امریکی ٹیکنالوجی کمپنی مائیکروسافٹ نے اپنی عالمی تنظیمِ نو کے منصوبے کے تحت تقریباً 9 ہزار ملازمین کو ملازمت سے فارغ کرنے کا اعلان کردیا ہے، جو کمپنی کی مجموعی افرادی قوت کا لگ بھگ 4 فیصد بنتے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق نئی چھانٹیوں کا سب سے زیادہ اثر کمپنی کے گیمنگ ڈویژن ایکس باکس پر پڑے گا، جہاں 3 ہزار 200 سے زائد ملازمتیں متاثر ہونے کا امکان ہے۔ اس سے قبل بھی گزشتہ برس مائیکروسافٹ نے بڑے پیمانے پر ملازمین کو فارغ کیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق تنظیمِ نو کے منصوبے کے تحت ان چار گیم اسٹوڈیوز کے ملازمین بھی متاثر ہوں گے جنہیں کمپنی علیحدہ کرنے یا فروخت کرنے پر غور کر رہی ہے۔
ایکس باکس کی چیف ایگزیکٹو آشا شرما نے بتایا کہ ابتدائی مرحلے میں تقریباً ایک ہزار 600 ملازمین کو فوری طور پر فارغ کیا جا رہا ہے، جبکہ باقی برطرفیاں مالی سال 2027 تک مرحلہ وار مکمل کی جائیں گی۔
مائیکروسافٹ کی ایگزیکٹو وائس پریزیڈنٹ ایمی کولمین کے مطابق کمپنی بدلتے ہوئے کاروباری ماحول اور مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی تنظیمی ساخت میں تبدیلیاں کر رہی ہے تاکہ ادارے کی کارکردگی اور مسابقتی صلاحیت کو بہتر بنایا جاسکے۔
دوسری جانب ایکس باکس انتظامیہ کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں گیمنگ کاروبار کی منافع بخش کارکردگی میں نمایاں کمی آئی ہے، جس کے باعث اخراجات کم کرنے کے لیے ملازمتوں میں کٹوتی ناگزیر ہوگئی۔
رپورٹس میں آشا شرما کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایکس باکس کا کاروبار اس وقت مالی طور پر دباؤ کا شکار ہے اور اس کا منافع حریف کمپنیوں کے مقابلے میں کئی گنا کم رہ گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گیم پاس سبسکرپشن سروس کی قیمتوں میں اضافے کے بعد بڑی تعداد میں صارفین نے اپنی رکنیت ختم کردی، جس سے کمپنی کو مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ بعدازاں صارفین کو دوبارہ متوجہ کرنے کے لیے سبسکرپشن فیس میں کمی کرنا پڑی۔