کابل ائیر پورٹ پر ہونے والے دھماکے میں جہاں شہری جاں بحق ہوئے، وہیں امریکی فوجی بھی ہلاک ہوئے تھے۔ افغان طالبان کے کابل میں آنے کے بعد سے امریکی فوج کا انخلاء شروع ہو گیا تھا۔
لیکن کابل ائیر پورٹ پر ہونے والے حملے سے امریکی فوجیوں کے گھر والے امریکی صدر جوبائڈن پر برس پڑے ہیں۔
امریکی ریڈیو سے بات کرتے ہوئے ہلاک ہونے والے امریکی فوجی کی ماں کا کہنا تھا کہ میرا بیٹا کابل ائیر پورٹ پر مرنے والے فوجیوں میں سے ایک تھا۔ جبکہ ماں کا کہنا تھا کہ بیٹا 20 سال اور 6 ماہ کا تھا۔ وہ گھر واپس آرہا تھا۔
والدہ کا امریکی صدر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہنا تھا کہ بیٹا اردن سے واپس گھر آرہا تھا تاکہ وہ اپنے بیٹے کی سالگرہ منا سکے، مگر ان بے حس حکمرانوں نے اسے افغانستان بھیج دیا، مجھے 4 بجے کال آئی، اور اطلاع دی گئی کہ آپ کا بیٹا کابل حملے میں ہلاک ہو گیا ہے۔
والدہ نے صدر جوبائڈن اور امریکی ڈیموکریٹک پر الزام عائد کرتے ہوئے کہنا تھا کہ تم لوگوں نے الیکشن میں دھاندلی کی اور تم ہی لوگ میرے بیٹے کی موت کے ذمہ دار ہو۔
جبکہ ایک فوجی کے والد نے بیٹے کی موت پر افسردگی کا اظہار کیا اور اپنی یادیں شئیر کیں۔