گزشتہ چند ددنوں سے وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے انگلش نیوز چینل کے میزبان جوناتھن سوان کو دیئے گیا انٹرویو اِس وقت سوشل میڈیا کی زینت بنا ہوا ہے جس میں انہوں نے خواتین کے لباس سے متعلق تبصرہ کیا تھا، جس کے حوالے سے کوئی اختلاف کر رہا ہے تو کوئی ویز اعظم کے اس بیان کو درست اور حقیقت پر مبنی قرار دے رہا ہے۔
اب وزیر اعظم عمران خان کے حالیہ انٹرویو پر اُن کی سابقہ اہلیہ جمائمہ گولڈ اسمتھ بھی میدان میں آگئی ہیں جس میں انہوں نے خواتین کے لباس زیب تن کرنے اور جنسی تشدد میں اضافے سے متعلق رد عمل دیا۔
جمائمہ گولڈ اسمتھ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی کوئی پرانی ٹوئٹ کو دوبارہ شئیر کیا جو انہوں نے اپریل میں کی تھی اور اس پر مختصراً لکھا اور ایک بار پھر گہری سانس لیجیے۔
جمائمہ نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا تھا کہ ایک مرتبہ جب وہ سعودی عرب میں تھی تو ایک بوڑھی عورت نے نوجوانوں کی جانب سے ہراساں کرنے کی شکایت کی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ اس بوڑھی عورت نے عبایا پہن رکھا تھا اور ان لڑکوں سے چھٹکارا پانے کا واحد راستہ یہ تھا کہ وہ اپنا چہرہ چھپالیں۔
جمائمہ نے اپنی ٹوئٹ کا مطلب سمجھاتے ہوئے آگے لکھا کہ مسئلہ یہ نہیں ہے کہ خواتین کس طرح کپڑے پہنتی ہیں۔
جمائمہ گولڈ اسمتھ کے اس ٹوئٹر پیغام سے واضح ہوتا ہے کہ انہوں نے وزیر اعظم عمران خان کے انٹرویو میں بولے جانے والے اس بیانیے کو مسترد کر دیا ہے جو انہوں نے خواتین کے لباس سے متعلق کہا تھا۔