’تہران امریکہ سے رابطے ضرور رکھے گا لیکن اس کی نظریں اب چین، روس اور پاکستان پر مرکوز ہیں‘: علی خامنہ ای کی موت ایران میں کیا تبدیلی لائی؟

امریکہ اور اسرائیل کی جنگ میں 28 فروری کو ایران کے رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای بھی مارے گئے تھے۔ اب جب ایران میں ان کی آخری رسومات ادا کی جا رہی ہیں اور ان کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای رہبرِ اعلیٰ کی مسند پر براجمان ہیں، تو یہ سوال اُٹھتا ہے کہ سابق رہبر اعلیٰ کی ہلاکت سے ایران میں کیا تبدیلی آئی اور کیا ان کے مقابلے میں ملک کی نئی قیادت مغربی دنیا سے بہتر تعلقات چاہتی ہے؟
Iran
Getty Images

دہائیوں تک ایران میں سخت گیر قدامت پسندوں کو تہران اور مغربی دنیا کے درمیان بہتر تعلقات میں رکاوٹ اور کشیدگی کی بڑی وجہ سمجھا جاتا رہا ہے۔

اسرائیل اور امریکہ کی ایران کے خلاف جنگ بھی اسی سوچ کی عکاسی کرتی تھی کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس جنگ کے دوران خود کئی مرتبہ تہران میں حکومت کی تبدیلی کی بات کر چکے ہیں۔

اب بھی ان کا مؤقف یہی ہے کہ ایران میں پرانی قیادت اس جنگ میں ختم ہو چکی اور جن افراد سے امریکہ مذاکرات کر رہا ہے وہ نئی قیادت کا حصہ ہیں۔

امریکہ اور اسرائیل کی جنگ میں 28 فروری کو ایران کے رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای بھی مارے گئے تھے، جن کے امریکہ اور مغرب ممالک خیالات سے دنیا واقف تھی اور یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ وہ ایک طویل عرصے تک ایران کے سب سے طاقتور رہنما رہے ہیں۔

ان کی ہلاکت کے بعد تقریباً تین مہینوں تک امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کسی نہ کسی صورت میں جاری رہی اور اس کا خاتمہ پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات اور مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے سبب ہوا۔

اب جب ایران میں علی خامنہ ای کی آخری رسومات ادا کی جا رہی ہیں اور ان کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای رہبرِ اعلیٰ کی مسند پر براجمان ہیں، تو یہ سوال اُٹھتا ہے کہ سابق رہبر اعلیٰ کی ہلاکت سے ایران میں کیا تبدیلی آئی اور کیا ان کے مقابلے میں ملک کی نئی قیادت مغربی دنیا سے بہتر تعلقات چاہتی ہے؟

علی خامنہ ای کی موت کے بعد ملک میں آنے والی تبدیلی

ایران کی سیاست اور مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر گہری نظر رکھنے والے مبصرین اس بات سے متفق ہیں کہ سابق رہبرِ اعلیٰ کی ہلاکت کے بعد ملک میں نمایاں سیاسی تبدیلی دیکھنے میں آئی۔

Iran
Getty Images

ایران پر دو کتابوں ’دا شیڈو کمانڈر‘ اور ’واٹ ایرانینز وانٹ: ویمن لائف، فریڈم‘ کے مصنف آرش عزیزی سمجھتے ہیں کہ علی خامنہ ای کی ہلاکت سے قبل ہی ایران میں رہبرِ اعلیٰ کے اختیارات عسکری طرز کی قیادت، جیسے کہ نیشنل سکیورٹی کونسل کی طرف منتقل ہونا شروع ہو گئے تھے اور خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد اس میں تیزی دیکھنے میں آئی۔

پچھلی کئی دہائیوں سے ایران کا چہرہ نظریات پر کھڑی ایک مذہبی ریاست کے طور پر دیکھا جاتا تھا لیکن آرش عزیزی نے بی بی سی نیوز اردو کو بتایا کہ ’اب ایران نظریاتی مذہبی ریاست سے زیادہ ایک ایسا ملک نظر آتا ہے جس کی تمام تر توجہ سکیورٹی پر مرکوز ہے اور خطے میں ایسی کئی سخت گیر ریاستیں، جیسے کہ مصر موجود ہیں۔‘

