ڈیجیٹل دہشتگردی کیس کے فیصلے پر قانونی ماہرین نے اہم سوالات اٹھا دیے

image

اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت نے 9 مئی کو ریاستی اداروں کے خلاف ڈیجیٹل دہشتگردی کے مقدمے میں سنائے گئے فیصلے پر قانونی ماہرین نے اہم سوالات اٹھا دیے۔

انسداد دہشتگردی عدالت کے جج طاہر سپرا نے عادل راجہ، حیدر مہدی، وجاہت سعید، صابر شاکر اور معید پیرزادہ کو دو، دو مرتبہ عمر قید کی سزا سناتے ہوئے پندرہ، پندرہ لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔

عدالتی فیصلے کے مطابق مجموعی طور پر مجرموں کو تقریباً 25 سال قید کا سامنا ہوگا، جبکہ جرمانے کی عدم ادائیگی پر مزید سزا بھی دی جاسکے گی۔

تاہم قانونی ماہرین کے مطابق سزا پانے والے تمام افراد اس وقت پاکستان میں موجود نہیں ہیں بلکہ بیرونِ ملک مقیم ہیں اور کئی افراد وہاں سیاسی پناہ (اسائلم) کی درخواستیں بھی دائر کرچکے ہیں۔

معید پیرزادہ اس وقت امریکا میں موجود ہیں، صابر شاکر اور عادل راجہ برطانیہ میں مقیم ہیں، جبکہ حیدر مہدی اور وجاہت سعید بھی بیرونِ ملک جا چکے ہیں۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان افراد کی پاکستان حوالگی ایک پیچیدہ قانونی معاملہ ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ افراد جن ممالک میں مقیم ہیں وہاں سیاسی پناہ یا شہریت حاصل کر لیتے ہیں تو پھر ان کی پاکستان منتقلی تقریباً ناممکن ہو جائے گی۔

مزید یہ کہ اگر عدالتی فیصلے کی دستاویزات متعلقہ ممالک کے ہوم آفس یا ہوم لینڈ سیکیورٹی کو فراہم کی جاتی ہیں تو اس سے ان کے سیاسی پناہ کے کیسز کے منظور ہونے کا امکان مزید بڑھ سکتا ہے۔

راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کی صدر نائلہ ملک کا کہنا ہے کہ بیرونِ ملک موجود سزا یافتہ افراد کو پاکستان لانے کے لیے قیدیوں کے تبادلے کے معاہدات (MOUs) کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ جن ممالک کے ساتھ پاکستان کے قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے موجود ہیں، وہاں سے حوالگی ممکن ہوسکتی ہے، تاہم جن ممالک کے ساتھ ایسے معاہدے موجود نہیں، وہاں سے ملزمان کی واپسی انتہائی مشکل ہوگی۔

نائلہ ملک کے مطابق جن افراد نے سیاسی پناہ کے کیسز دائر کر رکھے ہیں، ان کے منظور ہونے کا امکان سو فیصد تک موجود ہے، اور اگر وہ ان ممالک کے شہری بن جاتے ہیں تو انہیں پاکستان لا کر سزا پر عملدرآمد ممکن نہیں رہے گا۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال میں وزارتِ داخلہ اور وزارتِ قانون کو واضح لائحہ عمل مرتب کرنا ہوگا تاکہ عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد سے متعلق قانونی اور سفارتی پہلوؤں کو حل کیا جا سکے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US