ظلم و ستم سہے، ڈاکو رانی سے عوامی لیڈر بھی بنیں اور۔۔ جانیں اس خاتون کی حیرت انگیز کہانی

image

انسان اکثر اوقات کچھ ایسے لمحات سے گزرتا ہے جو اس کے ذہن پر نقش ہو جاتے ہیں۔ وہ لمحات اکثر اوقات اتنے تلخ ہوتے ہیں کہ وہ ان لمحات کو یاد کر کے انہیں بدلنے کا عہد کر لیتا ہے۔

یہی بدلاؤ اس کی زندگی کو بھی تبدیل کر دیتا ہے۔ ویسے تو وہ تلخ لمحات ہی اس انسان کی زندگی کو بدل کر رکھ دیتے ہیں مگر جو عہد وہ کرتا ہے وہ ایک ایسا عہد ہوتا ہے جس میں خون ٹھاٹھیں ما رہا ہوتا ہے اور اپنے مقصد کو پورا کرنے کا عہد ہی آخری منزل ہوتی ہے۔

ایسا ہی کچھ پھولن دیوی کے ساتھ ہوا ہے۔ جو کہ 11 سال کی عمر میں ہی گائے کے بدلے ایک اپنے سے 11 سے 12 سال بڑے شخص سے بیاہ دی گئی تھیں۔

شادی کے بعد شوہر پھولن دیوی کو مسلسل گھریلو تشدد بناتا رہا۔ مجبوراً پھولن کو گھر چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔

پھولن دیوی کی مشکلات یہاں پر بھی ختم نہیں ہوئیں، 18 سال کی عمر میں پھولن کو اونچے طبقے کے کچھ لوگوں نے گینگ ریپ کا نشانہ بنا ڈالا تھا۔ اس کے بعد پھولن کو ٹھاکر ٹاؤن میں 2 ہفتوں تک ٹھاکر گروپ کے لوگوں نے زیادتی کانشانہ بنایا، پھولن کی حالت یہ تھی کہ وہ اپنے آپ کو بھی نہیں پہچان پا رہی تھیں۔

ان سب مشکلات نے پھولن کو ایسا بنا دیا تھا کہ اب وہ کسی بھی مشکل کو جھیل سکتی تھیں، پھولن دیوی نے اپنے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں کا حساب لینے کا فیصلہ کیا اور چور و چکاری سے اس ناامیدی کو ختم کرنے کی کوشش کرنے لگیں۔

دیکھتے ہی دیکھتے پھولن دیوی ایک گینگ کی سربراہ کے طور پر سامنے آئیں۔ پھولن ٹھاکر گاؤں کے دو لوگوں کو پہچانتی تھیں جو کہ پھولن کے گینگ ریپ میں شامل تھے، جب پھولن نے ان 2 مجرمان کا پتہ معلوم کرنا چاہا تو گاؤں والوں نے بتانے سے صاف انکار کردیا۔ جس پر پھولن نے گاؤں کے 22 افراد کو اسی وقت گولیوں سے چھلنی کردیا۔

لوگ پھولن دیوی کو اپنا مسیحا سمجھ رہے تھے کیونکہ پھولن نے سماجی نا انصافی کے خلاف آواز بلند کی تھی، پھولن نے بھارتی حکومت کے سامنے ان شرائط کی بنیاد پر ہتھیار ڈالے کہ ان کے باپ کی زمین انہیں واپس دی جائے، پھولن بہن بھائیوں کو سرکاری نوکری دی جائے اور ان کے گینگ ممبرز کو سزائے موت کے بجائے 8 سال قید کی سزا دی جائے۔

1983 میں پھولن دیوی پر قتل اور اغواء کے مقدمات درج کیے گئے، جبکہ 1994 میں پھولن دیوی کو رہا کر دیا گیا۔

پھولن نے 2 سال بعد لوک سبھا کے انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا اور مرزا پور سے بطور ایم پی منتخب ہوئیں۔ پھولن دیوی کے چاہنے والے اس وقت صدمے سے دو چار ہو گئے جب انہیں 2001 میں 3 ماسک پہنے ہوئے نامعلوم افراد نے دہلی میں ان کی رہائش گاہ کے باہر قتل کر دیا۔

پھولن دیوی کا خوف اس قدر تھا کہ مارنے والے اپنا چہرہ تک چھپاتے رہے، عورت ہونے کے باوجود اسے تین مرد مارنے کے لیے آئے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US