بحیرۂ عرب میں لاپتہ پاکستانی طیارے اور عملے کی تلاش جاری: ’شارجہ میں طیارے کی مرمت ہوئی تھی‘

شارجہ سے کراچی کے سفر کے دوران پاکستانی ساحلی حدود میں لاپتہ ہونے والے کارگو طیارے کی تلاش کا عمل جاری ہے تاہم واقعے کو 18 گھنٹے سے زیادہ وقت گزرنے کے باوجود تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔

شارجہ سے کراچی کے سفر کے دوران پاکستانی ساحلی حدود میں لاپتہ ہونے والے کارگو طیارے کی تلاش کا عمل جاری ہے تاہم واقعے کو 18 گھنٹے سے زیادہ وقت گزرنے کے باوجود تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔

پاکستانی حکام کے مطابق منگل کی شب نو بج کر 21 منٹ پر ریڈار پر طیارہ تیزی سے نیچے آتا ہوا نظر آیا تھا اور اس کا رُخ اچانک تبدیل ہوتا دیکھا گیا جس کے بعد کراچی سے تقریباً 155 ناٹیکل میل مغرب میں طیارے سے ریڈار اور مواصلاتی رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔

بدھ کو پاکستانی بحریہ کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ تلاش کے کام میں نیوی سمیت دیگر ادارے حصہ لے رہے ہیں۔ ترجمان کے مطابق بحریہ کا جہاز پی این ایس ذوالفقار، پی این ایس حنین اور اے ٹی آر طیارہ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں شامل ہیں۔

جبکہ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق اس ریسکیو آپریشن میں پاکستانی فضائیہ بھی حصہ لے رہی ہے۔

ترجمان نیوی کے مطابق لاپتہ طیارے کو بلوچستان کے ساحلی شہر اورماڑہ کے جنوب میں بحیرۂ عرب میں تلاش کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت سمندر میں شدید طغیانی ہے جس کی وجہ سے ریسکیو آپریشن میں مشکلات سامنے آ رہی ہیں۔

پاکستان نیوی کے ترجمان کا کہنا تھا کہ تاحال لاپتہ طیارے کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔

لاپتہ ہونے والا طیارہ بوئنگ 737 ہے اور پاکستان کے شہر کراچی میں قائم ایک نجی فضائی کمپنی کے ٹو ایئرویز کی ملکیت ہے جس کا کہنا ہے کہ طیارے میں عملے کے پانچ ارکان سوار تھے، جن میں محمد رضوان ادریس (پائلٹ اِن کمانڈ)، فیصل محمود (فرسٹ آفیسر)، محمد توفیق خان (لوڈ ماسٹر)، عارف صدیقی (انجینیئر) اور محمد حامد (انجینیئر) شامل ہیں۔

طیارے میں سوار فرسٹ آفیسر فیصل محمود کے سسر غلام نبی بھرانی نے بی بی سی سے بات کی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ فیصل محمود تقریباً 10 روز قبل شارجہ گئے تھے۔ ’یہ دورہ ایک دن کا تھا لیکن وہاں طیارے میں خرابی پیدا ہو گئی۔‘

غلام نبی بھرانی کے مطابق ان کے داماد نے ’گھر پر بتایا تھا کہ خرابی دور کرنے کے لیے امریکہ سے ایک پرزہ منگوایا گیا ہے، جو تبدیل کیے جانے کے بعد وہ واپس روانہ ہوں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پرزہ آنے کے بعد اسے طیارے میں نصب کیا گیا، پھر طیارے کا معائنہ کیا گیا اور اس کے بعد واپسی کی پرواز روانہ ہوئی۔

غلام نبی بھرانی نے بتایا کہ شارجہ سے طیارے نے پاکستانی وقت کے مطابق تقریباً شام سات بج کر 10 منٹ پر اڑان بھری تھی۔

