بچی کی مدد کرنے کے لیے خود ریڑھی لگا لی۔۔۔ جانیں شہید امجد صابری اپنی زندگی میں کتنے لوگوں کو رُلا گئے

image

امجد صابری کا نام اس فہرست میں شامل تھا جو کہ مشہور ہونے کے باوجود اپنے ہی علاقے میں اسی طرح رہتے تھے جیسے کہ شہرت پانے سے پہلے رہا کرتے تھے۔

قوال خاندان میں پیدا ہونے والے امجد صابری نے نہ صرف اپنے گھر کو سنبھالے رکھا بلکہ اسے جوڑے بھی رکھا۔ امجد ایک بہترین گھریلو مرد ہی نہیں بلکہ اچھے دوست بھی تھے۔ امجد کے جانے سے ایک بہت بڑا نقصان ہوا ہے جسے کبھی پورا نہیں کیا جا سکتا ہے۔

امجد صابری ایک بہترین قوال تھے جنہیں یہ خداد صلاحیت ورثہ میں ملی تھی، امجد نے باخوبی اس صلاحیت کو سمجھتے ہوئے اس کا صحیح استعمال کیا تھا۔

والد غلام فرید صابری کے انتقال کے بعد صابری قوال کے نام کو ایک نئی بلندی پر پہنچا دیا تھا۔ امجد صابری نے بے شمار حمد و ثناء، نعتیں اور منقبت پڑھی تھیں۔ وہ کئی رمضان ٹرانسمیشنز میں بطور قوال اور نعت خواں بھی شرکت کر چکے تھے، شہادت والے دن بھی انہیں مایہ خان کی رمضان ٹرانسمیشن میں شرکت کے لیے جانا تھا۔

کوک اسٹوڈیو میں امجد صابری کی پرفامنس رونگٹے کھڑے کر دینے والی تھی، سُروں کو اوُپر نیچے لے جانا، آواز کا جادو کس طرح جگانا ہے، امجد ان سب چیزوں سے بخوبی واقف تھے۔ امجد صابری نے اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے اپنی اس آخری قوالی کو یاد گار بنا دیا تھا۔ چونکہ شہادت کے بعد یہ قوالی نشر ہوئی، تو اسی وجہ سے یہ امجد صابری کی آخری قوالی تھی۔

والدہ کا دلارہ، بچوں کے لیے شفقت، ایک بہترین شوہر اور یاروں کا یار، امجد نے ہمیشہ ہی افہام و تفہیم سے ہر معاملہ کو سلجھایا تھا۔ ایک مرتبہ عاطف اسلم نے امجد صابری سے قوالی کو استعمال کرنے کی اجازت مانگی، جس پر امجد نے بنا کچھ سوچے سمجھے اجازت دے دی۔ عاطف اسلم نے کہا کہ امجد صابری نے یہاں تک کہا کہ تم نے اس قوالی کا حق صحیح طرح ادا کیا ہے۔ جبکہ ایک اور انٹرویو میں جب امجد سے پاک بھارت تعلقات سے متعلق پوچھا گیا تو امجد کا کہنا تھا کہ یہ سب اہل سیاست کا کام ہے، ہمارا کام تو پیار پہنچانا ہے۔

امجد صابری نرم دل، صاف گو اور خوش دل شخصیت کے مالک تھے۔ اپنے علاقے لیاقت آباد میں امجد نے چاٹ کی ریڑھی لگائی اور خود ہی بیچنا بھی شروع کردی، لوگ آتے جا رہے تھے اور چاٹ لیتے جا رہے تھے۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے کوئی اپنا ہے، جس سے مانگنے میں کوئی شرم محسوس نہیں ہو رہی۔

امجد کو احساس تھا کہ لوگ مفت میں چاٹ لیتے ہوئے کترائیں گے، تو امجد نے 25 روپے کی چاٹ بیچنا شروع کی اور یہاں تک کہا کہ آپ کی مرضی ہے، آپ جتنے پیسے دے سکتے ہو، دے دو۔

یہاں حیرت انگیز بات یہ بھی ہے کہ امجد نے یہ ریڑھی ایک معصوم بچی نورین کی امداد کے لیے لگائی تھی تاکہ اس بچی کی امداد کی جا سکے۔

امجد کے جنازے میں موجود لوگوں کا کہنا تھا کہ امجد ایک قوال ہی نہیں تھا بلکہ ملک کا اثاثہ اور ایک ایسا شخص تھا جو کہ انسانیت کا خیال رکھتا تھا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US