شرم آنی چاہیئے ان لوگوں کو ۔۔ نامعلوم افراد نے نور کی تصویر پر سیاہی پھینک دی، جانیئے واقعہ کہاں پیش آیا؟

image

نور مقدم قتل کیس کی گذشتہ روز ہی تو تفتیش مکمل ہوئی ہے اور کورٹ میں ملزم ظاہر جعفر نے چیف جسٹس کے استفسار پر کوئی جواب نہ دیا محض اس کے کہ میرے وکیل بات کریں گے۔ جس پر اس کو عدالت کی جانب سے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا تھا، مگر آج سیالکوٹ سے ایک شرمناک خبر سامنے آ رہی ہے۔

سیالکوٹ کے گھنٹہ گھر پر جسٹس فآر نور کے لئے ایک احتجاجی ریلی کچھ روز قبل نکالی گئی تھی جہاں اس کی تصاویر اور ایک بڑا سا پوسٹر بھی آویزاں تھا، اس پر لکھا تھا کہ نور مقدم کے لئے انصاف چاہیئے، ساتھ ہی ایک اور جملا بھی شاعری کے انداز میں لکھا تھا کہ: '' پانی آنکھ میں بھر کر لایا جاسکتا ہے، ابھی بھی جلتا شہر بچایا جاسکتا ہے۔ ''

اس پوسٹر پر نور مقدم کی بنی ہوئی تصویر پر نامعلوم افراد نے سیاہی پھینک دی، جس سے یہ بات صاف واضح ہو رہی ہے کہ نور کو غلط سمجھا جا رہا ہے یا کوئی نور کو اس تمام واقعے میں گناہگار سمجھتا ہے یا پھر اس کیس کا رخ موڑنے کے لئے ایسی فضول حرکت کی گئی ہے۔ اس حرکت پر ٹوئٹر پر جسٹس فآر نور ایک مرتبہ پھر ٹاپ ٹرینڈ بن رہا ہے اور صارفین اس تصویر کو شیئر کرتے ہوئے اپنے کمنٹس میں نفرت کا اظہار کر رہے ہیں۔

کسی نے کہا کہ شرم آنی چاہیئے ان جاہلوں کو تو کسی نے کہا کہ یہ کون لوگ ہیں جو نور کو قصوروار سمجھتے ہیں تو کسی نے لکھا کہ جس نے کیا ہے وہی مجرم ہے، تو کسی نے کہا کہ نور کی صرف ایک تصویر اس کا پوسٹر تک ان لوگوں نے برداشت نہیں ہو رہا، کسی نے یہاں تک کہا کہ ہم ایک قوم بننے میں ایک مرتبہ پھر الگ ہوگئے۔

جہاں انصاف مانگنے کی بات آئی تو اب وہیں ایک ایسی تصویر سوشل میڈیا پر نور کی گردش کر رہی ہے، جس میں اس کو اچھی طرح پینٹ کیا گیا ہے جس پر لوگوں نے شدید غم و غصے کا ظہار کیا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US