مجاہدین کو بنانے والوں کو سر جوڑنے پر مجبور کر دیا۔۔ افغان طالبان کے نرم رویے نے انہیں کس طرح مدد فراہم کی؟ جانیے

image

طالبان ایک ایسی سوچ کا نام ہے جو کہ افغانستانی ثقافت اور اسلامی اقدار کا مکسچر ہے۔ اگرچہ طالبان امریکی امداد اور امریکی پلان کے تحت بنائے گئے لیکن ان کی سوچ نے انہیں دوسروں کو حدوں سے پار نہیں ہونے دیا ہے۔ چاہے سوویت یونین ہو، یا پھر برطانیہ اور پھر امریکہ بھی، اپنے وقت کے سپر پاورز کو ڈھیر کرنے والے ان طالبان نے مقامی سوچ اور نظریہ پر سمجھوتہ نہیں کیا ہے۔

افغانستان کی تاریخ ایسے تلخ واقعات سے بھری پڑی ہے، جہاں اپنے وقت کی سپر پاورز نے اپنے فائدے کے عوض افغانستان کے معاشرے کو تباہ کیا، لیکن اپنے مقاصد میں آج تک ناکام ہوئے ہیں۔ چاہے برطانیہ ہو یا پھر سوویت یونین، سوویت یونین کو تو اس وقت امریکی ایماں پر بنائی گئی مجاہدین کی فورس نے شکست دی تھی، جسے امریکی مدد سے پاکستان نے ٹرین کیا تھا، یہاں یہ بات بھی بطور شواہد موجود ہے کہ سابق امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے میڈیا کے سامنے مجاہدین کو امریکی سپورٹ کا اعتراف کیا تھا۔

پھر جب امریکہ سوویت یونین کو افغانستان میں شکست دے چکا، اور یہاں یہ بات بھی جاننا ضروری ہے کہ امریکہ نے سوویت یونین کے خلاف افغانستان اور پاکستان میں ایک بیانیہ قائم کیا تھا اور بیانیہ یہی تھا کہ سوویت یونین ایک کمیونٹس معاشرہ ہے، جو کہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہے۔ سوویت یونین افغانستان پر قبضہ کرنا چاہتا ہے، اور پھر یہ پاکستان کی طرف بھی بڑھ سکتا ہے۔

اس سب میں افغانستان جو کہ اس وقت عالمی سیاست، میڈیا، ٹیکنالوجی سمیت کئی چیزوں سے انجان تھا، تو یہی وجہ تھی کہ امریکہ افغانستان کو برین واش کرنے میں کامیاب ہو گیا اور اپنی اس جنگ میں سوویت یونین کے خلاف ایشیاء کو بھی لے گیا۔ اگرچہ امریکہ نے سوویت یونین کو شکست دے دی تھی، مگر جیسا کہ امریکہ خود کو امن اور جمہوریت کا علمبردار سمجھتا ہے، اسی وجہ سے ان مجاہدین کو جنہیں سوویت یونین کے خلاف ٹرین کیا گیا تھا، اب انہیں دہشت گرد تصور کر رہا تھا۔ کیونکہ مجاہدین اسی بیانیے کو قائم کرنے کی بات کر رہے تھے جو بیانیہ امریکہ نے سوویت یونین کے خلاف مجاہدین کو دیا تھا۔

اور پھر امریکی صدر نے سوویت یونین کے خلاف بنائے گئے مجاہدین کے خلاف ہی جنگ شروع کر دی، جب 911 کا وقعہ ہوا تو وہ وقت تھا امریکہ نے پاکستان کو بھی دھمکی دی تھی یا تو آپ امن کے ساتھ ہو جائیں یا پھر دہشت گردوں کے ساتھ۔ خیر یہ پاکستان کی بحث ہے لیکن پاکستان کے بدلتے رخ نے افغان طالبان کو افسردہ اور جذباتی کیا تھا۔ کیونکہ وہ تمام لوگ جو کہ انہیں سپورٹ کر رہے تھے، اب انہی کے خلاف ہو گئے تھے۔

اس سب میں سعودی عرب بھی خاموش تھا، جو کہ طالبان کا حامی رہ چکا ہے، جبکہ پاکستان کے اس بیانیے نے افغان طالبان کو اس حد تک منفی کر دیا تھا کہ وہ کچھ سمجھ ہی نہیں پا رہے تھے، اور خود اپنی جنگ لڑنا شروع کر دی۔ اس ضمن میں وہ کچھ چیزوں کو نہیں سمجھ پا رہے تھے، جو کہ انہیں مثبت طور پر، شناخت کے طور پر دنیا میں دکھاتی۔ وہ کچھ چیزوں پر ہم نے نظر ڈالی ہے

