جہاز کا سفر جتنا آرام دہ نظر آتا ہے اتنا ہوتا نہیں کیونکہ مشکل وقت آنے میں دیر نہیں لگتی۔ ا دنیا میں ایسےکئی کیسز سامنے آچکے ہیں جب جہاز اپنی منزل تک پہنچنے سے قبل ہی سنگین حادثے کا شکار ہوگیا اور کئی کے تو پرزے تک باقی نہ رہے ۔
حالانکہ جہاز کی اڑان سے قبل اس کا مکمل طور پر معائنہ کیا جاتا ہے لیکن اگر آسمان میں اڑان کے وقت جہاز میں کوئی فنی خرابی پیدا ہوجائے تو حادثے کے ١٠٠ فیصد امکانات ظاہر ہوجاتے ہیں۔
اب تک کئی خاندان جہاز حادثے میں ہلاک ہوچکے ہیں جن کی داستانیں سن کر دل خون کے آنسو رونے لگتا ہے۔
آج ہم ایک گلگتی فیملی کی بات کرنے جا رہے ہیں جن کاپی آئی اے فلائیٹ ٤٠٤ طیارے حادثے میں ہلاک ہوگئے تھے۔
جب گلگت کے رہائشی شاہد اقبال سے پی آئی اے کی بدقسمت فلائیٹ 404 کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے اس کا جواب کچھ یوں دیا۔
25 اگست 1989 کی صبح لگ بھگ ساڑھے بجے گلگت سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہونے والی پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کی فلائیٹ نمبر 404 پر مسافروں اور عملے کے ارکان سمیت کُل 54 افراد سوار براجمان تھے، جن میں پانچ شیرخوار بچے بھی موجود تھے۔
اِس فلائیٹ کو گلگت سے روانہ ہوئے پورے 32 برس بیت چکے ہیں لیکن اب تک اس پرواز کی خبر نہ مل سکی۔ اس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہو سکا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا اور کن حالات میں حادثہ پیش آیا۔ حکام نے طیارے کے ملبے کو ڈھونڈنے کی طویل مگر ناکام کوششوں کے بعد اس فلائیٹ پر سوار تمام افراد کو مردہ قرار دے دیا تھا۔
بد قسمت طیارے میں عبدالرزاق ایڈووکیٹ کی بیٹی نیلوفر، ان کے شوہر ناصرالدین اور کم عمر نواسی بھی شامل تھے۔
عبدالرزاق کے بیٹے شاہد اقبال بتاتے ہیں کہ اُن نے والد نے اپنی زندگی میں ذاتی طور پر بھی اس طیارے کو ڈھونڈنے کی بہت کوشش کی کیونکہ وہ کہتے تھے کیا جہاز کا ملبہ ہے یا پھر سوئی جو ڈھونڈنے والوں کو نظر نہیں آ رہا؟
گلگت کے رہائشی شاہد اقبال حادثے کا شکار پی آئی اے کی فلائیٹ 404 کے بارے میں سوال پوچھا تو انھوں نے اس کا جواب کچھ یوں دیا۔
انہوں نے کہا کہ میرے والد آخری لمحات تک اپنی بیٹی، داماد اور کمسن نواسی کو یاد کرتے رہتے تھے۔ اپنی زندگی میں انھوں نے ہمالیہ کے پہاڑوں سے لے کر افغانستان اور بھارت کے ساتھ موجود پاکستان کے سرحدی و شمالی علاقوں تک طیارے کے ملبے کو تلاش کرنے کی ناکام کوششیں کیں، مگر ڈھونڈنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ وہ لمحہ عبدالرزاق کے لیے انتہائی کافی مشکل اور سخت ہوگا۔
شاہد اقبال کا کہنا تھا کہ میرے بہنوئی ناصرالدین زرعی بینک گلگت میں مینجر تھے۔وہ اپنے ایک سینیئر ساتھی آصف الدین کے ہمراہ اسلام آباد روانہ ہو رہے تھے۔ اس طیارے میں آصف الدین کی بیگم اور بچے بھی موجود تھے۔‘
کوئی ڈیڑھ گھنٹے بعد جب ہم لوگوں نے معلوم کرنا چاہا کہ وہ خیر خیریت سے اسلام آباد پہنچ گئے ہیں تو خبر ملی کہ طیارہ ہی لاپتہ ہو چکا ہے۔ یہ خبر سُن کر ہم پر تو جیسے قیامت ہی ٹوٹ پڑی تھی۔
فلائیٹ نمبر 404 کے ساتھ کیا ہوا تھا؟
بی بی سی نےجب پی آئی اے اور سول ایوی ایشن اتھارٹی سے فلائیٹ نمبر 404 کے حوالے سے معلومات حاصل کرنا چاہیں تو انہوں نے بتایا گیا کہ یہ واقعہ بہت پرانا ہے، اس حوالے سے کوئی تحقیقاتی رپورٹ ریکارڈ میں موجود نہیں ہے۔
دونوں اداروں کے مطابق وہ اس فلائیٹ کے حوالے سے کوئی بھی معلومات فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔
لاپتہ ہونے سے قبل یہ طیارہ مجموعی طور پر ساڑھے چوالیس ہزار گھنٹوں سے زائد کی پرواز مکمل کر چکا تھا۔