والدین اپنے بچوں سے حد سے زیادہ محبت کرتے ہیں، جب بچے کو تھوڑی سی بھی تکلیف ہوتی تو والدین کی روح تڑپ جاتی ہے۔ لیکن آج جو سوشل میڈیا پر ننھی 5 سالہ بچی مرحا عمیر کی کہانی وائرل ہو رہی ہے اس کو دیکھ کر تو شاید ہر کسی کو تکلیف پہنچی ہے۔
مرحا کی قریبی رشتے دار نے ہماری ویب سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ:
''
ہماری بچی 5 سال کی تھی، اکلوتی تھی اور بالکل ٹھیک تھی چلتی پھرتی بچی تھی، کھیل کود کرنے والی، اس کو ہلکا سا بخار ہوا تو، بچی کو لاہور کے شیخ زید ہسپتال میں لے کر گئے، جہاں ڈاکٹر نے کہا کہ بچی تو پیدائشی طور پر معذور ہے، یہ نارمل نہیں ہے ، اس کا ایم ار ائی ہوگا اور گھر والوں کی کوئی بات نہ سنی، بچی کا علاج بالکل غلط طریقے سے کیا گیا، مرحا کو اس قدر anesthesia یعنی بیہوش کیا گیا کہ بچی دم توڑ گئی۔
''
دُکھی دل کے ساتھ پھپھو مذید بتاتی ہیں کہ:
''
ہم نے جو کچھ بھی کہا ہے اور مختلف فیس بُک پیجز پر اپنے ساتھ ہونے والے ایک ایسے ناقابلِ یقین واقعے کو پوسٹ کیا ہے، جس کا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ جو کچھ ہماری ننھی مرحا کے ساتھ ہوا وہ کسی بھی بچی کے ساتھ نہ ہو، ہماری بچی تو چلی گئی، کسی اور کی بچی یوں ڈاکٹروں کی غفلت کی وجہ سے کسی سے جُدا نہ ہو۔
''
مذید بتایا جاتا ہے اس دوران ہسپتال میں کنسلٹنٹ اسفند، ڈاکٹر ماہم، ڈاکٹر مریم اور ڈاکٹر افراء موجود تھے جنہوں نے مرحا کا انتہائی غلط طریقے سے ٹریٹمنٹ کیا۔