امریکی تھنک ٹینک سٹمسن سینٹر سے منسلک ایرانی امور کی ماہر باربرا سلاون بھی ایسے ہی نقطے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’ایران کبھی بھی مکمل طور پر آمریت نہیں رہا لیکن علی خامنہ ای کی موت کے بعد اس کی قیادت میں اجتماعیت کا عنصر غالب نظر آ رہا ہے۔‘

علی خامنہ ای کی موت کے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو مارچ میں ملک کا نیا رہبرِ اعلیٰ مقرر کیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے ہی ان سے منسوب بیانات ضرور ایران کے سرکاری میڈیا پر نشر ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں لیکن وہ خود تاحال عوامی نگاہوں سے اوجھل رہے ہیں۔

یہاں تک کہ جب ان کے والد اور دیگر اہلخانہ کی آخری رسومات ادا کی گئیں تو تب بھی وہ وہاں موجود نہیں تھے۔

باربرا سلوان کہتی ہیں کہ ’مجتبیٰ خامنہ ای کی مسلسل عوامی منظرنامے سے غیرموجودگی کے باعث ہم دیکھ رہے ہیں کہ ایران کے اعلیٰ رہنما نظام کی بقا کے لیے مختلف حکمتِ عملیوں پر بحث کر رہے ہیں اور اتفاق رائے قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

ایران کی نئی قیادت امریکہ اور یورپ سے کیسے تعلقات چاہتی ہے؟

پچھلی کئی دہائیوں سے ایران میں طاقتور سخت گیر ریاستی حلقوں اور ان کے حامیوں کی جانب سے ’مرگ بر امریکہ‘ (امریکہ مردہ باد) کا نعرہ لگنا ایک عام سی بات بن گئی تھی۔

اب امریکہ اور ایران کے درمیان گذشتہ مہینے پاکستان کی ثالثی میں ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو چکے ہیں اور 60 دن میں دونوں ممالک تہران کے جوہری پروگرام اور اس پر عائد پابندیوں سمیت متعدد امور پر بات چیت کریں گے۔

ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد قالیباف اور وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سمیت متعدد ایرانی رہنما امریکہ مخالف بیانات دیتے نظر آتے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی وہ امریکہ کے ساتھ مذکرات سے پیچھے نہیں ہٹ رہے۔

Iran
Getty Images

یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایران کی نئی قیادت علی خامنہ ای کے مقابلے میں امریکہ یا یورپ کے بارے میں اپنے نظریات میں نرمی رکھتی ہے؟

آرش عزیزی اس سوال کا جواب کچھ اس طرح دیتے ہیں کہ ’ایران کی نئی قیادت کم نظریاتی ہے اور اس کی توجہ سکیورٹی اور عسکری امور پر زیادہ ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے ایران کی نئی قیادت کا نقطۂ نظر علی خامنہ ای کے مقابلے میں زیادہ عملی اور حقیقت پسندانہ ہے۔ اس قیادت نے 1979 کے بعد پہلی مرتبہ امریکہ کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کی اجازت دی، جس سے علی خامنہ ای ہمیشہ انکار کرتے رہے تھے۔‘

تاہم ’بِٹر فرینڈز، بوسم اینیمیز: ایران، دا یو ایس اینڈ دا ٹویسٹڈ پاتھ ٹو کنفرنٹیشن‘ کی مصنفہ باربرا سلاون سمجھتی ہیں کہ تہران اب بھی واشنگٹن کے ساتھ بات چیت مجبوری کے تحت ہی کر رہا ہے۔

