پنجاب حکومت نے رواں مالی سال کے لیے 42 ارب روپے کے پراپرٹی ٹیکس ہدف کے حصول اور ٹیکس چوری کی روک تھام کے لیے صوبہ بھر میں 12 سال بعد ڈیجیٹل پراپرٹی سروے کرانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
ایکسائز حکام کے مطابق لاہور سمیت پنجاب بھر میں ٹیکس نیٹ سے باہر اور کم ٹیکس ادا کرنے والی جائیدادوں کی نشاندہی کے لیے جدید جی آئی ایس (GIS) ٹیکنالوجی پر مبنی سروے کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے اربن یونٹ، پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی (پلرا) کے ڈیٹا کو مدنظر رکھتے ہوئے سروے مکمل کرے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل سروے کے ذریعے تمام غیر رجسٹرڈ (ان اسیسڈ) اور کم ٹیکس ادا کرنے والی (انڈر اسیسڈ) پراپرٹی یونٹس کو ٹیکس نیٹ میں شامل کیا جائے گا، جس سے محصولات میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
پائلٹ منصوبے کے تحت رواں ماہ لاہور کے زون 13 میں ڈیجیٹل سروے کا آغاز کیا جائے گا۔ منصوبے کی کامیاب تکمیل کے بعد حکومت کی جانب سے فنڈز کی فراہمی پر اس سروے کا دائرہ پورے پنجاب تک وسیع کیا جائے گا۔
ایکسائز حکام کے مطابق اس وقت لاہور میں 9 لاکھ سے زائد جبکہ پنجاب بھر میں 25 لاکھ سے زیادہ پراپرٹی یونٹس پراپرٹی ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔ صوبے میں ٹیکس ایبل اور نان ٹیکس ایبل ملا کر 45 لاکھ سے زائد پراپرٹی یونٹس کا ریکارڈ موجود ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ جدید ڈیجیٹل سروے کا بنیادی مقصد ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا، ٹیکس چوری کی روک تھام کرنا اور رواں مالی سال کے لیے مقرر کردہ 42 ارب روپے کے پراپرٹی ٹیکس ہدف کو حاصل کرنا ہے۔