پڑھائی کے دوران بھٹو سے ملا اور پھر۔۔ جانیں قائم علی شاہ سیاست میں کیسے آئے؟ جانیں ان سے متعلق چند ایسی باتیں جو بہت کم لوگ جانتے ہیں

image

سابق وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ جو کہ اپنے منفرد انداز کی بدولت پاکستان بھر میں مشہور ہیں چاہے سندھ اسمبلی کا سیشن ہو یا پھر کسی تقریب میں میڈیا سے بات چیت ہو۔ قائم علی شاہ ہمیشہ ہی سے خبروں کی زینت بنے رہے ہیں۔

لیکن آج ہم آپ کو قائم علی شاہ کی ان چند باتوں کے بارے میں بتائیں گے جو کہ عموما لوگ نہیں جانتے ہیں۔

خیرپور کے ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہونے والے قائم علی شاہ نے کراچی کے سندھ مسلم لاء کالج سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی، جبکہ خیرپور میں وکالت کی پریکٹس شروع کی۔ قائم علی شاہ نے ایوب خان کے دور میں سیاسی اننگز کا باقاعدہ آغاز کیا تھا، اور خیرپور کے ضلعی کونسل کے چئیرمین بنے۔ ایل ایل بی کی تعلیم کے دوران ہی قائم علی شاہ کی ذوالفقار علی بھٹو سے ملاقات ہوئی تھی، اور اس وقت سے آج تک قائم علی شاہ پیپلز پارٹی کا حصہ ہیں۔

1970 کے الیکشن میں قائم علی شاہ نے غوث علی شاہ کو شکست دی تھی جبکہ 1977 میں قومی اسمبلی کے ممبر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ قائم علی شاہ 1983 میں ضیاء دور کے خلاف تحریک میں پیش پیش رہے مگر پارٹی پالیسی کے تحت روپوش رہے۔

قائم علی شاہ 1988 میں پہلی مرتبہ سندھ کے وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے تھے، جبکہ 1997 کے الیکشن میں غوث علی شاہ کی طرف سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 2008 میں صوبائی اسمبلی کے ٹکٹ سے منتخب ہونے والے قائم علی شاہ ایک بار وزیر اعلیٰ کے عہدے پر منتخب ہوئے تھے۔

سابق وزیر اعلیٰ سندھ اور پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما قائم علی شاہ تین مرتبہ وزیر اعلیٰ سندھ کے عہدے پر رہ چکے ہیں مگر اس دوران انہیں کئی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

اپنے ایک انٹرویو میں قائم علی شاہ نے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ میرے بارے میں کئی لوگوں نے بی بی شہید سے شکایات کیں، مگر بی بی نے ہمیشہ مجھ پر اعتماد کیا۔ بی بی کا صرف ایک ہی موقف تھا کہ عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنا ہے۔ ہر کام میرٹ پر ہو، عوام کو راضی رکھو۔ اینکر کے سوال پر قائم علی شاہ کا کہنا تھا کہ جن لوگوں نے میں بارے میں شکایات کی تھیں اب وہ سیاست میں موجود نہیں ہیں، اس لیے ان کے بارے میں بات کرنا فضول ہے۔

بی بی کے بعد بھی آصف زرداری نے مجھ پر اعتماد کیا اور کئی بار مجھے اشارے دیا کرتے تھے کہ کس چیز کو کس طرح صحیح کرنا ہے جیسے کہ لینڈز ریفارم میں زرداری صاحب نے مجھے اشارہ دیا کہ ان ریفارمز کو ذوالفقار علی بھٹو کے ریفارمز کے مطابق ہی ترتیب دینا ہے۔

سائیں قائم علی شاہ پیپلز پارٹی کے ان رہنماؤں میں سے ہیں جنہوں نے ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو، آصف علی زرداری ان تینوں کے ساتھ کام کیا ہے اور اب بلاول بھٹو کے ساتھ بھی کام کر رہے ہیں۔ لیکن بلاول کے بارے میں قائم علی شاہ کہتے ہیں کہ بلاول کو ابھی پاکستانی سیاست میں وقت لگے گے، اگرچہ بلاول کا انداز اپنے نانا جیسا ہے مگر فالحال بلاول کو ایڈمنسٹریشن کے بارے میں سمجھ نہیں ہے۔

سائیں قائم علی شاہ کا کہنا تھا کہ میں نے بلاول کو روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ سکھایا، اس نعرے کا مطلب میں نے سمجھایا تھا۔

قائم علی شاہ اس وقت سے نالاں ہیں جب انہیں وزارت اعلیٰ سے ہٹایا گیا تھا۔ قائم علی شاہ کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ کہتے تھے کہ میں نے کام نہیں کرایا اپنے دور میں۔ حالانکہ میرے دور میں سب سے اچھا کام ہوا ہے۔

میری خواہش تھی کہ میں اپنا ٹینور مکمل کروں مگر یہ خواہش ادھوری رہ گئی تھی، حالانکہ مجھے کہا گیا تھا کہ آپ اپنا ٹینور مکمل کریں گے۔ بی بی شہید کے بعد ہم نے سندھ میں اب تک 3 لاکھ کے قریب نوکریاں دی تھیں۔

جب نئی گورمنٹ آئی تو مجھ پر الزام لگایا گیا کہ میں کام نہیں کر رہا ہوں، دراصل وہ گورمنٹ اپنا ایک تاثر دینا چاہ رہی تھی۔

واضح رہے اس وقت قائم علی شاہ اسمبلی کے ممبر نہیں ہیں البتہ ان کی بیٹی نفیسہ شاہ قومی اسمبلی کی ممبر ہیں جبکہ بہو سیدہ حنا شاہ جہلم سے ٹکٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکی ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US