انھوں نے بی بی سی نیوز اردو کو بتایا کہ ’ایران اپنی ضرورت کے مطابق عملی فوائد حاصل کرنے کے لیے امریکہ کے ساتھ رابطے ضرور رکھے گا لیکن ایران کی نظریں اب زیادہ مضبوطی کے ساتھ چین، روس، پاکستان اور وسطی ایشیا پر مرکوز ہیں۔‘

وہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’برسوں کی پابندیوں اور گذشتہ جوہری معاہدے کی ناکامی نے ایران کے پاس کوئی دوسرا راستہ چھوڑا ہی نہیں۔‘

کیا ایران میں سخت گیر حلقے نئی قیادت پر غالب آنے کی طاقت رکھتے ہیں؟

ماضی میں یہی کہا جاتا رہا کہ ایران میں پالیسیوں کی تشکیل سخت گیر حلقوں کی منظوری کے بغیر نہیں ہو سکتی تھی اور علی خامنہ ای اس نظام کا حقیقی مرکز تھے۔ اس تمام نظام کو چلانے میں پاسدارانِ انقلاب کا ہمیشہ سے ہی ایک کلیدی کردار رہا اور اب بھی یہ سوالات اُٹھ رہے ہیں کہ ملک کا سب سے طاقتور ادارہ اس وقت کیا سوچ رہا ہے؟

ماہرین اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ ایران میں سخت گیر حلقے اب بھی نئی قیادت کی جانب سے لیے گئے فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم اب تک انھیں اس میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

آرش عزیزی کہتے ہیں کہ ’موجودہ قیادت کو بیشتر اصلاح پسندوں، مغرب کی طرف جھکاؤ رکھنے والے اعتدال پسند حلقوں اور روایتی طور پر قدامت پسند سمجھے جانے والے حلقوں کی وسیع حمایت حاصل ہے۔‘

’یہ تمام حلقے اس بات سے متفق دکھائی دیتے ہیں کہ اقتصادی ترقی کے راستے پر گامزن ہونے کے لیے امریکہ کے ساتھ کسی نہ کسی سطح پر مفاہمت ضروری ہے۔‘

Iran
Getty Images

ان کے مطابق نئی ایرانی قیادت میں پائے جانے والے اتفاق کی مخالفت کرنے والے سخت گیر حلقے ’فی الحال اقتدار کے اعلیٰ ایوانوں میں زیادہ اثر و رسوخ نہیں رکھتے۔‘

باربرا سلاون بھی سمجھتی ہیں کہ ایران میں سخت گیر عناصر اس وقت ملک کی نئی خارجہ پالیسی پر اثر انداز ہونے میں ناکام نظر آتے ہیں۔

’دھڑے بندی ایران کے سیاسی نظام کا ہمیشہ سے ایک نمایاں پہلو رہی اور اس وقت بھی جبھۃ پائیداری انقلاب اسلامی جیسے سخت گیر گروہ ملک میں اپنی سیاسی اہمیت برقرار رکھنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔‘

تاہم وہ سمجھتی ہیں کہ ایران میں اب وسیع پیمانے پر اتفاق رائے ابھرتا ہوا دکھائی دیتا ہے، جو ’مذاکرات اور مزاحمت‘ کی ملی جُلی حکمتِ عملی کے گرد تشکیل پایا۔

’اس حکمتِ عملی کا مقصد جنگ کے خاتمے سے جلد از جلد عملی فوائد حاصل کرنا ہے،جبکہ آبنائے ہرمز پر اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنا اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات کو محتاط اور بتدریج انداز میں آگے بڑھانا بھی اسی کا حصہ ہے۔‘

تاہم آرش عزیزی کہتے ہیں کہ ملک میں موجود سخت گیر عناصر اب بھی ملک کی خارجہ پالیسی پر اثر انداز ہونے کی کوشش جاری رکھیں گے۔

’ان عناصر کی امید یہ ہے کہ وہ مجبتیٰ خامنہ ای کو اپنی جانب مائل کر سکیں تاکہ انھیں محمد باقر قالیباف اور قومی سلامتی کونسل کے خلاف ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔‘

