معذوری کوئی جُرم کوئی گناہ نہیں ہے اور نہ انسان کو اپنی کسی بھی کمزوری یا معذوری کو مجبوری بنانا چاہیئے کیونکہ جو لوگ اپنی ذات اور ہمت ہر بھروسہ کرتے ہیں وہ ہر موڑ کر کامیابی حاصل کرتے ہیں۔ ایسی ہی کچھ پاکستانی معذور خواتین ہیں جو اس وقت مصر کے دورے پر نکلی ہوئی ہیں اور مزے سے دُنیا گھوم رہی ہیں وہ بھی وہیل چیئر پر بیٹھ کر، جان کر حیرت ہو رہی ہے کہ کیسے یہ خواتین گھوم رہی ہیں، آئیے جانتے ہیں یہ کون ہیں اور اپنے بارے میں کیا بتاتی ہیں:
تنزیلہ، افشاں اور زرغونہ تینوں الگ الگ شہروں کی رہائشی ہیں۔ تنزیلہ کا تعلق لاہور سے ہے، افشاں پشاور کی ہیں جبکہ زرغونہ کوئٹہ میں رہتی ہیں۔ معذوری نے ان تینوں کو آپس میں بہترین دوست بنا دیا۔
تیزیلہ کہتی ہیں کہ:
''
دماغی طور پر اگر انسان معذور نہیں ہے تو وہ کچھ بھی کرسکتا ہے، جس چیز کی چاہ کرے اس کو حاصل کرنا اس کے لئے آسان ہے چاہے اس کے پاس ہاتھ ہوں یا نہ ہوں۔ میری گھٹنوں سے نیچے ٹانگیں نہیں ، پوری زندگی وہیل چیئر ہر گزاری اور اسی ویل چیئیر پر دنیا کے 20 ممالک گھوم چکی ہوں۔ میں اپنی دو کمپنیاں چلا رہی ہوں، یونیورسٹی آف لندن سے انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ میں بیچلرز کیا ہوا ہے اور ایک پبلک سپیکر اور معذور افراد پر بننے والی فلم جیسے کئی منصوبوں کا حصہ بھی ہوں۔
مجھے میرے اہلِ خانہ بھی بہت سپورٹ کرتے ہیں۔
''
افشاں کہتی ہیں کہ:
''
کیوں نہ ہم دنیا کو دکھائیں کہ معذور صرف معذور نہیں بلکہ وہ بھی زندہ دل ہوتا ہے، اس کے بھی جذبات ہوتے ہیں۔ بچپن میں پولیو ویکسین نہ کروائے جانےکی وجہ 22 سال کی عمر میں میرے جسم کا 75 فیصد حصہ اپاہج ہو گیا تھا اور اب فزیو تھراپی سے ا ویل چئیر پر بیٹھ سکتی ہیں اس قابل ہوئی ہوں کہ وہیل چیئر پر بیٹھ سکوں۔
گھومنے، پھرنے اور دنیا دیکھنے کے شوق میں آج وہیل چیئر پر بیٹھ کر سفر کر رہی ہوں۔ میں نے مائیکروبیالوجی میں بی ایس آنزر کر رکھا ہے۔
''
زرغونہ کہتی ہیں کہ:
'' میں
سات مہینے کی تھی جب نھیں پولیو کا اٹیک ہوا اور معذور ہو گئی ’
36 سال سے اب تک کبھی یہ محسوس نہیں کر سکی کہ میں کس طرح چلوں گی،
میں نے انگلش لٹریچر میں ماسٹرز اور ایل ایل بی کر رکھا ہے اور معذوروں کے لیے سوشل ایکٹویسٹ ہوں اور اپنی آرگنائزیشن بھی چلاتی ہوں تاکہ جو کچھ میں نے بھگتا وہ کسی اور نہ بھگتنا پڑے۔ اب مزے سے اپنی سہیلیوں کے ساتھ دنیا گھوم رہی ہوں۔
''