وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے قومی اسمبلی میں بلاول بھٹو کی تنقید پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کے چئیرمین کہتے ہیں کہ وہ مجھے جانتے ہیں لیکن میں انہیں بھی جانتا ہوں اور انکے بابا کو بھی ، جب وہ ب چھوٹے تھے تب سے جانتا ہوں، بچے کو پرچیاں پڑھا دیتے ہیں اور بچہ آٹو پر چل پڑتا ہے لیکن بچے کو ابھی کچھ وقت لگے گا۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں تھا کہ میری ایک تقریر سے بلاول اتنا پریشان ہو جائیں گے یہ تو طفل مکتب ہے ابھی بہت صبر کرنا ہے جبکہ انہوں نے بلاول بھٹو کو جواب دیتے ہوئے یوسف رضا گیلانی کا زکر بھی کیا اور کہا کہ کم از کم انہیں مک مکا کا اپوزیشن لیڈر نہ بنایا ہوتا اور یوسف رضا گیلانی سرکاری ووٹوں سے اپوزیشن لیڈر بنے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ اس بات کا بھی مشورہ دے ڈالا کہ وہ اپنے گریبان میں جھانکیں انہیں اپنی اصلیت نظر آجائیگی کہ وہ کتنے پانی میں ہیں۔
صرف یہی نہی بلکہ وزیر خارجہ نے بلاول پر لفظی گولہ باری جاری رکھی اور کہا کہ آج بچہ بہت پریشان ہے میں اسکی پریشانیوں میں مزید اضافہ نہیں کرونگا۔
واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان سے گزارش کرتا ہوں کہ آئی ایس آئی کو وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے فون ٹیپ کرنے کا کہیں کیونکہ انہوں نے ہمارے دور میں وزیر خارجہ ہوتے ہوئے بھی دنیا بھر میں مہم چلائی کہ یوسف رضا گیلانی کو ہٹا کر انہیں وزیراعظم بنایا جائے جس پر انہیں وزارت سے نکالا گیا۔