میں بچوں کے لیے تڑپتی ہوں کوئی میرے بچوں سے ملا دو اور انھیں ۔۔ جانیں سالوں سے اپنے بچوں کی تلاش میں در بدر کی ٹھوکریں کھانے والی اس ماں کی کہانی جو آپ کو بھی رلا دے گی

image

زندگی انسان کو بہت کچھ سکھا دیتی ہے، مگر ایک ماں کبھی ہار نہیں مانتی وہ اپنے بچوں کو ہر حال میں خوش دیکھنا چاہتی ہے۔ چاہے وہ ماں کے ساتھ رہیں یا نہ رہیں۔ کراچی کی عزیزا بیگم بھی کچھ ایسی مشکلات سے گزر رہی ہیں مگر ہمت نہیں ہار رہیں۔

کراچی کے علاقے ناظم آباد کی رہائشی عزیزا سے ان کے بچے بھی چھین لیے گئے تھے، مکان پر بھی قبضہ کر لیا گیا اور اب عزیزا در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ لیکن ابھی بھی عزیزا اسی امید کے ساتھ جی رہی ہیں کہ وہ ایک دن اپنے بچوں کو ضرور دیکھیں گی۔

سوشل میڈیا پیج ڈائیلوگ پاکستان کو انٹرویو دیتے ہوئے عزیزا نے کہا کہ میں ٹھیک ہوں، زندہ ہوں۔ مگر اب پہلے جیسی صحت نہیں رہی ہے۔ جب میرے بچے پیدا ہوئے تو میں نا سمجھ تھی، اس وقت میری نند نے کہا کہ اس سے بچے سنبھالے نہیں جائیں گے، تو وہ چاروں بچوں کو اپنے ساتھ لے گئیں۔

عزیزا کے شوہر کا انتقال ہوگیا ہے جو کہ ٹیلیفون کے ڈیویشنل ایجنیئیر تھے۔ عزیزا کہتی ہیں کہ حکومت نے اب تک میرے شوہر کی پینشن میرے نام نہیں کی ہے۔

عزیزا اپنے بچوں کے نام بتاتے ہوئے کہتی ہیں کہ ایک کا نام ریحان ہے، دوسرے کا رضوان، تیسرے کا سہیل اور چوتھے کا نام فرہاد ہے۔ بچوں کی تلاش کے لیے اور ان سے ملنے کی تڑپ میں عزیزا اپنے بچوں کے آریجنل برتھ سرٹیفیکٹ بھی گلبہار تھانے میں جمع کرا چکی ہیں۔

عزیزا اپنے بچوں کو یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ میرے بچوں، تم جہاں بھی رہو خوش رہو، کیا تمہیں تمہاری ماں کی یاد نہیں آتی؟ میں ہر پل تمہیں یاد کر کے روتی ہوں۔

عزیزا پر قیامت اس وقت ٹوٹ پڑی جب انہیں اپنے ہی گھر سے باہر نکال دیا گیا۔ عزیزا کہتی ہیں کہ میرے پاس مسیری تھی، ٹی وی تھا، الماری تھی، فریج تھا سب کچھ تھا، ایک مرتبہ جب میں گھر گئی ہوں تو سب چیزیں باہر رکھی تھیں اور محلے والے کہہ رہے تھے کہ آپ کا مکان تو بک گیا ہے۔

عزیزا اس وقت لاچار اور افسردہ ہو گئی تھیں کہ اپنا مکان واپس لینے کے لیے کوئی کوشش نہیں کی، ہمت کر کے گلبہار تھانے میں شکایت درج کرائی مگر زمانے کی ستم ظریفی دیکھیں کہ جس کے خلاف شکایت درج کرا رہی تھیں وہی شکایت لکھ رہا تھا۔ عزیزا کہتی ہیں کہ پولیس اہلکار نبی بخش غیر قانونی طور پر میرے گھر پر قبضہ کیے ہوئے ہے۔ گھر کے کاغذات سوک سینٹر میں جمع ہیں جبکہ گھر میرے نام پر ہے۔

260 گز کا یہ پلاٹ عزیزا کو 1960 میں شاہ صاحب کی جانب سے نیلامی میں دیا گیا تھا۔ عزیزا کہتی ہیں کہ میرے پاس نہانے کی جگہ نہیں ہے اگر ہو سکے تو میرے رہنے کی جگہ کا انتظام کرا دو۔

عزیزا ان چند ماؤں میں سے ہیں جو کہ اپنے بچوں کی ایک جھلک دیکھنے کو ترس رہی ہیں۔ ماں کی تڑپ کیا ہوتی ہے وہ عزیزا کی آنکھوں سے بخوبی جھلک رہی ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US