مائیں اپنے بچوں کی تربیت کے حوالے سے بہت زیادہ سنجیدہ رہتی ہیں اور ان کی ہر ممکن کوشش ہوتی ہے کہ وہ بچوں کے لئے بہتر سے بہتر انتظامات کریں، ان کی دیکھ بھال کریں۔ کچھ روز قبل ابرابر الحق کا ایک بیان سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ :
''
’ہم جب اپنی ماں کی گود میں ہوتے تھے تو ہمیں کلمہ ملتا تھا سننے کو۔آج کے بچے کو فون دے دیتی ہے ماں ہاتھ میں، اس پر لگا ہوتا ہے بے بی شارک''
اس بیان پر جہاں اداکاراؤں نے اپنے ردِعمل کا اظہار کیا وہیں کچھ عام ماؤں نے بھی اپنے ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ:
''
کس نے کہا آج کی مائیں بچوں کو دین کی تعلیم نہیں دیتی ہیں، ہمیشہ سے ہی اپنے بچوں کو کلمہ اور دعائیں سکھاتی ہوں، اس کے سامنے اللہ کے نام کی تلاوت لگاتی ہوں، اس کو شروع میں ہی تمام انبیاءَ کرام کے نام سب سے پہلے بچے کو سکھائے۔
''
ماؤں کو ہزاروں لوگ طعنے دیتے ہیں خاص طور پر ایک نئی بننے والی ماں کو، ایک ایسی ہی کراچی سے تعلق رکھنے والی ماں کا تذکرہ ہماری ویب میں آپ کو بتانے جا رہے ہیں جن کو دورانِ حمل اور بچہ پیدا ہونے کے بعد بھی کئی چیلنجز تھے۔
٭ بچہ صرف ماں کا دودھ پیتا تھا اور فیڈر والے دودھ کو پسند نہیں کرتا تھا، جس پر سسرال کی جانب سے سننے کو ملا کہ ہر وقت بچے کے لئے ماں کا دودھ صحیح نہیں بلکہ بڑھتا بچہ ہے اس کو فیڈر کا دودھ بھی پلاؤ، پھر بچہ رات بھر روئے یا دیر سے سوئے تو ماں بھی دیر سے سوتی تھی، صبح اٹھنے میں دیر ہو جائے تو ساس کی جانب سے باتیں سننی پڑتی ہیں کہ ہمیں ناشتہ وقت پر نہیں دیا، وغیرہ وغیرہ۔ اس سب میں ماں ذہنی دباؤ کا شکار ہوتی ہے، لیکن اپنی ممکنہ کوشش کرتی ہے کہ بچے کی تربیت صحیح طرح کرے۔ خاتون کہتی ہیں کہ:
''
ایک دن میری قریبی میرے بچے کو ہاتھ سے چھین کر لے گئیں کہ میں اس کو فیڈر کا دودھ آسانی سے پلا دوں گی، لیکن جب میرا بچہ فیڈر کو منہ لگاتا ہی نہیں تو وہ کیسے پی سکتا تھا، بچے نے کسی طور دودھ نہ پیا۔ اس پر بھی میں نے بہت باتیں سنی ہیں۔
''
صبا نامی خاتون کہتی ہیں کہ:
''
میں اپنے بچے کو کھانے کے وقت آئی پیڈ دکھاتی ہوں تاکہ میں اپنے سامنے دیکھ سکوں کہ بچہ کیا کیا دیکھ رہا ہے، اس کے علاوہ اس کو آئی پیڈ یا موبائل نہیں دیتی کیونکہ میں جانتی ہوں کہ جو کچھ میں نے اپنے بچے کی تربیت کے لئے سوچا ہے وہ اس کے لئے بہتر ہے، لیکن میرے گرھ والے مجھے ہر وقت کہتے رہتے ہیں کہ کیوں تم بچے کو یہ سب دکھاتی ہو، تم اچھی پرورش نہیں کر رہی ہو، مگر مجھے معلوم ہے کہ بچے کے لئے کیا صحیح ہے، بولنے والوں کو صرف باتیں کرنی آتی ہیں، سچائی نہیں معلوم ہوتی ۔
''
طاہرہ نامی ماں کہتی ہیں کہ:
''
میری بچی نے شروع سے فیڈر میں ہی دودھ پیا، جس پر مجھے لوگوں نے بہر باتیں سنائی کہ بچی کی عادت بگاڑ دی، اس کو مضبوط نہیں بنایا، بچے کے لئے صرف ماں کا دودھ ضروری ہوتا ہے، مگر تم نے اپنی بیٹی کو خود سے دور کردیا ۔ ہم نے خآندان والوں سے اتنے طعنے سنے ہیں کہ اب ابرارالحق کی بات بھی ایک طعنہ لگتی ہے، وہ بھی ماؤں کی ذمہ داریوں کو گنوا رہے ہیں یہ نہیں دیکھ رہے کہ بچوں کے باپ یا گھر والے اور ماحول ان کو کیا سکھا رہے ہیں۔
''