“ہم لڑکیاں بڑی بیوقوف ہوتی ہیں۔ ساری عمر شہزادے کا انتظار کرتی ہیں لیکن خود پڑھ لکھ کر شہزادی نہیں بنتیں“
باجی پڑھ لکھ کر کوئی شہزادی بن سکتا ہے کیا؟ ایک نوکرانی نے حیرت سے پوچھا تو ہیروئین نے کہا
جس لڑکی کی سب عزت کرتے ہیں آج وہی شہزادی ہے
“ہاں بن سکتی ہے۔۔۔ آج جب میں اپنی کرسی پر بیٹھی تو مجھے لگا کہ وہ کرسی نہیں میرا تخت ہے اور میں اس تخت کی مالکن ہوں۔ آج کے دور میں سجے دھجے تخت نہیں ہوتے نہ تاج پہنے ملکہ ہوتی ہے بلکہ جو لڑکی پڑھی لکھی ہوتی ہے اور لوگ اس کی عزت کرتے ہیں وہی آج شہزادی بھی ہے اور وہی ملکہ“ ہیروئین نے تفصیل سے جواب دیتے ہوئے کہا
ایسی حقیقت جس پر یقین کرنا مشکل ہے
یہ جملے جیو کے ڈرامہ سیریل رنگ محل کے ہیں۔ دیکھا جائے تو لکھنے والے نے کیا خوب لکھا ہے۔ واقعی لڑکیوں کو بچپن سے صرف دلہن بننے کی ترغیب دی جاتی ہے جس کے بعد وہ اپنی زندگی کے خواب صرف ایک ان دیکھے شہزادے سے منسوب کردیتی ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ زندگی میں وہ سب حاصل نہیں کرپاتیں جس کی صلاحیت اللہ تعالیٰ نے انھیں دے کر دنیا میں بھیجا ہوتا ہے یہ ایک ایسی حقیقت ہے جے آج کے معاشرے نے اتنا فراموش کردیا ہے کہ اب اس پر یقین کرنا مشکل ہے۔ لیکن دنیا میں ایسی لڑکیوں کی کمی نہیں جو اپنی قابلیت اور تعلیم کے بل بوتے پر اپنے خواب بھی پورے کررہی ہیں اور ماں باپ اور ملک و قوم کا نام بںی روشن کرتی ہیں۔
لڑکیوں کو چاہئیے کہ اپنی زندگی کو اوپر والے کا بہترین تحفہ سمجھتے ہوئے دل لگا کر علم حاصل کریں اور وہ سب خواہشات اور تمنائیں اپنے بل پر پوری کرنے کی کوشش کریں جن کے لئے وہ کسی شہزادے کا خواب دیکھتی ہی