عزت اور مشہوری دینا خدا کے ہاتھ میں ہے، وہ چاہے تو انسان کو دورانِ حیات شہرت دے دیتا ہے اور وہ چاہے تو موت کے بعد انسان کو امر کر دیتا ہے، زندگی کے اندر ملنے والی شہرت تو انسان کو خود بھی پُرکیف لگتی ہے، لیکن اس کے مرنے کے بعد ملنے والی شہرت گھر والوں کے زخم ہمیشہ بھرے رکھتی ہے۔ ایسے ہی کچھ لوگوں کی داستاں ہے جو اپنی موت کے بعد امر ہوئے۔
٭ منیب اور مغیث:
بھرے مجمے میں لوگوں کے سامنے، خود 9 پولیس اہلکاروں کی موجودگی میں لوگوں نے ڈاکو لٹیرے سمجھ کر 18 سالہ منیب اور 15 سالہ مغیث کو موت کے گھاٹ اتار دیا اور پولیس نے کچھ نہ کیا، چوک پر بے دردی سے ان بھائیوں کی لاشیں ٹنگا دی گئیں، جب تفتیش کی گئی تو معلوم ہوا کہ وہ بیچارے بے گناہ بھائی تھے جن کا سرِعام قتل کر دیا گیا۔ ان کی والدہ کے بیان کے مطابق:
''
میرے دونوں بیٹے حافظ تھے، ان کو بے دردی سے مارا گیا، وہ بے قصور تھے، کبھی محلے میں بھی کسی سے نہیں لڑے نہ کبھی چوری کی، کیسے ان کو مار دیا گیا، بے دردی سے ماں کے دو لختِ جگر مار دیئے گئے، ماں کس کو بوسہ دے گی؟ اب میں کس کا انتظار کروں گی؟
''
یہ دونوں بھائی تو خدا کو پیارے ہوگئے، لیکن آج بھی ان کی یادیں لوگوں کے دلوں میں تازہ ہیں۔
٭ نُور مقدم:
نُور مقدم کیس تو حالیہ واقعہ ہے، جس میں ایک بے قصور کو اس لئے مار دیا گیا کہ وہ اس سے شادی کرنا نہیں چاہتی تھی، نور مقدم کو موت سے قبل کوئی نہ جانتا تھا البتہ اب اس کے چاہنے اور اس کے سات ہونے والی زیادتی پر اکثریت ماتم کناں ہے۔
٭ معصوم زینب:
ننھی کلی معصوم زینب کو 4 جنوری 2018 کو اس کے محلے دار عمران علی نے زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کردیا اور لاش نالے کے پاس پھینک دی گئی، بعد ازاں عمران کو پھانسی دے دی گئی، مگر 8
سالہ زینب کی موت کا دردناک واقعہ ہمیشہ پاکستانیوں کو یاد رہے گا۔