہایت اہم فوجی علاقوں کی تزویراتی نگرانی کی، جو ایک نمایاں کامیابی سمجھی جاتی ہے۔
فوج کی جدیدکاری میں ان کے کردار کو وسیع پیمانے پر سراہا گیا ہے۔
پی آئی بی کی رپورٹ کے مطابق فوجی ہیڈکوارٹر میں تزویراتی منصوبہ بندی اور صلاحیت سازی سے متعلق اہم عہدوں پر فائز رہتے ہوئے انھوں نے فوج کی جدیدکاری، مستقبل کی صلاحیتوں کی تعمیر اور طویل المدتی فوجی ڈھانچے کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کیا۔
جنرل دھیرج سیٹھ ہائر کمانڈ کورس اور نیشنل ڈیفنس کالج کے فارغ التحصیل ہیں۔ اس کے علاوہ وہ فرانس کے شہر پیرس میں منعقد ہونے والے ممتاز کمانڈ اینڈ اسٹاف کورس میں بھی شرکت کر چکے ہیں۔