کشمیریوں کی آواز بننے اور ان کے حق میں آزادی کے نعرے بلند کرنے والے سینئر کشمیری حریت رہنما سید علی گیلانی آج کشمیر کی مٹی میں سپرد خاک کر دیے گئے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سید علی گیلانی 92 برس کی عمر میں جہاں فانی سے رخصت ہوئے۔ وہ ایک طویل عرصے سے علیل تھے اور ایک ویب سائٹ کے مطابق علی گیلانی رات 10 بجے کے قریب اپنے گھر میں انتقال کرگئے تھے۔
سید علی گیلای کون تھے؟
حریت رہنما سید علی گیلانی کے اجداد مشرق وسطیٰ سے ہجرت کرنے کے بعد کشمیر میں آباد ہوئے۔ وہ شمالی کشمیر کے سوپور قصبے میں ڈُورو گاوں کے ایک آسودہ حال گھرانے میں 29 ستمبر 1929 کو پیدا ہوئے۔
انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم سوپور میں حاصل کی اور پھروہ اعلیٰ تعلیم کے لیے اورینٹل کالج لاہور روانہ ہوگئے، جہاں وہ جماعت اسلامی کے بانی مولانا مودودی کے خوبصورت خیالات اور علامہ اقبال کی شاعری کو اپنے اندر سما کر جذبے کے ساتھ لوٹے۔
سید علی گیلانی نے علامہ اقبال کی فارسی شاعری کے ترجمے پر مشتمل تقریباً ایک درجن کتابیں بھی لکھیں۔
بعد ازاں کشمیر واپس آنے پر انہوں نے جماعت اسلامی میں شمولیت اختیار کی۔ شعر و سخن اور حُسنِ خطابت کے باعث بہت جلد جماعت کے اہم رہنما کے طور مشہور ہوگئے۔ انھوں نے 1977،1972اور1987 میں جماعت کے ٹکٹ پر الیکشن جیتا۔ مقامی اسمبلی میں وہ مسئلہ کشمیر کے حل کی وکالت کرتے رہے، تاہم 87 رُکنی ایوان میں جماعت کو چند سیٹیں ہی ملتی تھیں لہذا اُن کی سیاست اسمبلی کے اندر حاشیے پر ہی رہی۔
علی گیلانی کو بھارتی فوج نے تقریبا 11 سال سے گھر کے نظر بند کر دکھا تھا کیونکہ وہ کشمیریوں کی آزادی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے تھے۔
علی گیلانی اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ مل کر بھارتی فوج اور حکومت کی بربریت اور قبضے کے خلاف احتجاج کرتے دکھائی دیتے تھے۔ اپنی زندگی میں انہوں نے کشمیریوں کی آزادی کا خواب دیکھا تھا اور انہیں آزادی دلوانے کی کوشش میں اپنا اہم کردار ادا کیا۔
وزیر اعظم پاکستان اور صدر مملکت عارف علوی سمیت دیگر سیاستدانوں کی جانب سے بھی سید علی گیلانی کی وفات پر اظہارِ تعزیت کیا گیا ہے۔