قبائلی نظام اور افغان معاشرہ:

افغانستان کا جغرافیہ کچھ اس طرح ہے کہ یہاں کا معاشرہ، ثقافت، قبائلی نظام پر زیادہ منحصر کرتا ہے۔ چونکہ افغانستان میں سوویت یونین کے زمانے میں تعلیمی اہمیت کم تھی، زیادہ تر دھیان دینی تعلیم کی طرف لگایا جاتا تھا، یہی وجہ تھی کہ ثقافت اور اسلامی تعلیمات نے ایک نئی شکل بنائی جو کہ افغان طالبان کی صورت میں سامنے آئی۔

افغان طالبان پہلے اس سب صورتحال میں مقامی سپورٹ کا سوچ کر چل رہے تھے، یہی وجہ تھی کہ افغان طالبان ایک جارحانہ انداز کے طور پر سامنے آرہے تھے۔ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ طالبان نے کسی بھی قسم کے بین الااقوامی میڈیا یا ادارے سے بات چیت سے صاف انکار کر دیا تھا۔ حالانکہ برطانوی خاتون صحافی ریڈ لی کے ساتھ طالبان نے کچھ ایسا سلوک کیا تھا کہ انہوں نے اسلام ہی قبول کر لیا، طالبان کا برتاؤ، اور حتٰی کہ خاتون صحافی کی تلاشی کے وقت بھی صرف خاتون طالبان موجود تھیں، جبکہ مرد طالبان باہر چلے گئے۔

لیکن اب چونکہ طالبان نے عالمی شناخت کو سمجھ لیا ہے، اس کی اہمیت کو تسلیم کر لیا ہے، وہ جان چکے ہیں کہ اگر دنیا کے سامنے آنا ہے تو ایک مثبت چہرا لے کر آنا ہوگا۔ یہی وجہ تھی کہ جہاں پہلے خواتین کو گھر میں رہنے، نامحرم کے بغیر گھر سے باہر نکلنے، کام کرنے، پڑھائی سے روکا جاتا تھا۔ اب طالبان نے کافی حد تک اپنی پالیسی یں تبدیلی کی ہے، یہی وجہ ہے کہ جس خبر آئی تھی کہ افغان طالبان نے کابل پر حکومت قائم کر دی ہے، اس دن بھی طالبات اسکول جا رہی تھیں۔

صرف یہی نہیں خاتون نیوز اینکر کو بھی کام کی اجازت دی، خواتین کو بھی کام جاری رکھنے کی اجازت دی، جبکہ یہ بھی کہا کہ اسکارف ضروری ہے اگر برقع نہیں پہن سکتیں تو۔ خواتین سے متعلق بدلتے رویے، عام معافی کا اعلان، جو پیسہ لوٹا ہے اس واپس کرنے کے بعد بھی معافی کا اعلان سمیت کئی ایسے اعلانات وہ مثبت تبدیلی ہے جسے عالمی خبروں میں اہمیت دی گئی ہے۔ یہ طالبان کا ایسا رخ تھا جو کہ اصل میں تھا لیکن خود طالبان اس رخ کو سمجھ نہیں پا رہے تھے۔

اگرچہ اب بھی افغان عوام میں تشویش کی لہر ہے کیونکہ افغانستان میں موسیقی پر پابندی ہے، اور وہ طبقہ جو کہ آزاد خیال ہے اسے افغانستان میں افغان طالبان کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا ہے اور آگے بھی ہوگا۔ افغان معاشرہ میں قبائلی نظام کا عمل دخل ہے، اور ایک ایسی سوچ بھی موجود ہے جو کہ دینی لحاز سے غلبہ رکھتی ہے، ایسے میں ایک مختلف سوچ والوں جن میں سول سوسائٹی، آرٹسٹس، اقلیتوں سمیت کئی حلقوں میں طالبان سے متعلق شدید تشویش موجود ہے، اب دیکھنا یہ ہوگا کہ کیا واقعی افغان طالبان جس طرح خواتین، اور دیگر معاملات میں نرمی دکھا رہے ہیں، اسی طرح ان حلقوں کی تشویش کو بھی کم کر سکیں گے؟

عالمی سیاست اور عالمی شناخت:

