کالام کشتی سانحہ: امیر اندوال کے بھائی نے حادثے کو قتل قرار دے دیا

image

”ہمارے خاندان کا ایک بڑے جائیداد کے تنازع سے تعلق تھا اور میرے بھائی امیر اندوال کے اہلِ خانہ کو پہلے بھی جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئی تھیں۔ مجھے شبہ ہے کہ لاپتا کشتی چلانے والے کو خاندان کے مخالفین نے پیسوں کے عوض اس سانحے کے لیے استعمال کیا ہو۔ میری درخواست ہے کہ اس واقعے کی ہر پہلو سے غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں۔“

کالام کی جھیل سیف اللہ میں کشتی الٹنے کا المناک حادثہ ملک بھر میں گہرے دکھ کا سبب بنا ہوا ہے، جہاں سیر و تفریح کے لیے آنے والا ایک خاندان چند لمحوں میں اجڑ گیا۔ ریٹائرڈ نیوی افسر امیر اندوال، ان کا بیٹا، دو بیٹیاں، ایک نواسہ اور ایک نواسی حادثے میں جاں بحق ہوگئے، جبکہ خاندان کی ایک بیٹی تاحال لاپتا بتائی جا رہی ہے۔

ابتدائی طور پر اسے ایک افسوس ناک آبی حادثہ قرار دیا گیا، تاہم اب متاثرہ خاندان کے ایک رکن نے معاملے کو قتل کے شبے سے جوڑ دیا ہے۔ امیر اندوال کے بھائی کا دعویٰ ہے کہ خاندان ایک پرانے جائیداد کے تنازع میں الجھا ہوا تھا اور ان کے بھتیجے حسنات کی جانب سے مبینہ طور پر جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی گئی تھیں۔

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ کشتی کا لاپتا آپریٹر کسی سازش کا حصہ ہوسکتا ہے۔ تاہم یہ الزامات خاندان کے رکن کے ذاتی شبہات ہیں اور ان کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔ واقعے سے متعلق حتمی حقائق صرف مکمل پولیس اور فرانزک تحقیقات کے بعد ہی سامنے آسکیں گے۔

سوشل میڈیا پر بھی ان دعوؤں کے بعد تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ کئی صارفین نے سانحے کی شفاف تحقیقات اور ریسکیو انتظامات کا جائزہ لینے کا مطالبہ کیا، جبکہ بعض نے کہا کہ اتنے بڑے حادثے کے تمام ممکنہ پہلوؤں کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US