ایک مشہور مذہبی عالم کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ خواتین ڈاکٹروں کو لازمی طور پر صرف خواتین مریضوں کو علاج کرنا چاہیے۔ ایسے ملک میں جہاں لڑکیوں کی تعلیم کی شرح انتہائی کم ہے کیا ہم واقعی اس طرح کا سوچ سکتے ہیں؟
معروف مذہبی عالم دین ،ڈاکٹر طارق مسعود جن کی ویڈیوز آپ اکثر یوٹیوب چینل پر بھی دیکھتے ہوں گے اپنے حوصلہ افزا مذہبی بیان سے لوگوں کو تعلیم فراہم کرتے ہیں۔
ڈاکٹر طارق مسعود نے حال ہی میں اپنی ایک محفل میں ایسا بیان دیاہے جو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہورہا ہے اور لوگوں کے تنقید بھرے تبصرے بھی سامنے آرہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک خاتون ڈاکٹر کو کبھی بھی مرد کا علاج نہیں کرنا چاہئے۔ انہیں صرف خواتین مریضوں کے علاج کے لئے مخصوص کیا جانا چاہئے اور مردوں کے لیے بھی انہوں نے ایسا ہی کہا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسی گھمبیر صورت حال پیدا ہوجائے کہ کسی خاتون ڈاکٹر کو ہی مرد کا علاج کروانے کی اشد ضرورت پڑ جائے تو وہ دو کام کریں۔
ڈاکٹر طارق مسعود کا کہنا تھا کہ پہلا کام یہ کریں کہ خواتین ہاتھوں میں دستانے پہن لیں جس سے ان کے ہاتھ مرد کی جلد سے لگ نہیں پائیں گے۔ اس کے علاوہ چہرے پر نقاب لازمی کریں اور جتنا خود کو کوور کر سکتی ہیں کریں۔
خواتین دندان ساز کے بارے طارق مسعود نے کیا کہا؟
طارق مسعود نے خواتین دندان ساز سے متعلق کہا کہ میں نے کئی بار بظاہر خود دیکھا ہے کہ جب خواتین ڈینٹسٹ مرد حضرات کے قریب تر آکر دانتوں کا علاج کر رہی ہوتی ہیں۔
مولانا طارق مسعود کے اس بیان پر لوگوں کے تنقید بھرے تبصرے بھی سامنے آئے جس میں ایک اقراء آصف صارف نے کہا ناک ہی کٹوا دیتے ہیں کیا خیال ہے؟
ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں ان کا ڈاکٹر سرجیکل ماسک اور دستانے نہیں پہنتا۔
مزید انہوں نے کیا کہا جانیں اس ویڈیو میں۔