نور مقدم کے قاتل ظاہر جعفر کو جوڈیشل مجسٹریٹ نے جیل بھیج دیا ہے۔ قاتل کو جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر تھانہ کوہسار پولیس نے ڈیوٹی جوڈیشل مجسٹریٹ شائستہ کنڈی کی عدالت میں پیش کیا جہاں پر ایف ایٹ کچہری اور اطراف میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ سماعت کے دوران تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم سے تمام تر تفتیش مکمل ہو چکی ہے، جس پر عدالت نےملزم سے کہا کہ اب آپ کیا عدالت کےسامنےکچھ کہناچاہتے ہیں؟جس پر
ظاہر نے کہا میرے وکیل بات کریں گے۔
جبکہ ان کے وکیل کی جانب سے کوئی خاص جواب نہ دیا گیا۔
پولیس نے ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کی درخواست کی ، جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے ملزم ظاہرجعفرکو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پرجیل بھیج دیا اور 16 اگست کودوبارہ ڈیوٹی مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ سپریم کورٹ اس فیصلے پر کیا حتمی جواب دے گا اور کیس کا روپ کس طرف موڑا جائے گا۔
واضح رہے کہ پولیس نے ملزم ظاہر جعفر کے علاوہ اس کے والد ، والدہ اور دو گھریلو ملازمین کو بھی اعانت جرم اور شواہد مٹانے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