مینار پاکستان واقعے میں دست درازی کی زد میں آنے والی ٹک ٹاکر عائشہ اکرم کے خلاف کارروائی کی سماعت پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے مینار پاکستان کے گریٹر اقبال پارک والے شرمناک واقعےکے بعد ٹک ٹاکر عائشہ کے خلاف کارروائی کے لیے درخواست پر سماعت ہوئی، دوران سماعت عدالت کا کہنا تھا کہ کسی شہری کیخلاف براہ راست درخواست کس طرح قابل سماعت ہے، کس قانون کے تحت عام شہری کے خلاف مقدمہ کرنے کا حکم دے سکتی ہے، مقدمہ درج کرنے یا نہ کرنے کا حکم جاری کرنا سیشن کورٹ کا کام ہوتا ہے۔
درخواست گزار کا ٹک ٹاکر عائشہ اکرم سے متعلق کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے فالورز کو مینار پاکستان کے پارک آنے خود دعوت دی تھی، گارڈزکے مطابق 2 بار نکلنے کا موقع تھا مگر وہ وہاں سے پھر بھی نہیں نکلیں۔
جس پر عدالت نے مینار پاکستان واقعے کے بعد ٹک ٹاکرعائشہ کے خلاف کارروائی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
یاد رہے کہ 14 اگست کے دن مینار پاکستان پر موجود خاتون ٹک ٹاکر عائشہ اکرم کو وہاں موجود 400 افراد نے تشدد اور لوٹ مار کا نشانہ بنایا تھا۔ جبکہ واقعے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر آنے پر پولیس نے 3 روز بعد مقدمہ درج کیا تھا