عالمی سیاست ایک ایسا رخ ہے جو کسی بھی ملک کے بننے یا ٹوٹنے پر اثر انداز ہو سکتا ہے، یا پھر حکومت بنانے اور گرانے میں۔ عالمی حمایت سے کسی کو بھی تنہا کیا جا سکتا ہے۔ یہ بات طالبان بخوبی جانتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دوحا مذاکرات، امریکہ طالبان مذاکرات اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ طالبان اب عالمی طورپر ایک منفرد اور یکساں مختلف سوچ رکھتے ہیں۔ لیکن اس سوچ میں بھی وہ اپنے طور طریقے تبدیل نہیں کر رہے ہیں۔ اس بات کا بھی منہ بولتا ثبوت یہی ہے کہ مذاکرات کے دوران اگر نماز کا وقت ہوتا ہے، تو پہلے نماز کو اہمیت دیتے ہیں۔

جبکہ چینی وزیر خارجہ سے ہونے والی ملاقات جس میں پاکستانی وزیر خارجہ بھی موجود تھے، اس ملاقات کو دیکھ کر بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ طالبان اب عالمی اثر و سوخ رکھ رہے ہیں۔ طالبان عالمی سیاست کو سمجھ رہے ہیں۔ بی بی سی کو دیے افغان طالبان کے ثقافتی ترجمان نے جس لب و لہجہ میں گفتگو کی، وہ ایک مہذب اور تعلیم یافتہ طالبان ہیں۔ جبکہ اس کے برعکس ماضی میں بہ مشکل ہی کوئی طالبان کا انٹرویو کر پاتے تھے۔

اگرچہ روس اب بھی طالبان کو باقاعدہ تسلیم نہیں کر رہا ہے مگر روس نے طالبان کو تسلیم نہ کرتے ہوئے بھی تسلیم کر لیا ہے۔ جبکہ ترکی کی جانب سے اس پوری صورتحال میں افغان امن عمل میں حصہ لینا بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ افغان طالبان عالمی اثر و رسوخ کو نہ صرف سمجھ رہے ہیں، بلکہ وہ ان ممالک کو بھی دیکھ رہے ہیں جو انہیں سپورٹ کر رہے ہیں اور جو ان کے خلاف ہیں۔

طالبان کی نئی حکمت عملی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ محرم الحرام کے ایام میں طالبان مجلس میں بھی شریک ہوئے تھے، یہ بھی ایک اہم تبدیلی ہے کیونکہ عالمی سطح پر طالبان کو اس منفی دیکھا گیا ہے۔

میڈیا میں طالبان:

اب آتے ہیں میڈیا اور افغان طالبان پر۔ افغان طالبان کو میڈیا پر ہمیشہ ہی سے منفی دکھایا گیا ہے۔ چاہے بی بی سی ہو یا پھر سی این این۔ مغربی میڈیا نے ہمیشہ ہی سے طالبان کو منفی دکھایا ہے۔ مگر اب صورتحال تبدیل ہو رہی ہے۔ لیکن اس صورتحال پر بات کرنے سے پہلے ایک اہم بات یہ بھی جاننا ضروری ہے کہ جو عالمی میڈیا خاص طور پر امریکی میڈیا جس طالبان کو عسکری گروہ یا ملیٹنٹ کہہ رہا ہے، یا دہشتگرد کہہ رہا ہے، یہ وہی میڈیا تھا جو کہ سوویت یونین کے خلاف ان مجاہدین کو اینٹی سوویت سولجرز یعنی سوویت مخالف فوجی کہہ کر نام لیا کرتا تھا۔

لیکن اب مغربی میڈیا انہیں ملیٹنٹ گروپ کے نام سے پکارتا ہے۔ جبکہ ایک اہم صورتحال یہ بھی ہے کہ ترکش میڈیا، روسی میڈیا اور چینی میڈیا اب ایک نئی ٹرمنالوجی استعمال کر رہا ہے، ان کے مطابق اسلامک امارات آف افغانستان کا نام طالبان کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ یہ نام اس حد تک استعمال نہیں کیا جا رہا ہے مگر کئی جگہوں پر یہ نام دیکھا گیا ہے۔

عین ممکن ہے یہ نام معمولی نام لگے لیکن اس نام سے ایک بات جو واضح ہو رہی ہے وہ ہے دہشتگرد اور وہ طالبان جسے مغربی میڈیا نے بدنام کر دیا تھا۔ اب ایک نئے نام کے ساتھ ایک نئی شناخت کے ساتھ سامنے آرہے ہیں۔

اب دیکھنا یہ بھی ہے کہ آنے والے دنوں میں طالبان کس طرح عالمی سطح پر اپنا لوہا منوا سکتے ہیں، اور امریکہ سمیت کئی ممالک کس طرح طالبان کو تسلیم کرتے ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US