اولاد ایک نعمت اور قدرت کی طرف سے انسان کو دیا گیا سب سے قیمتی تحفہ ہے، اولاد سے ایک مرد اور عورت مکمل ہوتے ہیں، اولاد سے محروم جوڑوں میں کمی عورت میں ہو یا مرد میں مگر دینے والی ذات خدا صِرف خدا کی ہے۔
جیسا کہ ہم جانتے ہیں برسوں سے خواتین کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بچوں کی پیدائش کے لیے عمر کی تیسری یا چوتھی دہائی کا انتظار مت کریں جبکہ مردوں کے حوالے سے یہ تصور کیا جاتا ہے کہ مرد کسی بھی عمر میں باپ بن سکتے ہیں۔
تاہم یہ تصور وقت کے ساتھ ساتھ غلط ثابت ہو رہا ہے، مسلسل کئی سالوں سے کی جانے والی ایک تحقیق میں ایسے شواہد سامنے آرہے ہیں کہ عمر کے ساتھ مردوں کی باپ بننے کی صلاحیت پر بہت زیادہ اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
یہ بات درست ہے کہ خواتین کے برعکس مردوں کی اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت عمر بڑھنے سے مکمل طور پر متاثر نہیں ہوتی، مگر اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ مردوں کی صلاحیت متاثر ہی نہیں ہوتی۔
تحقیق میں کیا سامنے آیا ہے؟
آکسفورڈ اکیڈمی کی جانب سے کی جانے والی حالیہ تحقیق میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ 40 سال کی عمر کے بعد مردوں کی باپ بننے کی صلاحیت 30 سال سے کم عمر مردوں کے مقابلے میں 30 فیصد تک گھٹ جاتی ہے۔
جبکہ ریپروڈکٹیو ٹیکنالوجی لیبارٹری کیلیفورنیا کی جانب سے کی گئی ایک اور تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اسپرم کے افعال میں 34 سال سے قبل تبدیلیاں نہیں آتیں، تاہم 40 سال کے بعد مختلف افعال گھٹنے لگتے ہیں، اس تحقیق کے لئے 16 سال سے 72 سال سے زائد عمر کے 5 ہزار 81 مردوں کو شامل کیا گیا تھا۔
صِرف یہی نہیں بلکہ جو لوگ زیادہ عمر میں باپ بنتے ہیں ان کے بچوں میں بھی منفی اثرات منتقل ہوتے ہیں، جو مستقبل میں بچوں کے لئے بھی پریشانی کی وجہ بن سکتے ہیں۔
زیادہ عمر میں باپ بننے سے ہونے والے بچے پر کیا اثرات پڑتے ہیں؟
اگر والد کی عمر زیادہ ہو تو اس کے نتائج ہونے والے بچے کو بھی متاثر کرتے ہیں، اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی ایک اور تحقیق کے دوران دریافت کیا گیا ہے کہ والد کی عمر اگر 45 سال ہو تو بچوں کی قبل از وقت پیدائش، کم پیدائشی وزن اور زچگی کے بعد طبی امداد جیسے وینٹی لیشن یا دیگر کی ضرورت پڑ سکتی ہے اور ان تمام کا 14 فیصد تک خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
کیا مرد کی عمر سے پیدا ہونے والے مسئلے سے عورت بھی متاثر ہوتی ہے؟
محقیقن نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ بچے کے ساتھ ساتھ اس سے عورت بھی متاثر ہوتی ہے اور عورت میں بھی دوران زچگی ہائی بلڈ پریشر، شوگر کا مسئلہ سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
تاہم ان تمام تحقیقات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اولاد کی پیدائش کے لئے عورت میں تمام خوبیاں ہونے کے ساتھ ساتھ مرد کی عمر بھی انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔
خیال رہے کہ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ عمر کے بڑھتے ہر سال کے ساتھ مردوں میں باپ بننے کا امکان 4.1 فیصد تک کم ہوجاتا ہے، چاہے بیوی کی عمر کتنی ہی کم کیوں نہ ہو اور عمر بڑھنے کے ساتھ مردوں میں شریک حیات کو حاملہ کرنے کی صلاحیت 'نمایاں' حد تک کم ہو جاتی ہے۔
خُدا تمام جوڑوں کو اولاد کی اس بیش قیمت نعمت سے نوازے اور ہر مرد عورت کو اس قسم کی محرومی سے بچائے اگر آپ کو یہ معلومات پسند آئی تو ابھی ہماری ویب کے فیس بُک پیج پر کمنٹ کر کے ہمیں اپنے خیالات سے آگاہ کریں۔