غلام نبی بھرانی نے بتایا کہ فیصل محمود نے دو ماہ قبل اس کارگو ایئرلائن میں ملازمت اختیار کی تھی۔ اس سے قبل وہ سیرین ایئر میں ملازمت کرتے تھے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ فیصل جتوئی کے والد بھی پائلٹ ہیں۔

واقعہ پیش کیسے آیا؟

پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے مطابق اس پرواز نے مقامی وقت کے مطابق منگل کی رات نو بج کر 18 منٹ پر نیوی گیشن سسٹم میں خرابی کی اطلاع دی تھی جس کے بعد کراچی ایریا کنٹرول سینٹر (اے سی سی) نے فوری طور پر طیارے کی رہنمائی کی۔

بیان کے مطابق رات نو بج کر 21 منٹ پر ریڈار پر طیارہ تیزی سے نیچے آتا ہوا نظر آیا اور اس کا رخ اچانک تبدیل ہوتا دیکھا گیا، جس کے بعد کراچی سے تقریباً 155 ناٹیکل میل مغرب میں طیارے سے ریڈار اور مواصلاتی رابطہ منقطع ہو گیا۔

پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے مطابق واقعے کے بعد ریسکیو کوآرڈی نیشن سینٹر کو فعال کر دیا گیا جبکہ لا پتہ طیارے کی تلاش کے لیے مختلف اداروں کے تعاون سے سمندر میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا۔

پروازوں کی نگرانی کرنے والی سروس فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق اس طیارے نے 28 جون کے بعد کوئی پرواز نہیں کی تھی۔

کمپنی کی ویب سائٹ کے مطابق اس کے پاس ایک 737 فریٹر طیارہ ہے جو 2024 میں کراچی پہنچا تھا۔

فلائٹ ریڈار 24 کے اعداد و شمار کے مطابق طیارے کے آخری لمحات غیر معمولی تھے۔ یہ ایک منٹ سے بھی کم وقت میں تقریباً 5,000 فٹ نیچے آیا، پھر صرف 30 سیکنڈ میں تقریباً 6,000 فٹ اوپر گیا، جس کے بعد 36,550 فٹ کی بلندی سےغیر معمولی انداز میں نیچے آیا۔

فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق موصول ہونے والے آخری اعداد و شمار کے مطابق طیارہ سطحِ سمندر سے 1,100 فٹ کی بلندی پر تھا اور یہ ایک منٹ میں 22,400 فٹ کی رفتار سے نیچے آ رہا تھا، جو تقریباً 400 کلومیٹر فی گھنٹہ بنتی ہے۔ یہ نیچے آنے کی انتہائی غیر معمولی اور بہت تیز رفتار تھی۔

طیارے کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

کے ٹو ایئر ویز پاکستان کے شہر کراچی میں قائم ایک نجی فضائی کمپنی ہے۔

یہ فضائی کمپنی مئی 2018 میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے جاری کردہ ایئرلائن چارٹر لائسنس کے تحت قائم کی گئی تھی۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق لا پتہ طیارہ بوئنگ 737کا ایک پرانا ماڈل 737-400 ہے۔ یہ 1999 میں روس کی ایروفلوٹ ایئرلائن کو مسافر طیارے کے طور پر فراہم کیا گیا تھا اور 2012 میں اسے کارگو طیارے میں تبدیل کیا گیا۔

یہ کے ٹو ایئر ویز کا واحد طیارہ ہے اور 2024 میں اس کی سروس میں شامل ہوا تھا۔ یہ 737 میکس طیارے سے دو جنریشن پرانا ہے اور اسے حالیہ برسوں میں حفاظتی مسائل کا سامنا رہا ہے۔

روئٹرز کے مطابق اس طیارے میں سی ایف ایم انٹرنیشنل کے تیار کردہ انجن نصب ہیں، جو جی ای ایرو اسپیس اور فرانس کی سفراں کی مشترکہ ملکیت والی کمپنی ہے۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US