تاہم بی بی سی نیوز اردو سے گفتگو کرنے والے دونوں ہی ماہرین سمجھتے ہیں کہ ایران میں بھلے سے ہی سخت گیر عناصر اپنی اہمیت کھو چکے ہوں مگر طاقتور پاسدارانِ انقلاب کی قوت میں اب بھی کمی نہیں آئی۔

Iran
Getty Images

سٹمسن سینٹر سے منسلک باربرا سلاون کہتی ہیں کہ ’پاسدارانِ انقلاب اب پہلے سے بھی زیادہ مضبوط ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای کا ہمیشہ فوجی حلقوں کے ساتھ قریبی تعلق رہا اور اگر یہ فرض بھی کر لیا جائے کہ وہ زندہ اور پورے ہوش حواس میں ہیں تب بھی وہ ایسی پوزیشن میں نہیں کہ پاسدارانِ انقلاب کے فیصلوں کی راہ میں رکاوٹ بن سکیں۔‘

دوسری جانب آرش عزیزی سمجھتے ہیں کہ پاسدارانِ انقلاب کوئی مکمل طور پر یکجا اور ہم آہنگ تنظیم نہیں بلکہ اس کے اندار بھی طاقت کے کئی مراکز ہیں۔

’اس میں موجود مختلف گروہ اب بھی انتہائی بااثر ہیں اور علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد ان کے اثر و رسوخ میں مزید اضافہ ہوا۔‘

امریکہ اور ایران مذاکرات کا مستقبل

خامنہ ای
Getty Images

پاکستان اور قطر کی ثالثی میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے باوجود بھی ایران اور امریکہ کی قیادتیں اکثر اوقات ایک دوسرے کے خلاف دھمکی آمیز بیانات دیتی ہوئی نظر آتی ہیں، مذاکرات جاری ہونے کے باوجود بھی ایران خطے میں موجود امریکی عسکری اڈوں اور امریکہ ایران میں عسکری مراکز پر حملے کرتا ہوا نظر آیا۔

کئی لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال بھی ہے کہ موجودہ حالات میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کب تک برقرار رہے گی؟

باربرا سلاون کہتی ہیں کہ ایران اور امریکہ دونوں ہی آبنائے ہرمز کے معاملے پر مفاہمتی یادداشت کی اپنی اپنی تشریحات پیش کر رہے ہیں اور دونوں کے درمیان ایک سیاسی رسہ کشی جاری ہے لیکن اس کے باوجود بھی جنگ بندی برقرار ہے۔

’ایران اس بات سے فائدہ اُٹھا رہا ہے کہ اسے 60 دن کے لیے آزادانہ طور پر تیل برآمد کرنے کی سہولت حاصل ہے اور اسے یہ بھی امید ہے کہ اس کے کچھ منجمد اثاثے اسے واپس مل جائیں گے۔‘

’دوسری جانب ٹرمپ کی امریکہ میں وسط مدتی انتخابات سے قبل جنگ کے دوبارہ آغاز میں دلچسپی دکھائی نہیں دے رہی۔‘

ایران کے سرکاری میڈیا اور اس کے موجودہ مرکزی رہنماؤں نے امریکہ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت اور مذاکرات کو اپنی فتح کے طور پر پیش کیا۔

ایرانی امریکی تجزیہ کار آرش کے خیال میں تہران میں موجودہ قیادت مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

’اسے ایران میں کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو منجمد اثاثوں کی بحالی، ممکنہ سرمایہ کاری کے حصول اور معیشت اور اس کی بین الاقوامی ساکھ کو معمول پر لانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔‘

Iran
Getty Images

تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ ایران میں سخت گیر عناصر امریکہ کے ساتھ مذاکرات کو اپنے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ ایران کے نطام کے لیے جھٹکے جیسا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اسے آگے بڑھانا شاید آسان نہ ہو۔‘

’ایران میں انتہائی سخت گیر عناصر اور پاسدارانِ انقلاب کے بعض حلقے اسے اپنے مفادات کے لیے خطرہ تصور کر سکتے ہیں اور اسے سبوتاژ کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US